الأربعاء، 07 شوال 1445| 2024/04/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

پاکستان میں عام انتخابات کے بارے میں مشاہدات اور پاپولزم (عوامیت پسندی) سے آگے کا سفر 

 

مصعب عمیر، ولایہ پاکستان

 

ڈرامائی طور پر، پاکستان میں ہونے والے انتخابات ایک طویل تعطل کا باعث بن گئے ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں انتخابات 8 فروری 2023 کو منعقد ہوئے تھے لیکن نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان ہوئے بغیر کئی دن گزر گئے ہیں۔ ہر دن گزرنے کے ساتھ لوگوں کے غصے میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، جبکہ انٹیلی جنس اہلکار امیدواروں کو ڈرانے دھمکانے اور رشوت دینے میں مصروف ہو گئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر دھاندلی اور الیکشن فراڈ کے الزامات سامنے آئے، جس کی اضطراب کے شکارالیکشن کمیشن نے سختی سے تردید کی اور ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر اور فوجی قیادت کے اندر واضح گھبراہٹ عمران خان کی غیر متوقع کامیابی کی وجہ سے تھی۔ اس ڈیڈ لاک کی وجہ یہ ہے کہ ملک کے حقیقی حکمران، موجودہ آرمی چیف عاصم منیر، ذاتی اور ادارہ جاتی وجوہات کی بنا پر عمران خان کو وزیر اعظم کے طور پر قبول نہیں کر سکتے۔

 

جہاں تک عمران خان اور عاصم منیر کے درمیان چپقلش کی ذاتی وجوہات کی بات ہے۔ تو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد عاصم کو 2018 سے 2019 تک آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا تھا۔ عاصم منیر نے عمران خان کے شدید سیاسی حریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مابین سمجھوتا کرانے میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی نہایت موزوں انداز میں مدد کی۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے فیصلے کے بعد 2019 میں عاصم کو اچانک انٹیلی جنس عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کی جگہ فیض حمید کو تعینات کیا گیا جو عمران خان کے خاصے قریب سمجھے جاتے تھے۔

 

جہاں تک عمران خان اور فوجی قیادت کے مابین تنازعے کی ادارہ جاتی وجوہات کا تعلق ہے تو فوجی قیادت خود پر سویلین بالادستی کو برداشت نہیں کر سکتی۔ فوجی قیادت ہی ملک کے تمام اہم امور کو کنٹرول کرتی ہے۔ سویلین قیادت ان امور کے لئے محض ایک برائے نام منتخب چہرہ ہوتا ہے۔ فوجی قیادت کی حمایت سے ہی اقتدار میں لائے جانے کے بعد، عمران خان کو اقتدار سے اس لیے ہٹا دیا گیا کیونکہ انہوں نے کمانڈ (اتھارٹی) منتقل ہونے کے معاملے میں مداخلت کر دی تھی، جو کہ ایک ناقابلِ معافی جرم تھا۔ عاصم منیر کو ہٹا کر اور فیض حمید کو ہٹانے کی مخالفت کر کے عمران خان بطور وزیر اعظم فوج پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم، فوج حکومت کے سرپرست کے طور پر کام کرتی ہے اور اس پر پالیسیاں مسلط کرتی ہے۔ یوں اس چپقلش کے باعث عمران خان کو اپریل 2022ء میں اقتدار سے برطرف کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے خلاف کرپشن اور ریاستی راز افشا کرنے کے الزامات کے تحت مقدمات دائر کر دئیے گئے۔

 

جہاں تک انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کا تعلق ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ وہ ایک عوامیت پسند مقبول (پاپولسٹ) سیاست دان ہیں۔ پاپولزم ایک ایسا نکتۂ نظر ہے جو یوں عوام کو اپنی جانب مائل کرتا ہے کیونکہ حکمران اشرافیہ ان کے مسائل کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ ایک ایسے مسلم ملک کے تناظر میں جسے امریکہ نے کئی دہائیوں سے نقصان پہنچایا ہے، اگر کوئی بھی قیادت جو امریکہ مخالف اور اسلامی احیاء پسندی کا بیانیہ اپنائے گی تو وہ بالآخر کامیاب ہی ہو جائے گی۔ اگر کوئی بھی لیڈر جو دعوے تو اس بیانیے پر کرتا ہو اور پھر اس کے برعکس کام کرے، تو وہ پھر انتہائی غیر مقبول ہو جاتا ہے، اور اس طرح کہ اس کے اقتدارسے برطرف ہو جانے کو کسی نقصان کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ اس بات کا عمران خان نے خود اس وقت مشاہدہ کیا جب انہوں نے اہم استعماری احکامات پر عمل درآمد کرنا شروع کر دیا جن میں روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافہ، قرضوں پر سود کی ادائیگی، مسئلہ کشمیر سے علیحدگی اور رسول اللہ ﷺ کی ناموس پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے نہایت کمزور مؤقف اختیار کرنا شامل ہیں۔

 

جہاں تک عسکری قیادت کے آقا، یعنی امریکہ کا تعلق ہے، تو جب تک اہم امور کے حوالے سے پالیسیوں پر اس کے احکامات پر عملدرآمد ہوتا رہے تو امریکہ کو اس بات کی قطعی کوئی پرواہ نہیں کہ کون وزیرِ اعظم بنتا ہے۔اداروں کی سطح پر امریکہ عسکری قیادت میں موجود غداروں پر انحصار کرتا ہے کہ وہ وزیرِاعظم کو اپنے کنٹرول میں رکھیں اور یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے امریکہ نے بہت سے مسلم ممالک میں یہی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ اور اپنی جانب سے عسکری قیادت نے اسی بات کو یقینی بنایا کہ عمران خان امریکہ کی تمام ہدایات پر عمل کرے اور جونہی عمران خان نے چاکری کے اس کھیل میں طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کی تو عسکری قیادت نے فوری طور پر ان کی برطرفی کو یقینی بنایا۔ جہاں تک انفرادی طور پر شخصیات کا تعلق ہے تو واشنگٹن کو عاصم منیر پر بھرپور اعتماد ہے۔ عاصم منیر نے امریکہ کی تابعداری کرنے کے لئے پاکستان، مسلمانوں اور اسلام کو نقصان پہنچانے پر اپنی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ اس نے ان تمام پالیسیوں کو یقینی بنایا جن پر پہلے عمران خان عمل درآمد کر رہا تھا بلکہ ان سے بھی بڑھ کر امریکی احکامات نافذ کئے۔ روپے کے کمزور ہونے، بڑھتے ہوئے اخراجات اور ٹیکسوں میں اضافے کی وجہ سے معیشت بدستور تباہ ہوتی جار ہی ہے۔ عاصم منیر نے کشمیر کو تو اکیلا چھوڑ ہی دیا ہے اور وہ غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ بھی مسلسل غداری کر رہا ہے۔

 

مسلمانوں کو موجودہ سیاسی نظام اور عوامیت پسندی (پاپولزم) کی قیادت سے آگے نکل جانا چاہئے۔ مسلمان واضح طور پر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ امریکہ مخالف اور اسلام کی حمایت کے حوالے سے موجودہ نظام کبھی بھی وہ سب نہ دے پائے گا جو کچھ وہ چاہتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی امیدوار انتخابات میں جیت بھی جائے تو یہ امریکہ کا حامی نظام اسے نکال کر باہر کر سکتا ہے۔ اور یہاں تک کہ اگر وہ وزیراعظم بھی بن جائے تو بھی وہ امریکہ کے حق میں ہی پالیسیوں کا نفاذ کرے گا۔ مسلمانوں کو لازمی اس نظام کے لئے کام کرنا چاہئے جس کے لئے اسلام ایک شرعی فریضہ کے طور پر تقاضا کرتا ہے یعنی نبوت کے طریقے پر خلافت۔ مسلمانوں کو لازماً اس واحد قیادت کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہئے جو خلافت کو قائم بھی کر سکتی ہے اور حکومت چلانے کے لئے بھی مکمل طور پر اہل ہے۔ اور وہ قیادت حزب التحریر ہے۔ ستر دہائیوں سے زائد عرصہ سے حزب التحریر مسلسل استعمار کے عزائم کو عیاں کرتی رہی ہے اور مسلمانوں کے سیاسی امور کے حوالے سے تفصیلی شرعی احکام پیش کرتی رہی ہے۔ حزب نے انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک، مسلمانوں کے تمام علاقوں میں قابل اسلامی سیاستدان تیار کئے ہیں۔ حزب ایک واحد امیر کی قیادت تلے کام کرتی ہے جو ایک ممتاز فقیہ اور عالم، شیخ عطاء ابوخلیل ابن الرشتہ ہیں اور وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی کتاب اور سنتِ نبوی ﷺ کے عین مطابق حکمرانی کے احیاء کے لئے بالکل تیار ہیں۔ تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈریں، اور دہائیوں کی نافرمانی کے بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اطاعت میں واپس لوٹ جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

 

«مَوْتٌ فِي طَاعَةِ اللهِ خَيْرٌ مِنْ حَيَاةٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ»

اللہ کی اطاعت میں موت آنا، اللہ کی نافرمانی میں زندگی گزارنے سے بہتر ہے ( الطبرانی نے مجمع الکبیر میں روایت کیا)۔

 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک