الإثنين، 22 شعبان 1445| 2024/03/04
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
فلسطين

ہجری تاریخ    28 من جمادى الثانية 1445هـ شمارہ نمبر: 10 / 1445
عیسوی تاریخ     بدھ, 10 جنوری 2024 م

تبصرۂ خبر

عقبہ اجلاس یہودی وجود کے تکبر اور جرائم کے سامنے شرمناک طور پر ہتھیار ڈالنے کانمونہ ہے!

(ترجمہ)

 

عقبہ سہ فریقی اجلاس کے حتمی اعلامیے میں غزہ کی پٹی کے خلاف "اسرائیلی" جارحیت کو روکنے اور فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے مسلسل دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اور اس اجلاس میں غزہ کے لیے امدادی ساز و سامان کی بلاتعطل اور خاطر خواہ فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ یہ اجلاس آج بدھ کی شام 10 جنوری، 2024ء کو اردن کے شہر عقبہ میں اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم، مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور فلسطینی صدر محمود عباس نے شرکت کی۔ 7 اکتوبر 2023ء کو غزہ کے خلاف جارحیت کے آغاز کے بعد سے یہ تینوں حکام کے درمیان پہلی سربراہی ملاقات تھی۔

 

اجلاس کے دوران، ان سربراہان نے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے کسی بھی "اسرائیلی" منصوبے کی مخالفت پر زور دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ان منصوبوں کی مذمت اور ان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مسئلہ فلسطین کو پشِ پشت ڈالنے اور غزہ اور مغربی کنارے کو خالی کروانے کی تمام کوششوں کو مسترد کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے غزہ کی پٹی کے کچھ حصوں پر دوبارہ قبضہ کرنے اور وہاں حفاظتی ٹھکانے قائم کرنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا۔

 

اجلاس کے حتمی اعلامیے میں مغربی کنارے کی صورت حال، "انتہا پسند آباد کاروں" کی طرف سے کیے جانے والے معاندانہ اقدامات اور القدس (یروشلم) میں اسلامی اور عیسائی مقدسات کی بے حرمتی پر بات کی گئی، اور خبردار کیا گیا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے، اور پورے خطے میں یہ صورت حال بگڑ بھی سکتی ہے۔

 

اجلاس کا حتمی اعلامیہ سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شریک حکومتوں کی سیاسی بانجھ پن کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ غزہ کی پٹی میں ہونے والے نسل کشی پر مبنی قتل عام کو روکنے یا ان جرائم کی شدت کو کم کرنے کے لیے یہودی وجود پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے یہ کانفرنس مردانگی کی رمق سے بھی خالی تھی۔ جب عقبہ میں یہ اجلاس جاری تھا تو غزہ کی پٹی میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی۔ 24 گھنٹوں میں شہداء کی تعداد 150 کے قریب پہنچ چکی تھی۔ جب یہ اجلاس جاری تھا تو اس وقت اسرائیلی وزیر، بینی گانٹز (Benny Gantz)اپنے اہداف کے حصول کے لئے کھلے عام جنگ جاری رکھنے کے بارے میں باتیں کر رہا تھا۔ عرب سربراہوں اور رہنماؤں کی ان میٹنگوں پر نہ تو اس وزیر نے، نہ جنگی کابینہ نے، نہ اسرائیل کی وحشی فوج نے اور نہ ہی خون کی پیاسی اسرائیلی عوام نے کوئی کان دھرے۔ تو پھر آگے چل کر صورتِ حال کیا ہوگی، جب کہ اس اجلاس نے یہودی وجود کو دھمکانے کے لئے کسی قسم کا کوئی سیاسی دباؤ ڈالے بغیر محض سفارشات جاری کرنے، درخواستیں دینے، کمزوری کے خدشات کا اظہار کرنے،  اور آنے والے خطرات اور تنبیہات کا اظہار کرنے پر ہی اکتفا کیا ہے ؟ !

 

خطے میں ایک ناتواں اور لاغر وجود کے سامنے یہ کھوکھلا موقف نہ تو مسلمانوں کی سرزمینوں کی کمزوری کے باعث ہے، نہ ان کی فوجی طاقت کی کمزوری کی وجہ سے ہے اور نہ ہی عوام کی امنگوں میں کجی کے باعث ہے۔ اس کے بجائے، اس بودے مؤقف کی وجہ ان حکمرانوں کا بڑی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ پر سیاسی طور پر انحصار کرنا ہے۔ ایسا مؤقف ان حکمرانوں کی جانب سے اپنے علاقوں کی خودمختاری اور طاقت کے ہتھیار ڈالنے کی وجہ سے ہے، جس کی وجہ سے ان کا خطے میں بڑی طاقتوں کے مفادات کے مطابق استحصال کیا جاتا ہے۔ ان مفادات میں سب سے بالا یہودی وجود کی سلامتی اور بقا کا تحفظ کرنا ہے۔ یوں اس طرح یہ حکمران مغرب کے ہاتھوں میں شطرنج کے مہرے بن گئے ہیں۔ مسلمانوں کے علاقوں کی خودمختاری ایک پائیدان کی سی بن کر رہ گئی ہے، جسے یہودی وجود بلا روک ٹوک روندے چلا جاتا ہے۔ تمام قوموں میں سب سے زیادہ گھٹیا اور ذلت آمیز یہودیوں کی نظر میں مسلمان امت ذلت و پستی کا شکار ہو چکی ہیں۔ اسی لئے یہودی اپنے جرائم پر ایسے ڈٹے ہوئے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے خون کی ندیاں بہا دی ہیں اور غزہ کی پٹی کو کھیتی کی طرح کاٹ کر رکھ ڈالا ہے۔

 

بے شک فلسطین کے عوام حقیقی خطرے میں ہیں۔ یہودی وجود ان کے اور ان کے وجود کے خلاف سازشیں کر رہا ہے، جیسا کہ سربراہی اجلاس میں معاملہ اٹھایا گیا اور متنبہ بھی کیا گیا۔ یہ خطرہ صرف یہودی وجود کی حکومت کے جرائم کی وجہ سے نہیں ہے، جیسا کہ یہ حکومتیں اور "رملہ اتھارٹی" دعویٰ کرتی ہیں۔ اس کے بجائے یہ ان شرمناک سربراہی اجلاسوں اور ان کے بھونڈے نتائج کی وجہ سے ہے۔ اس خطرے کی وجہ فلسطین کے لوگوں اور ان حکمرانوں کے زیراقتدار لوگوں کے خلاف زیادہ تر حالات میں ان حکمرانوں کے اعمال، ان کی نااہلی اور سازشی پوزیشنیں ہیں۔ مسلمانوں کے علاقوں پر اس تباہ کن سیاسی حقیقت کی روشنی میں فلسطین کے عوام کے لئے اس وقت تک کوئی نجات نہیں ہے جب تک کہ مسلمان عوام اور ان میں سے اہلِ قوت ایک باشعور سیاسی قیادت کے پیچھے نہ چلیں گے۔ یہ ایک ایسی باشعور سیاسی قیادت ہو گی جو ان ایجنٹ حکومتوں کا تختہ الٹ ڈالے گی، مسلمانوں کی زمینوں کو مغربی اثر و رسوخ سے آزاد کرے گی اور شریعت کے مطابق حکمرانی کرتے ہوئے اسلام کے عقیدے اور مسلمانوں کے مفادات کے مطابق آزادانہ فیصلے کرے گی۔ یہ قیادت فلسطین کو آزاد کرانے اور یہودی وجود کو صفحۂ ہستی سے مٹا ڈالنے کے لئے فوری طور پر حرکت میں آئے گی۔ اور آئندہ مغرب مسلمانوں کے علاقوں میں کسی قسم کا کوئی بھی سیاسی اقدام کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا۔ مسلمانوں کے علاقے پھر ہتک اور تضحیک کا شکار نہیں رہیں گے جیسا کہ اب صورتحال ہے۔

 

ارض ِ مبارک فلسطین میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
فلسطين
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
www.pal-tahrir.info
E-Mail: info@pal-tahrir.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک