الجمعة، 08 ذو الحجة 1445| 2024/06/14
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

بین الاقوامی نظام اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے۔ پاکستان کی ترقی کا راستہ اسلام کی واپسی اور ریاست خلافت کے دوبارہ قیام میں مضمر ہے

 

منجانب: انجینئر معیز، پاکستان

 

پاکستان کے اسٹریٹجک اور پالیسی حلقے معیشت کے زوال اور ریاست اور معاشرے پر اس کے پڑنے والے اثرات کے حوالے سے بحث و مباحثے میں مصروف ہیں۔ ان کے درمیان تقریباً مکمل اتفاق ہے کہ پاکستان کو کچھ مختلف کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس بحران  کے ماحول میں نئی سوچ اور افکار کی کمی ہے، اور اس بحران سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ نے پاکستان کی مغرب زدہ اشرافیہ کو یہ موقع فراہم کیاہے کہ وہ  پاکستان کے لیے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں۔ پاکستان کی مغرب زدہ اشرافیہ اس بات پر قائل ہے کہ پاکستان کو مغرب کی ترقی کے تجربے کو ہی استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور مغربی پالیسی سازوں اور ماہرین کے بتائے ہوئے ترقی کے راستے کو اپنانا  چاہیے ۔ یہ اشرافیہ سمجھتی ہے کہ پاکستان نےبین الاقوامی اداروں   کے تجویز کردہ اصلاحی پروگراموں پر پوری طرح سے عمل نہیں کیا ہے جس میں معیشت کی لبرلائزیشن، پاکستان کی عوام اور اشرافیہ کے درمیان ایک نیا  عمرانی معاہدے(social contract) کی تشکیل  اورپاکستان کے بین الاقوامی کردار اور اس کے بین الاقوامی تعلقات کی ازسرنو    تشکیلشامل ہے۔

 

اس نئے راستے اور اصلاحی ایجنڈے پر بحث کے حوالے سے ایک دلچسپ بحث جیتنے والوں اور ہارنے والوں کے بارے میں ہے۔اور وہ بحث یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مقابلے میں، بھارت جیت گیا ہےاور پاکستان ہار گیا ہے اور پاکستان کو اس ہار کے نتیجے میں اپنی پالیسیوں اور ترقی کے راستے کے حوالے سےنظر ثانی کرنے اور نئی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس اشرافیہ کے دھڑے کا  مطالبہ  ہے کہ پاکستان نئی حقیقتوں کے سامنے سرتسلیم خم کرے، کشمیر پر اپنا نظریاتی موقف ترک کرے، افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرے، بھارت کے ساتھ مقابلہ کرنے کے اپنے عزائم کو ترک کردے اور بھارت کے ساتھ تجارت اور اقتصادی باہمی تعاون پر مبنی تعلقات کا آغاز کرے، اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے اتحاد کو مضبوط بنائے۔اشرافیہ کے اس گروہ کے لیے، پاکستان کو ایک  نئے  معاشرے  میں تبدیل کرنے  اور اپنے مقصد کا نئے سرے سے تعین کرنا چاہیے اور خود کو بین الاقوامی برادری خاص طور پر طاقتور مغربی ممالک کے لیے relevant بنانا چاہیے، اس طرح بین الاقوامی سطح پر اپنے لیے قبولیت اور جگہ تیار کرنی چاہیے، جس کے بعد پاکستان کو مغرب کی جانب سے معاشی فوائد ملنا شروع ہوں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ دشمنی اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو ترک کرنے اور نئی جدیدقانونی اور سماجی ترقی پسند سوچ کو اپنانے کی ضرورت ہے جس سے معاشرے کے معاشرتی ڈھانچے اور اقدارکو تبدیل کیا جائے۔ مختصر یہ کہ اس اشرافیہ کی نظر میں  جو چیز پاکستان کو دنیا  میں پیچھے رکھے ہوئے ہے،وہ اس کی ایک نظریاتی اور ثقافتی شناخت ہے جو بین الاقوامی نظام اور مغربی طاقتوں کی تشکیل کردہ جدید دنیا سے مطابقت نہیں رکھتی۔

 

معاشرے اور ریاست اور ان کی شناخت کو یکسر تبدیل کرنے کی فکر کو  بڑی آسانی سے بحثوں کا حصہ بنایا جاتا ہے لیکن اس سوچ  کے حامل افراد کی اکثریت معاشرے ،ریاست اور قومی شناخت کیسے کام کرتی ہے جیسے تصوارات کی درست سمجھ نہیں رکھتے۔ لیکن یہ اس کا صرف ایک پہلو ہے۔ کسی معاشرے اور ریاست کو ایک نئے تصور پر لانے کا عمل ، خود اس نئے تصور پر عمل کرنے والوں کے اپنے اذہان میں پہلے سے موجود نظریاتی جھکاؤ اور یقین سے کبھی الگ نہیں ہوتا۔اس دلیل پر غور کریں کہ پاکستان بھارت سے ہار گیا ہے ، لہٰذا اس سے سبق لیتے ہوئے معاشرے کو کچھ مختلف کرنے کے لیے متحرک کرنا ہوگا۔یعنی سوچ اور نظریے کی تبدیلی کے حامی لوگ خود کو اس سوچ سے آزاد نہ کر پائے کہ پاکستان اور ہندوستان ایک دائمی دشمنی میں بندھے ہوئے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر کی مقدار، ارب پتیوں اور بڑی کمپنیوں کی تعداد، فوجیوں کی تعداد اور طاقت اور متعلقہ جغرافیائی سیاسی تسلط، ان دونوں ممالک کے لیےاپنی ترقی کو جانچنے کے پیمانے ہیں۔یہ لوگ پاکستان کی ترقی کو بھارت سے مقابلے کے تناظر میں  دیکھتے ہیں نہ کہ جاپان یا جرمنی یا پولینڈ   کی ترقی سے پاکستان  کی ترقی کا موازانہ  کیا جاتا ہے۔ یعنی بھارت سے مقابلہ بازی   ہی درحقیقت  بھارت سے دشمنی ختم کرنے کی  محرک ہے  کہ اگر بھارت سے جیتنا ہے  تو معاشی فوائد کے لیے اسے گلے لگانا ہو گا۔ تاریخ اتنی آسانی سے مٹتی نہیں ہے اور معاشروں کی تنظیم نو کو  ان کی تاریخ سے کاٹ کرحاصل کرنا  اتنا آسان نہیں۔

 

معاشروں اور قوموں کی تشکیل نواور انتظام کیسے کیا جاتا ہے ، کے حوالے سے ہماری اشرافیہ  میں پائی جانے والی غلط فہمی   واضح ہے ۔ قومی شناختوں کی تعریف اور اس کا تعین قدرتی سیاسی اور تاریخی تجربات سے ہوتی ہے جو ثقافتی عقائد اور بنیادی نظریات سے گہرائی سے جڑے ہوتے ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھتے ہیں۔پاکستان کا تصور اس فکر کی بنیاد پر سامنے آیا کہ برصغیر کے مسلمان ایک ایسےمتحدہ برصغیر میں اپنی ثقافتی اور تہذیبی شناخت کھو دیں گے، جوکہ ایک سیکولر کنفیڈریشن ہو گی  اور جس میں بے شک مسلمانوں کے لیے آئینی تحفظات ہوں، اور دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کا انتظام مسلمان اور ہندو مرکز سے مشترکہ طور پر چلائیں۔  برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی عزائم اس انتظام سے مطابقت نہیں رکھتے تھے کیونکہ  مسلمان قرآن و سنت سے اخذ کردہ احکام پر مبنی معاشرے کی تعمیر کی خواہش رکھتے   تھے۔ پاکستان کی تخلیق کے پیچھے جو سیاسی جذبہ اور توانائی تھی، اس کا محرک معیشت نہیں تھی، بلکہ اس کا ایک زیادہ بنیادی محرک تھا، کہ بحیثیت ایک قوم اور ایک معاشرہ ہماری شناخت کیا ہے۔ برصغیر کو مسلم اکثریتی اور ہندو اکثریتی ریاستوں میں تقسیم کرنے کے مطالبے کا مرکز ہندوستانی عوام کی مذہبی شناخت اور عقائد تھے۔ مسلمان توحید کے ماننے والے ہیں، ہندو مشرکین ہیں، اس لیے مسلمان کبھی بھی ہندوؤں کی حاکمیت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کر سکتے۔ یہ وہی خیال ہے جس نے کشمیر کے مسلمانوں کو جذبہ دیا اور متحرک کیا،  جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے ہندو راج کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر دنیا کے سب سے زیادہ فوجیوں کی موجودگی رکھنے والے خطوں میں سے ایک ہے، اور یہ بھارتی ریاست کی کامیابی کا ثبوت نہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشروں اور ریاستوں کی نئی حقیقتوں، مایوسی اور شکست کے احساس کی بنیاد پرتشکیل نو نہیں کی جاتی۔ بلکہ معاشروں اور ریاستوں کی تعمیر اور تشکیل نو لوگوں کے نظریاتی عقائد اور تہذیبی عزائم کی بنیاد پر کی جاتی ہے ۔ یعنی معاشرے ایک ایسی دنیا کا تصور کرتے ہیں جسے وہ اپنی تہذیب کے مطابق بنانا چاہتے ہیں اور پھر اسے بنانے کی کوشش کرتے ہیں چاہے اس کے حصول کی کوئی بھی قیمت کیوں نہ ہو۔

 

ہندوستان کی ترقی اس کی اپنی تخلیق اور کوشش کی وجہ سے نہیں ہے۔ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے ہندوستان بین الاقوامی نظام کے کنارے پر تھا اور بین الاقوامی میدان کو تشکیل دینے والی بڑی طاقتوں(سپر پاورز) کے مقابلے سے اپنا فاصلہ برقرار رکھے ہوئےتھا۔ غیروابستہ تحریک (Non-Aligned Movement)کے تحت غیرجانبداری کا دعویٰ کرتے ہوئے، ہندوستان نے خود کو امریکہ کے قائم کردہ بین الاقوامی نظام اور اس کی سیاسی مراعات اور ترغیبات کے نظام سے الگ رکھا ہوا تھا۔ہندوستان کی ترقی چین کی بڑے پیمانے پر اقتصادی ترقی کے بارے میں امریکی خدشات سے منسلک ہے جس نے امریکی خارجہ پالیسی اور دفاعی اداروں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ ہنری کسنجر کے منصوبے کے تحت کمیونسٹ کیمپ کو تقسیم کرنے اور سوویت یونین کی طاقت کو محدود کرنے کے لیے  چین کی جانب بڑھایا جانے والا دوستی کا  ہاتھ ، امریکی پالیسی سازوں کے لیے مشکلات پیدا کرنےلگا۔امریکہ نے چین اور سوویت یونین کے درمیان کمیونسٹ اتحاد کوروکنے کے لیے چین کو پیشکش کر کے بین الاقوامی نظام میں اس کی شمولیت کی راہ ہموار کی، چین کو مغربی دنیا کے لیے ایک فیکٹری میں تبدیل کر دیا، اور چین کو امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے عالمی عزائم کی تکمیل کے لیے ایک بڑی منڈی کے طور پر استعمال کیا۔اب جبکہ چین ایک اقتصادی طاقت ہے اور اپنی اقتصادی طاقت کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور مشرقی اور جنوبی بحیرہ چین میں بحر الکاہل(Pacific) کی طاقت کے طور پر اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کر رہا ہے، امریکہ چین کے جیو پولیٹیکل عروج سے خوفزدہ ہے اور وہ بھارت اور جاپان کو چین کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اس طرح یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ہندوستان اور جاپان دونوں امریکہ کے بنائے ہوئے چار ملکی کواڈ الائنس (Quad Alliance)کا حصہ ہیں، جس میں آسٹریلیا بھی شامل ہے۔امریکہ نے منموہن سنگھ کی قیادت میں ہندوستان کو بین الاقوامی نظام میں شامل کرنا شروع کیا تاکہ ہندوستان کو امریکی جیو پولیٹیکل ایجنڈے کو قبول کرنے پر راضی کیا جا سکے جس طرح ایوب دور میں پاکستان کو امریکی کیمپ میں شامل کرنے کے لئے پاکستان کو امریکی امداد اور قرضوں سے نوازا گیا تھا۔مودی کی قیادت میں، ہندوستان نے امریکہ کی بولی قبول کی اور چین کے خلاف امریکی منصوبے کا حصہ بننے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کردی ۔جس طرح سوویت یونین کے خلاف امریکی جیو پولیٹیکل ایجنڈے کو حاصل کرنے کے لیے چین کو ایک آلے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا، اسی طرح اب ہندوستان کو چین کے خلاف امریکی جیو پولیٹیکل مقاصد کی تکمیل کے لیے ایک جیو پولیٹیکل آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔یہ ہے ہندوستان کی ترقی کی حقیقت ۔ یہ نہ تو ہندوستان کے سیاسی نظام کی کامیابی کی وجہ سے ہوا ہے، نہ ہی اس کی سیاسی اور حکمران اشرافیہ کی ذہانت یا اس کے تعلیمی اداروں کی قابلیت کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہندوستان کا عروج امریکہ کا ایک جغرافیائی آلہ کار بننے کی وجہ سے ملنے والا انعام ہے، جس کا مقصد ہند- بحرالکاہل(Indo-Pacific) کے خطے میں امریکی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اسے تیار کرنا ہے۔

 

اور ہندوستان کی ترقی کو ممکن بنانے میں پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے براہ راست کردار ادا کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے، پاکستان کے فوجی اور سیکورٹی نظریے اور صلاحیتوں کی تنظیم نو اور انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو فروغ دینے، امن مذاکرات کے آغاز اور بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے ایجنڈے کو اپنانے، ہندوستان سے توجہ ہٹانے کی اسٹریٹجک غلطی، کشمیر کو پس پشت ڈالنے، بھارت کے خلاف لڑنے والی جہادی تنظیموں پر کریک ڈاؤن اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی، یہ وہ تمام اقدامات تھے جنہوں نے بھارت کے لیے یہ گنجائش پیدا کر دی کہ وہ پاکستان پر سے اپنی اسٹریٹجک توجہ ہٹا کر خطے میں وسیع امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کام کرسکے۔اگر آج ہندوستان کی "وکٹری (فتح)" کچھ ہےبھی تو یہ پاکستان کے حکمرانوں کی طرف سے جنوبی ایشیا اور پاکستان اور افغانستان کے خطے کے لیے امریکی ڈکٹیشن پر عمل کرنے کے لیے کیے گئے تباہ کن فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ ہندوستان جیت گیا کیونکہ ہم نے "وکٹری سٹینڈ "کی طرف جانے والے راستے پر چلنے میں اس کی مدد کی۔زمینی حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کر نے، اور ہندوستان کی "فتح" کا جشن دیکھنے کے بجائے شاید ایک دانشمندانہ طریقہ یہ ہو گا کہ ہندوستان کی مدد کرنا بند کی جائے اور حقیقی دنیا میں اس کے ساتھ مقابلہ شروع کیا جائے۔

 

پاکستان کی معاشی، سیاسی اور عسکری پریشانیوں کی بنیاد پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی طرف سے اپنائے گیا غلط ترقی کا ماڈل ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے پاکستان کی ترقی کو دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کی طرف سے بنائے گئے بین الاقوامی نظام کے ساتھ منسلک (جڑے)رہنے میں دیکھا ہے۔ہندوستان کے ساتھ پاکستان کی دشمنی ہو، پاکستان کی معیشت کا ڈھانچہ ہو، پاکستان کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہو یا علاقائی عزائم کا حصول، پاکستان کے حکمرانوں نے کبھی نہیں سوچا کہ وہ امریکہ یا یورپی طاقتوں کی مدد کے بغیر پاکستان کو ان میں سے کسی بھی میدان میں آگے لے جا سکتے ہیں۔پاکستان کا آبپاشی کا نظام اور ڈیمز اور پوری زرعی پالیسی امریکہ نے ڈیزائن(تشکیل) کی تھی جس کے بدلے میں پاکستان نے سوویت یونین کی نگرانی کرنے کے لیے امریکہ کو اڈے فراہم کیے ۔ پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ لڑنے میں امریکہ کی مدد  امریکہ کی جانب سے دی جانے والی معاشی مدد اور مالی وسائل کے عوض کی جس سے پاکستان کو بھارت کے خلاف اپنی فوجی صلاحیتیں بڑھانے میں مدد ملی ۔جب ہندوستان غیرجانبداری کا دعویٰ کرتا تھا اور غیروابستہ تحریک(Non-Aligned Movement) کا حصہ تھا اور امریکہ کے بین الاقوامی نظام میں شامل ہونے سے انکار ی تھا، تو امریکہ نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنائی، اور پاکستان نے ہندوستان کے ایٹمی پروگرام کے جواب میں اپنا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام بنایا۔امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کو ہندوستان کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ایک چھڑی کے طور پر استعمال کیا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت نہیں کی۔نائن الیون حملوں کے بعد جب امریکہ نے اسلام کے خلاف اپنی جنگ شروع کی تو پاکستان نے ہندوستان کی عدم جارحیت کی امریکی ضمانتوں کو قبول کیا اوراپنے فوجی نظریے کو از سر نو ترتیب دیا اور پاکستانی فوج کی گرین بک میں تبدیلیاں کیں اور ہندوستان کو پاکستان کے لیے نمبر ایک خطرہ قرار دینے سے دستبردار ہوگیا۔ پاکستان نے کشمیر پر امریکی دباؤ کو قبول کیا اور اگست 2019 میں جب مودی نے مقبوضہ کشمیر کو ضم کر لیا تو ہندوستان کو فوجی طور پر چیلنج کرنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان کے حکمرانوں نے بھارت کے خلاف جہادی انفراسٹرکچر کو ختم کرنے کے لیے FATF کے دباؤ کو بھی قبول کیا۔ پاکستان کی پاور(توانائی) پالیسی ورلڈ بینک نے ڈیزائن کی تھی جس کے نتیجے میں پاور سیکٹر میں بہت زیادہ گردشی قرضہ بڑھ گیا ہے اور پاکستان نے بار بار آئی ایم ایف کے اصلاحاتی پروگراموں کو نافذکیا تاکہ مغربی حکم نامے کے مطابق پاکستان کی معیشت کی تشکیل نو کرے ۔نتیجتاً پاکستان کو ایک کے بعد دوسرے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑااور پاکستان کا امریکہ اور اس کے کثیرالجہتی(Multilateral) اداروں پر انحصار مزید بڑھ گیا۔آج بھی پاکستان کی حکمران اشرافیہ اور مغرب زدہ دانشوروں کا اتفاق ہے کہ پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کے اصلاحاتی پروگرام کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی آپشن(چارہ) نہیں ۔ جب پاکستان نے   امریکہ کے اثرورسوخ سے باہرترقی کی کوشش کی بھی تو اپنے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لیے ایک اور باہر کی طاقت چین کا رخ کیا اور یہ سرمایہ کاری بھی ایک بوجھ ثابت ہوئی ہے جس نے پاکستان کی کمزور معیشت پر مزید بوجھ ڈالا اور پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچا دیاہے ۔

 

پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی جانب سےپاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک آزاد راستے کا تصور کرنے میں ناکامی کی ایک وجہ پاکستان کی نوآبادیاتی (Colonial)تاریخ میں مضمر ہے۔ پاکستان کو نوآبادیاتی (Colonial)ریاست اور ادارے ورثے میں ملے جو برطانوی راج کے دور میں انگریزوں نے بنائے تھے۔انگریزوں نے ایک سیاسی اور فکری ماحول کو پروان چڑھایا جہاں برصغیر کی ترقی اور پیشرفت کومغرب کے سیاسی اور فکری تجربے سے مستفید ہونے سے منسلک کر دیا گیا۔ امریکہ نے اس نوآبادیاتی(Colonial) میراث کو مزید پروان چڑھایا اور پاکستان کو اپنے بین الاقوامی نظام کے تابع کرنے کے لیے پھنسایا۔

 

موجودہ عالمی نظا م  میں طاقت کی تقسیم اور اثرورسوخ  کے تجزیے کے بعد یہ واضح ہے کہ  یہ عالمی نظام اور بین الاقوامی مالیاتی، اقتصادی، سیاسی اور فوجی ڈھانچے کسی بھی طرح سے بین الاقوامی نہیں ہیں ۔ یہ نظام باقی تمام طاقتوں کو چھوڑ کر تنہا امریکہ کے زیر کنٹرول ہے۔امریکہ نے بین الاقوامی تجارت پر امریکی ڈالر کو مسلط کرنے کے لیے بریٹن ووڈ میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے قائم کیے۔ پاکستان کا ادائیگی کے توازن (بیلنس آف پیمنٹ) کا بحران اس نظام میں پاکستان کی شرکت کا براہ راست نتیجہ ہے۔ پاکستان اور تمام مسلم دنیا نے اپنی مرضی سے ڈالر میں بین الاقوامی تجارت کرنے کا انتخاب کیا۔آئی ایم ایف کا قیام ان ممالک کے لیے ڈالر پر مبنی قرض حاصل کرنے کےآخری آپشن (Lender of Last Resort)کے طور کیا گیا جن کے پاس ڈالر کی کمی ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ دونوں ڈیفالٹ (نادہندگی)کے دہانے پر ہیں۔جہاں پاکستان کو ڈالروں کے حصول کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی سخت شرائط ماننے پر مجبور کیا جا رہا ہے جس نے معیشت کا پٹہ بٹھا دیا ہے اورپاکستان کے عوام پر بے پناہ مصائب اور معاشی دباؤ کا بوجھ ڈال دیا ہے، وہاں امریکہ اپنے قرضے کی حدبڑھانے کے لیے امریکی کانگریس کے اقدام کا منتظر ہے جو امریکہ کے ڈیفالٹ کو مؤثر طریقے سے ختم کر دے گی کیونکہ امریکہ کو اپنے مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو کے ذریعے ڈالر جاری کرنے کی منفرد طاقت حاصل ہے۔ پاکستان اور مسلم دنیا کو بین الاقوامی تجارت میں حصہ لینے کے لیے ڈالر کمانے ہوتے ہیں، جبکہ امریکہ اپنے قائم کردہ پیچیدہ مالیاتی نظام کے ذریعے انہیں چھاپتا ہے یا اپنی مرضی سے جاری کرتا ہے۔ورلڈ بینک کا قیام دنیا کے ممالک کی ترقی کے راستے کا تعین کرنے کے لیے کیا گیا تا کہ ان ممالک کوامداد اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے پیسے دیے جائیں اور وہاں   مغربی مفادات اور مغربی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے اس امداد اور قرض کو استعمال کیا جائے ۔ ریکوڈک تانبے اور سونے کی کان کا کیس جہاں عالمی بینک کے تحت بین الاقوامی ثالثی ٹریبونل نے پاکستان کو 11 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تا کہ کان کنی کا ٹھیکہ بیرک گولڈ کو دیا جائے ان بین الاقوامی اداروں کے تسلط پسندانہ اور استعماری عزائم کی صرف ایک مثال ہے۔سوئفٹ(Swift) میسجنگ سسٹم سے ہٹانے ، عالمی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی سے انکار، بین الاقوامی شپنگ لین اور خدمات وغیرہ کےاستعمال سے جبراً روکنے  جیسی دھمکیوں کے ذریعے امریکہ اس کی ڈکٹیشن پر عمل نہ کرنے والے ممالک پر پابندیاں لگاتا ہے اور انہیں ڈنڈے کے زور پر امریکی ایجنڈے کے تابع کرتا ہے۔

 

اس طرح بین الاقوامی نظام مکمل طور پر امریکی کنٹرول میں ہے۔ امریکہ اس نظام میں جیتنے اور ہارنے والوں کا انتخاب کرتا ہے۔ امریکہ نے جاپان اور جرمنی کو اس شرط پر اس نظام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی کہ وہ دونوں جنگ عظیم دوئم میں شکست کے بعد اپنے ملکوں کو فوجی  قوت  سے دور رکھیں گے اور امریکی تحفظ اور امریکی فوجیوں کو قبول کریں گے۔اب آبنائے تائیوان (Taiwan Strait)میں جنگ کے خطرے اور وسطی یورپ میں یوکرین روس جنگ کے بعد، امریکہ نے جاپان اور جرمنی دونوں کو اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنے اور امریکی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے چین اور روس کے خلاف زیادہ مخالفانہ رویہ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔چین کبھی اس بین الاقوامی نظام کا ایک پسندیدہ رکن تھا اور اب وہ اس بین الاقوامی نظام کی مخالفت کا سامنا کررہا ہے۔ ہندوستان ایک زمانے میں اس نظام سے باہر تھا اور اب اسے اس نظام کی مراعات حاصل ہیں۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ اس بین الاقوامی نظام میں جتنی بھارت کو رسائی اور مراعات دی گئی ہے،ا تنی ہی رسائی اور مراعات کے بدلے میں امریکی اثر و رسوخ کے دائرے میں گردش کرنے والی کلائنٹ سٹیٹ (Client State) بننے کے لیے تیار ہے ۔درحقیقت انہوں نے بارہا امریکہ کے سامنے خود کو پیش کیا ہے کہ امریکہ کی جانب  سے پاکستان کے ساتھ بھارت جیسا رویہ اپنایا جائے ، اور اس کے بدلے میں پاکستان اپنی طاقت اور وسائل کو امریکی جیو پولیٹیکل مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ پاکستان کے اسٹریٹجک حلقوں کی خام خیالی ہے۔ اس حقیقت کے برعکس کہ ایک کلائنٹ اسٹیٹ کبھی بھی اپنی آقا ریاست کے ایجنڈے سے ہٹ کر قدم نہیں اٹھاسکتی ، پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی مغربی تعلیم اور ان کے نظریات نے انہیں اس حقیقت کو دیکھنے سے محروم کردیا ہے کہ امریکہ کبھی بھی کسی مسلم ریاست کو طاقتور بننے کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ امریکہ کی اسلام کے خلاف گہری نظریاتی دشمنی ہےاور اسے اسلامی نظریات کی تہذیبی طاقت کا خوف ہے۔ آج سےسو سال اور پہلی عالمی جنگ سے پہلے تک، مسلمانوں کی سرزمین پر ریاستِ خلافت کی حکومت تھی، جو اٹھارویں صدی کے وسط تک بین الاقوامی میدان میں ایک زبردست اور طاقتور کردار ادا کرتی تھی۔مزید برآں، مغربی نوآبادیاتی منصوبہ جو 15ویں صدی میں شروع ہوا، افریقہ اور امریکی براعظم سمیت دنیا کے بیشتر حصوں کو فتح کرنے اور ان پر غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا، تاہم یورپی اور پھر امریکی استعمار کی زد میں آنے سے قبل یہ مسلم سرزمین اور اسلامی تہذیب ہی تھی جو مغربی استعمار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر کھڑی تھی۔پہلا پین یورپی یا پین ویسٹرن (Pan-European or Pan Western) تجربہ، جہاں ایک متحدہ مغربی تہذیب کا خیال ایک سیاسی منصوبے کے طور پر ابھرا، ریاست خلافت کے خلاف عیسائی صلیبی جنگیں تھیں۔ اس طرح مغربی تہذیب کا تشکیلاتی اتحاد جب اس نے خود کو ایک اجتماعی مجموعہ کے طور پر دیکھنا شروع کیا تھا، مسلمانوں اور ریاست خلافت کے خلاف تھا۔اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جذباتی عداوت، جس کی جڑیں عیسائی سیاسی روایت میں گہری ہیں، 17ویں اور 18ویں صدی میں مختلف مغربی اقوام کی طرف سے سیکولر نظریہ اپنانے کے بعد بھی مغربی تہذیب کا حصہ رہی۔مغرب آج تک مسلم دنیا کو اسلام اور مغرب کے درمیان تہذیبی تصادم کی نظر سے دیکھتا ہے۔ آزادی اظہار کے نام پر اسلامی مقدسات پر حملہ اور توہین رسالت پرمغرب کا اصرار اور مسلم دنیا کو ہم جنس پرستی کے مکروہ فعل کو عالمی حق کے طور پر قبول کرنے پر مجبور کرنے کے لیے حالیہ مغربی دباؤ اس تہذیبی تصادم کا ثبوت ہے۔

 

پاکستان اور مسلم دنیا کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ امریکہ کے زیر کنٹرول اس بین الاقوامی نظام سے باہر نکلیں اور اسلامی نظریے اور اسلامی تہذیب کی بنیاد پر تعمیر و ترقی کے لیے اپنا خود مختار راستہ اپنائیں۔ مسلم دنیا کا عراق اور افغانستان میں امریکی تسلط کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کرنےکی جڑیں تاریخ میں ہیں۔ امت مسلمہ نے ریاست خلافت کے تحت دنیا پر حکومت کی ہے۔اس نے بین الاقوامی میدان کو کنٹرول کیا جب اسلام مسلم سرزمین پر نافذ ہوا اور جب اس نے جہاد کے ذریعے اسلام کا پیغام باقی دنیا تک پہنچایا۔ صدیوں تک امت مسلمہ حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکاری رہی ۔اس نے بیک وقت طاقتور رومی اور فارسی سلطنتوں کا مقابلہ کیا، قسطنطنیہ کی فتح کے ساتھ رومی سلطنت کو تباہ کیا، فلسطین کو ایک بار کھونے ، اور پھر 90 سال کی طویل جدوجہد کے بعد عیسائی تسلط سے آزاد کرایا، یورپی استعمار کا مقابلہ کیا اور امریکی تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے شدید جدوجہد میں مصروف ہے۔پاکستان کا مستقبل اسلام کو اقتدار اور طاقت کی طرف لوٹانے میں ہے۔ ایک متحدہ امت مسلمہ، پاکستان، افغانستان، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید اور افریقہ کی مسلم سر زمین ایک خلیفہ کے ماتحت وسائل سے مالا مال ہو گی اور ایک طاقتور ریاست کی حامل ہوگی جس کے ذریعے وہ اپنی عالمی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرے گی، وہ بہترین امت جو بنی نوع انسان کے لیے اٹھائی گئی ہے۔

 

هُوَ الَّذي أَرسَلَ رَسولَهُ بِالهُدىٰ وَدينِ الحَقِّ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ وَلَو كَرِهَ المُشرِكونَ

" وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام ادیان پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں۔"(التوبۃ، 9:33)

Last modified onہفتہ, 20 مئی 2023 17:07

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک