الإثنين، 22 شعبان 1445| 2024/03/04
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر

ہجری تاریخ    11 من رجب 1444هـ شمارہ نمبر: 1444 AH / 027
عیسوی تاریخ     جمعرات, 02 فروری 2023 م

پریس ریلیز

مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے اور ہندوؤں کے اندر ان کا خوف پیدا کر کے مودی کی حکومت اپنی آنے والی انتخابی مہم تیار کر رہی ہے

 

آنے والے انتخابات میں اپنے انجام کے حوالے سے شہرت کی ہوس میں مبتلا مودی حکومت  ایک بار پھر اپنے ووٹرز کے سامنے اپنے آپ کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے  معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان شکوک وشبہات اور خوف کے احساسات کی  ترویج کی پالیسی پر اتر آئی ہے۔ چنانچہ 23 جنوری  سے  مسلسل تین دن تک  ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور انسپکٹرز جنرل آف پولیس کی سالانہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعظم نریندر مودی، اتحادی وزیر داخلہ امیت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈول سمیت  ملک کے 350 اعلیٰ پولیس افسران نے شرکت کی۔   اس کانفرنس میں ملک کو درپیش کئی سیکورٹی چیلنجز پر بات کی گئی، جن میں سے ایک" مسلم نوجوانوں میں انتہا پسند" کے نام سے ایک جھوٹ اور تہمت پر مبنی چیلنج بھی تھا، اور   اس کو قومی سلامتی کےلیے سب سے بنیادی خطرہ قرار دیا گیا۔ جن تنظیموں کو  انتہا پسند ، ریڈیکل اور شدت پسند کے طور پر پیش کیا گیا ان میں سرفہرست حزب التحریر بھی تھی۔  پیش کیے گئے مقالات  میں ان تنظیموں سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت کی نشاندہی کی، جن میں ان کی خفیہ سرگرمیوں کی نگرانی،   اوراس مقصد کے لیے ڈیٹا بیس مرتب کرنا شامل ہے۔ مقالوں میں دعویٰ کیا گیا کہ ہندوستان میں مذہبی بنیاد پرستی کا عروج بنیادی طور پر اعلیٰ سطح پر مذہبی رجحان اور مواصلات کے جدید ذرائع کی آسان دستیابی کی وجہ سے ہوا ہے۔

 

اس طرح یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مودی کی حکومت اور وہ سیکورٹی عہدہ دارجنہوں نے اسلام پسندوں کے خلاف بہتان تراشی کا مقالہ تیار کیا تھا ہندوستان میں رائے عامہ اور سیکورٹی سروسز کو من گھڑت خدشات سے دوچار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تقسیم کو بڑھانا ہے،  اور یہ سب کچھ ہندوؤں کو مسلمانوں سے ڈرانے اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کےلیے کیا گیا ہے۔

 

مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مقبولیت کے جنون کا بدبودار تعفن اب بھی اس حکومت سے اٹھتا ہے، اور آج وہ خوفزدہ اور تذبذب کا شکار ہے کہ وہ اس دلدل سے کیسے نکلے گی جس میں اس نے خود کو پھنسا دیا تھا۔ چنانچہ 2021 کے آغاز سے ہی  جب  مودی اور اس کے مشیروں کے خیالات پر مبنی تباہ کن فیصلے کیے گئے جس میں لوگوں کو 'کووڈ' کے دوران یہ کہہ کر  اپنے معمول کی زندگی گزرانے کی ترغیب دی  کہ کرونا وائرس ہندوستان سے غائب ہو گیا ہے،  جس کی وجہ سے مسلسل  کئی مہینوں تک ہندوستان ماتم کدہ بنا رہا جس کی وجہ سے حکومت  تمام شہریوں کو  سستا اناج فراہم کرنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئی۔  اس وقت سے ہی مودی سرکار اس ششو پنج میں مبتلا ہے  کہ اس امداد کو ختم کردیا جائے اس سے پہلے کہ   ہندوستان کی معیشت کا خسارہ  اس قدر بڑھ جائے  کہ وہ اس  تباہی سے نکل  نہ سکے یا پھراس امدادکو برقرار رکھی جائے تا کہ رائے عامہ غضبناک نہ ہو اور مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقبولیت متاثر نہ ہو۔

 

حکومت اس فیصلے کو ملتوی کرتی رہی، اور اناج اور کھاد کی تقسیم کی آخری تاریخ میں توسیع کرتی رہی، یہاں تک کہ وہ انتخابی ڈیڈ لائن سے گزر گئے، جس سے وہ پہلے گزر چکے تھے۔  مگر آج یہ فیصلہ ناگزیر ہو چکا ہے، اس لیے اب مودی  ،ذہنی طور پر پسماندہ ہر سیاست دان کی طرح ، اسی بٹن کو دبا رہا ہے  جس کو دبا نے  پر وہ ہربار مجبور ہوتاہے، اور وہ بٹن ہے نسل پرستی اور فرقہ وارانہ اشتعال کو بیدار کرنے کا بٹن ۔ اس کا مطلب مسلمانوں کو  تنگ کرکے ردعمل پر مجبور کرنے کی پالیسی ہے، ہندوں کو مسلمانوں سے خوفزدہ کرنے کی مہم شروع کرنے کی پالیسی ہے تاکہ وہ  مودی اور اس کی حکومت کے گرد جمع ہوجائیں ۔

 

یقیناً یہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک کی حفاظت اور اسے خطرات سے بچانے کی ذمہ داری جن سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہان کو سونپی گئی تھی وہ اپنے تحقیقی مقالے اور سیکورٹی سفارشات مرتب کرتے ہوئے یہ بھول گئے کہ ہندوستان اور اس کے عوام کو اصل خطرہ نریندر مودی  اور اس کی بصیرت سے عاری حکومت سے ہے۔  مودی پرزور طریقے سے بھارت کو چین کی ناکہ بندی کرنے میں حصہ لینےاور اس کے ساتھ ممکنہ طور پر لڑنے کے امریکی منصوبے کی راہ پر ڈال رہا ہے۔ مودی کو امریکہ کی نئی فیکٹری بن کر عالمی سطح پر ابھرنے کی بھرپور خواہش کے ساتھ ساتھ یہ خطرہ بھی لاحق ہے کہ اگر بھارت بہت ترقی کر گیا تو کہیں امریکہ قدغن لگا کر بھارت کو واپس ترقی پذیر ملک نہ بنا دے جیسا کہ پچھلی صدی کی ستر کی دہائی میں تھا۔

 

جہاں تک حزب التحریر پر انتہا پسندی اورتشدد پسندی کے الزام  کا تعلق ہے، تو جس سیکورٹی عہدہ دار نے دہلی کانفرنس میں یہ تہمت لگائی ہے  یا تو اس کی تحقیق کی صلاحیت  بچوں کے برابر بھی نہیں یا  وہ ہندوستان کے مسلمانوں سے بغض رکھتاہے اس لیے مودی کی طرح الزام تراشی کرتا ہے۔ جہاں تک  مسلمانوں کے خلاف الزام تراشی  اور ان کے خلاف اکسانے کے مودی منصوبے کا تعلق ہے  تو  اس کا یہ اندھا بغض استعماری منصوبہ ہے، اور اس منصوبے کا ماسٹر مائنڈ  امریکہ ہے جو   اس خوف سے اسلام کو اقتدار تک پہنچنے سے روکنے کےلیے استعمال  کر رہا کہ کہیں سرمایہ دارانہ نظام کے سائے غربت اور تنگدستی کی زندگی گزارنے والی   مغلوب اقوام راہ راست پر نہ آجائیں، وہ اس اسلام کی طرف نہ آجائیں جو انصاف کرتاہے،  یوں وہ اقوام  ان لالچی لوگوں کے خلاف کھڑے نہ ہوں  اور اسلام کے عقیدے اور نظام ِ زندگی کو نافذ کرنے کا مطالبہ نہ کریں۔

 

ہندوستان کے عقلمند لوگوں سے بالعموم اور  سیکورٹی اداروں کے ذمہ داروں میں موجود مخلص لوگوں سے بالخصوص یہ کہتے ہیں کہ:

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی اور اس کی حکومت ہندوستان کے مستقبل کےلیے  حقیقی خطرہ ہیں۔  وہ اقتدار میں رہنے کےلیے ملک کو آگ میں جھونکنے کےلیے بھی تیار ہیں۔ بی بی سی ٹی وی پر نشر ہونے والی حالیہ  دستاویزی فلم (ڈاکیو مینٹری) کےبارے میں ان کا ردعمل کیا ہے جس کے مطابق  مودی ملک میں  انارکی اور خون خرابہ کروانے  کی تیاری کر رہا ہے۔  یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ لوگ اقتدار میں رہنے کےلیے کچھ بھی کرنے کےلیے تیار ہیں  جس میں سیاسی پشت پناہی کے بدلے امریکہ کے سامنے مکمل  سرنگوں ہونا بھی شامل ہے۔  اس لیے ہم تم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وقت ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے  مودی اور اس کی انتہا پسند حکومت کے ہاتھ پکر لو۔  ہم تمہیں حزب التحریر  کی دعوت پر اخلاص سے غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں، اسلام  کو اگر نبوت کے نقش قدم پر نافذ کیا گیا جس کی دعوت حزب التحریر دیتی ہے  تو اس سے  فرد اور معاشرہ   کی یکساں بھلائی ہوگی اور  اسلام دونوں کی زندگی کو اعلیٰ مقام پر پہنچادے گا۔  اسلامی ریاست کے شہری برابر ہوتے ہیں  اس میں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا۔  اس سے پہلے بھی ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے تک اسلام نافذ رہا جس  کے دوران مسلمانوں کی خصلتیں تبدیل نہیں ہوئیں، انہوں نے ہمیشہ  شرافت، عزت اور پاکیزگی کو اپنا طرہ امتیاز بنائے رکھا، انہوں عصمتوں کی حفاظت کی،  کمزوروں کے ساتھ نرمی کی، اور رعایا کے  افراد کے درمیان انصاف کیا۔ مسلمان یہ جانتے ہیں کہ اللہ نے ان کو  انسانوں کو  کفر اور شرک کی ظلمتوں سے  اسلام کے نور اور عدل کی طرف لانے کےلیے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

 

﴿الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ﴾

" الٓرٰ۔ (یہ) ایک (پُرنور) کتاب (ہے) اس کو ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاؤ (یعنی) ان کے پروردگار کے حکم سے غالب اور قابل تعریف (خدا) کے رستے کی طرف۔"(ابراہیم،14:1)۔

 

انجینئر صلاح الدین عضاضة 

ڈائریکٹر مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
مرکزی حزب التحریر
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon
تلفون:  009611307594 موبائل: 0096171724043
http://www.hizb-ut-tahrir.info
فاكس:  009611307594
E-Mail: E-Mail: media (at) hizb-ut-tahrir.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک