الإثنين، 22 شعبان 1445| 2024/03/04
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

فتح تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب قابض یہودی وجود کو فنا کر کے ارضِ مقدس کو آزاد کرا لیا جائے

 

خبر :

 

دی گارڈین نے 24 دسمبر 2023 کو رپورٹ کیا، "ہفتہ کے دن سے لے کر اب تک کم از کم 166 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، حماس کے زیر انتظام علاقے میں وزارت صحت نے کہا، اس سے مرنے والوں کی کل تعداد 20,424 ہو گئی، حالانکہ قوی امکان ہے کہ مزید ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ حماسی وزارت شہری اور عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں تفریق نہیں کرتی، لیکن حتمی اندازے کے مطابق  ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں"۔

 

تبصرہ :

 

عالمی برادری ابھی تک غزہ میں عام عوام کے قتل عام کو بُت بنے تکے جا رہی ہے۔ عالمی برادری  ہزاروں کی تعداد میں شہید ہونے والوں کو ایسے شمار کئے جا رہی ہے، گویا کہ تعداد میں یہ اضافہ کوئی قابلِ فخر بات ہو۔ مسلمانوں کے حکمران اب بھی یہودی ریاست کے ساتھ نرمی برت رہے ہیں، جبکہ اس نے غزہ کو اپنے باشندوں سے خالی کر دیا ہے۔ افواج میں موجود مخلص جوان یہودیوں پر جھپٹ کر حملہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں لیکن ان کی قیادتیں ہیں کہ ہل کے دینے کو نہیں۔ میڈیا ابھی تک غزہ میں یہودیوں کے جرائم کی رپورٹنگ ایسے کر رہا ہے، جیسے کہ وہ کوئی دور دراز ملک میں یا پھر شاید کسی اور کہکشاں کے مسائل ہوں۔ میڈیا اس انداز میں رپورٹ کر رہا ہے جیسے یہ تنازعہ ایک تشدد اور ایکشن سے بھرپور فلم ہو، جس میں فلم کے اختتام پر ہدایت کار کے خاکہ کے مطابق حیران کن انداز میں اچانک اچھائی برائی پر غالب آ جائے گی!

 

لوگوں کو یہ حقیقت ہرگز نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ ہم انتہائی بھیانک حقائق سے نمٹ رہے ہیں، جن کا تصور کرنا بھی مشکل ہے مگر وہ واقعتاً ہمارے سامنے رونما ہو رہے ہیں۔ دونوں متحارب دھڑوں کے درمیان تعداد اور ساز و سامان کا تفاوت بہت ہی زیادہ ہے۔ اموات کی مذکورہ بالا تعداد دونوں فریقوں کے درمیان غیر متناسب نقصانات کی گواہ ہے۔ اگر امت مسلمہ اپنی تمام افواج کے ساتھ یا ان میں سے کچھ کے ساتھ بھی غزہ میں اپنے بھائیوں کی حمایت میں متحرک نہیں ہوتیں تو یہ تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی جبکہ جو کچھ آئندہ آنے والا ہے وہ اس سے بھی زیادہ بھیانک ہوگا۔

 

رسول اللہﷺ نے غزوہ خندق میں یہودیوں کو عہد کی خلاف ورزی کرنے پر سعد بن معاذؓ کی تجویز کردہ سزا کے مطابق سزا دی۔ آپ ﷺ نے سعدؓ سے فرمایا:

 

«إنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا علَى حُكْمِكَ»

یہ لوگ آپ کے فیصلے کے تابع کئے گئے ہیں‘‘۔

 

پس سعدؓ نے کہا:}فإني أحكم فيهم أن تُقتل مقاتلتهم، وتسبى ذراريهم، وتقسَّم أموالهم{ "میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان کے جنگجو قتل کر دیئے جائیں، ان کی اولاد کو قید کر لیا جائے، اور ان کا مال تقسیم کر دیا جائے" تو رسول ﷺ نے فرمایا:

 

«لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ»

’’تم نے ان کا فیصلہ سات آسمانوں کے اوپر سے اللہ ﷻ کے حکم کے مطابق کیا ہے‘‘۔

 

رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے مدینہ کے بازار میں گڑھے کھودنے کا حکم دیا۔ پھر آپﷺنے انہیں بلایا اور انہیں باہر لایا گیا۔ اُن کی گردنیں اُن گڑھوں میں مار دی گئیں اور اُن کو گڑھوں میں ڈال دیا گیا۔ غالباً چار سو آدمی مارے گئے تھے۔ سیرة ابن اسحاق کی روایت کے مطابق یہ چھ یا سات سو آدمی تھے۔

 

اللہ ﷻ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے:

 

﴿وَأَنْزَلَ الَّذِينَ ظَاهَرُوهُمْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ صَيَاصِيهِمْ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًا﴾

’’اور جن اہل کتاب نے ان سے سازباز کر لی تھی انہیں (بھی) اللہ ﷻ نے ان کے قلعوں سے نکال دیا اور ان کے دلوں میں (بھی) رعب بھر دیا کہ تم ان کے ایک گروه کو قتل کر رہے ہو اور ایک گروه کو قیدی بنا رہے ہو‘‘ (الاحزاب؛ 33:26)۔

 

یہودی اسی سزا کے مستحق تھے اگرچہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اس کے بجائے، انہوں نے اپنے حلیفوں کو مدینہ آنے کی اجازت دے دی تھی۔ یہی وہ کردار ہے جو آج فلسطین کے اردگرد موجود مصر، اردن، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں یہودیوں کی حمایت کر کے ادا کر رہی ہیں۔ تو پھر ان کی کیا سزا ہو گی جو مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں ؟ مسلمان کے خون کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ ہے۔ اگر ایک مسلمان کو قتل کرنا ہزار یہودی مجرموں کو مارنے سے بڑا ہے تو پھر جب ہم مسلمان ہزاروں کی تعداد میں مارے جا رہے ہیں تو اس کا بدلہ کیا ہوگا؟!

 

اس جنگ کا کوئی بھی ایسا نتیجہ جو وحی کے ذریعے منظور شدہ حکم کے نفاذ کا باعث نہ بن سکے، تو اسے فتح نہیں سمجھا جائے گا۔ اس سے اہل ایمان کے دلوں کو سکون نہیں ملے گا۔ غزہ میں مجاہدین کی بہادری اور جرات کے باوجود بھی ان گروہوں سے آزادی حاصل نہیں ہو پائے گی۔ ان کا کردار صرف دشمن کے خلاف مزاحمت کر لینے تک محدود ہے، جب کہ انہیں جس اشد حمایت کی ضرورت ہے وہ عالم اسلام کی افواج سے آنی چاہیے۔ یہ صرف افواج ہی ہیں جو یہودی وجود کے حاضر سروس اور ریزرو فوجیوں کو اور ان سب کو جو ان کی پشت پر ہیں، سب کو بے دخل کرتے ہوئے انہیں مکمل شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

 

جب تک یہ عسکری مدد نہیں کی جائے گی، تباہی دن بہ دن مزید پھیلتی جائے گی۔ اس پاکیزہ لہو کا گناہ نہ صرف اسلامی دنیا کی سیاسی اور عسکری قیادتوں کی گردنوں پر ہے بلکہ افواج میں موجود مخلص افسران کی گردنوں پر بھی ہے۔ کیونکہ سیاسی قیادتیں تو اپنا فیصلہ دے چکی ہیں اور ابو رغال کے نقش ِقدم پر،   اللہ ﷻ اسے تباہ و برباد کریں ، یہود کے حوالے سے اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہیں ۔

 

پس امید محض ان مخلص افسران سے ہی ہے، جو شیاطین کو اتحادی نہیں بناتےکہ وہ ان قیادتوں کا تختہ الٹتے ہوئے ان لوگوں کی مخلص قیادت لائیں جو نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت راشدہ کے قیام کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہ خلافت ہی ہوگی جو انہیں یہودیوں سے لڑنے اور قتل کرنے کے لئے ان کی قیادت کرے گی، جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺنے ہمیں آگاہ کر رکھا ہے۔

 

مخلص افسران کو اپنی صورتِ حال کو جلد از جلد سنوارنا چاہیے اس پہلے کہ موت ہمیں آلے، اور لوگ ان کی قبروں پر پتھر برسائیں، جس طرح ابو رغال کی قبر پر پتھر برسائے گئے تھے، اور جس طرح موجودہ لیڈروں کی قبروں پر پتھر برسائے جائیں گے۔ اللہ ﷻ کا فرمان ہے:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوا ثُبَاتٍ أَوِ انْفِرُوا جَمِيعًا ﴾

’’ اے اہل ایمان اپنے تحفظ کا سامان (اور اپنے ہتھیار) سنبھالو اور (جہاد کے لیے) نکلو خواہ ٹکڑیوں کی صورت میں خواہ فوج کی شکل میں‘‘ ۔ (سورةالنساٴ؛4:71)

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے تحریر کردہ

بلال مہاجرـــــ ولایہ پاکستان

Last modified onجمعرات, 11 جنوری 2024 04:32

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک