الأحد، 06 ربيع الأول 1444| 2022/10/02
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    14 من صـفر الخير 1444هـ شمارہ نمبر: 06 / 1444
عیسوی تاریخ     ہفتہ, 10 ستمبر 2022 م

پریس ریلیز

مغربی استعمار سے وابستگی کی وجہ سے مسلمانوں پر مسلط ایجنٹ حکمران برطانوی ملکہ کی موت پر شدید رنج کا اظہار کررہے ہیں

 

پاکستان کے وزیر اعظم  شہباز شریف نے 8 ستمبر2022 کو اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر لکھا، "ملکہ عالیہ  الزبتھ دوم کے انتقال پر شدید غمزدہ ہوں۔  پاکستان ان کی موت کے سوگ میں برطانیہ اور دیگر دولت مشترکہ ممالک کے ساتھ مکمل شریک  ہے۔" مسلم دنیا کےعرب و عجم کےحکمران ملکہ برطانیہ کے انتقال پر ایسےگہرے رنج و غم کا اظہار کر رہے ہیں گویا کہ کوئی خلیفہ راشد اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہو،  جس کے دور میںعدل کا بول بالا تھا اور انسانیت ایک ہمدرد قیادت سے محروم ہو گئی ہو۔ اس سے پہلے کہ مسلم عوام حکمرانوں کے ساتھ اس غم میں شریک ہو، انہیں برطانوی اشرافیہ بشمول اس کی قیادت،برطانوی شاہی خاندان ، کی حقیقتپر احتیاط کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔

 

         یہ برطانوی اشرافیہ ہے جو اثر و رسوخ کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے استعماری طاقت برطانیہ کے معاملات کو مسلسل چلاتی ہے۔برطانوی اشرافیہ کا اثر و رسوخ وائٹ ہال پیپرزِ میں درج اختیارات سے کہیں زیادہ اور وسیع ہے،جنہیں کیبنٹ آفس کے وکلاء  نے تیار کیاتھا،جس سے یہ ظاہرہے کہ پارلیمانی بلز کا منظور ہونا یا ان کو روک دینا  اس اشرافیہ کے سینئر ترین افراد کی طاقت کے تابع ہیں ۔درحقیقت برطانوی اشرافیہ ہاؤس آف لارڈز، ہاؤس آف کامنز، کیبنٹ آفس، چرچ آف انگلینڈ، سٹی آف لندن، وائٹ ہال، سیکرٹ انٹیلی جنس سروس MI6))، سینڈرسٹ (Sandhurst) اور آکسبرج (Oxbridge) جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھتی ہے۔

 

         برطانوی اشرافیہ آج  کے استعماری معاشی نظام کی ایک معاون معمار ہے، جس نے دنیا کے بیشتر ممالک کو شدید قرضوں میں ڈبویا ہوا ہے، تاکہ قرضے فراہم کرنے والے مغربی سرمایہ کار سود کی ادائیگیوں سے فائدہ اٹھا تے رہیں۔ اس کے صنعتی شعبے  کے نگران مسلم دنیا کے قیمتی وسائل اور وسیع افرادی قوت کا استحصال کرتےہیں، جس میں گلف اور اس سے آگے کے علاقے شامل ہیں اور شدت کے ساتھ مسلم دنیا کو صنعتی شعبے میں آگے بڑھنے سے روکتےہے۔اس کی انٹیلی جنس اسلامی امّت کے مختلف خطوں میں مسلسل فساد برپا کرتی رہتی ہے  اور پہلے سے موجود  چنگاریوں پرتیل چھڑکتی  ہے، اور یہ کام وہ اُن سیاسی اور فوجی ایجنٹوں کے ذریعے کرتے ہیں جنہیں آکسبرج اور سینڈرسٹ جیسے اداروں میں بھرتی کیاجاتا  ہے۔درحقیقت یہ ایجنٹ وہی ہیں جو لارنس آف عریبیہ کے طرز پر کام کرتے ہیں، تاکہ دنیا کے ہر کونے میں اقوام کو تاج  برطانیہ کی خاطر استعمال کر سکیں۔ 

 

         جہاں تک پاکستان کے حکمرانوں کا تعلق ہے تو وہ اس طرح دکھ کا اظہار کررہے ہیں جیسے وہ پاکستان کے بجائے ونڈسر کے محل  میں رہ رہے ہیں، جو کہ تین صدیوں پر محیط برطانوی اشرافیہ کے جرائم کا ہیڈکوارٹر ہے۔اسلام کے تحت، برطانوی یلغار سے پہلے، عالمی معیشت میں برصغیر پاک و ہند کا حصہ 23 فیصد تھا، جو کہ پورے یورپ سے بھی زیادہتھا، اور جو  اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں1700  عیسوی میں بڑھ کر 27 فیصد ہو گیا تھا۔انگریزوں کے قبضے کے بعد یہ گر کر 4 فیصدسے بھی رہ گیا،  اور اس کے ساتھ ساتھ دسیوں لاکھوں لوگ قحط کا شکار ہوئے۔ انگریزوں نے اس خطے کو 173 سال تک لوٹا، جس کی مالیت موجودہ دور کے 45 ہزار ارب  ڈالر کے مساوی ہے!

 

         بےشک مسلمانوں کو برطانوی اشرافیہ کو پہچاننا چاہیے کہ وہ کیا ہے اور اُن کی حقیقت کے مطابق اس کیملکہکی موت پر ردعمل دینا چاہیے۔ ایک ایسے وقت میں جب  برطانیہ دنیا  کی انتہائی زوال پذیر ریاست ہے، یہ مسلم دنیا کے لیے برطانوی استعمار کی زنجیروں سے بچنے کا ایک نادر موقع ہے، تاکہ ان کی دولت مشترکہ اور اس کے فوجی اور اقتصادی زنجیروں کے جالوں سے آزاد ہوا جائے۔ مسلمانوں کو خود پر مسلط حکمرانوں کے ساتھ ویسا ہیسلوک کرنا چاہیے  جیسے کہ ان کی حقیقت ہے، اور ان کی حقیقت یہ ہے کہ یہ استعمار کے مداح اور ایجنٹ ہیں۔اور مسلمانوں کو اپنے دین کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے، نبوت کے نقش قدم پر ایک خلافت ، تاکہ دنیا کو بالآخر امریکی اور یورپی استعمار کے ظلم سے نجات مل سکے، اور پھر  اُس وقت دنیا جنگی مجرموں اور ظالموں کے انتقال پر ماتم نہیں کرے گی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا، 

 

فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ

"پھر ان پر نہ تو آسمان رویا  اور نہ ہی  زمین ۔"(الدخان، 44:29)

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
https://bit.ly/3hNz70q
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک