الجمعة، 15 ذو القعدة 1445| 2024/05/24
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال و جواب:

اعلیٰ سطح کے امریکی عسکری عہدہ داران کے یہودی وجود کا دورہ کرنے کے مقاصد

 

سوال:

جمعرات 9مارچ،2023 کو اخبار، صَداألبلاد نےاپنی ویب سائٹ پرخبرشائع کی  (پینٹاگون نے آج ،جمعرات ،کواعلان کیاکہ امریکی وزیرِدفاع لویڈ آسٹن Lloyd austinنے اسرائیلی وزیراعظم،بنجمن نیتن یاہو،کےساتھ ایرانی جارحیت کو حَدمیں رکھنے کےلیےتعاون بڑھانےپراتفاق کیا)۔ مُمکنہ احتجاجی مظاہروں کےپیشِ نظر، اجلاس کے مقام کو وزارتِ دفاع کے دفترسےتَل ابیب ایئرپورٹ پرمنتقل کر دیا گیا ۔ (پینٹاگون نے تصدیق کرتے ہوئےکہا کہ آسٹن کے اجلاس کو اسرائیلی وزارتِ دفاع کے دفترسے تَل ابیب کے ہوائی اڈے کے قریب منتقل کر دیا گیا۔وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہوکی دائیں بازوکی سخت گیرحکومت کی جانب سے عدالتی نظام میں تبدیلی کےمنصوبےکےخلاف ہفتےکے روزہزاروں افرادنے اسرائیلی شہروں میں مُسلسل نویں ہفتے سڑکوں پر احتجاج کیا)،رائیٹرز 8مارچ، 2023۔ امریکہ کے ان اعلیٰ سطح کے عسکری عہدہ داروں کی جانب سے یکے بعد دیگرے ہونے والے، یہودی وجُود کے اِن دَوروں کامقصد کیا ہے؟ کیا اس کا  روس اوریوکرین جنگ کے ساتھ بھی کوئی قابلِ ذکرتعلق ہے؟ یا یہ فلطین کے علاقے میں شِدت کو کم کرنے کے لئے ہیں ؟ یا اِن دوروں کی نوعیت الگ ہے اوراِن کے اہداف کُچھ دوسرے ہیں؟ جزاکم اللہ خیراً۔

 

جواب :

اس سوال کےجواب کوواضح کرنےکےلئے یہ سمجھنا ضروری ہے :

اول : اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ان دوروں کا مقصد، یوکرین کے خلاف جاری روسی جنگ کےحوالے سے یہودی ریاست کو روس کی جنگ سے دُوررہنے اور یہ بتانےکےلئے ہیں کہ وہ روس کے ساتھ امریکہ جیسا معاندانہ رویہ اختیار نہ  کریں تاکہ کہیں روس ناراض نہ ہوجائے، یادرہے کہ روس ، یہودی ریاست کو شام میں مختلف اہداف پر بمباری کرنے کی کھلی اجازت دیتا ہے اور اپنے فضائی دفاعی نظام سے شام پر کئے جانے والے اِن حملوں میں کوئی رُکاوٹ  نہیں ڈالتا۔ اور اس بات کا امکان اس لئے بھی نہیں ہے کہ خاص طورپراس وقت جبکہ یہودی وجودکی حکومت، خُود اپنی ہی اپوزیشن کے خلاف اندرونی خانہ جنگی میں اُلجھی ہوئی ہے، اسی لئے یوکرینی فوج کی مدد کے لئےمغربی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا یہودی فوج کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی عہدہ داروں کے اِن دوروں کا موضوع ، یوکرین ہونا  بعیداز امکان ہے۔۔۔ اسی طرح اس بات کا بھی امکان نہیں ہے کہ یہ دورےفلسطینی علاقوں میں حالات کوپُرسکون کرنے کےلئےہوں، باوجود اس کےکہ یہ مسئلہ خاصا سنگین اورحساس نوعیت کاہے اور یہ مسئلہ سابقہ امریکی عہدہ داروں،یعنی وزیرخارجہ، سی آئی اےکے ڈائریکٹراورقومی سلامتی کےمُشیرکے دوروں کے دوران اہم ترین موضوع  رہاہے۔تاہم، اپنی حساسیت کے باوجودبھی، امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف اوروزیرِدفاع کی سطح کے اعلیٰ عہدہ داروں کے دوروں کا مقصد مسئلہ فلسطین نہیں ہے کیونکہ اس کی نوعیت ایسی نہیں کہ امریکہ  اپنے اعلیٰ درجےکےعسکری عہدہ داروں کو اس کےلئےمتحرک کرے۔

 

دوم :ان معاملات سے ایسا معلوم ہوتا ہےکہ دورے کےمحرکات کُچھ اور ہیں۔۔ جن کو مندرجہ ذیل عوامل سے سمجھا جاسکتاہے:

 

1۔اسرائیلی وزیرِاعظم،نیتن یاہوامریکی ریپبلکن پارٹی کےقریبی دوستوں میں رہا ہے اور اسی لئے نیتن یاہو، ڈیموکریٹک پارٹی کےصدر،اوباما کی جانب سے 2015میں ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کرنےپراُس کےخلاف اُٹھ کھڑا ہوا اور اُس نے امریکی صدر اوباما کوخاصا پریشان رکھا۔خاص طور پر امریکی کانگریس میں ہونے والی اس کی  تقریر سے جو اُس نے  ایٹمی معاہدے کے خلاف کی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ کے ساتھ  نیتن یاہو کے تعلقات انتہائی  گہرے رہے تھے جس کا صلہ ٹرمپ نے نیتن یاہوکو اپنے سفارتخانہ کی القدس میں منتقلی،گولان کےانضمام کوتسلیم کرنےاور  مغربی کنارے میں اس کے ساتھ  اس صدی کی بڑی ڈیل کرنے کی صورت میں دیا جو کہ بہرحال ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔

 

2۔نئے ڈیموکریٹک امریکی صدر، بائیڈن کے آنے کے بعد اُس نے ’’لابید-Lapidاور ’’بینٹBennet-کی اتحادی جماعتوں کی حمایت کی  اور اس میں کامیاب ہوا، اور یوں مارچ 2021 کے انتخابات میں نیتن یاہو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا   اور   یہودی ریاست میں ’’لابیداور ’’بینٹ کی جماعتوں کی اتحادی حکومت قائم ہوگئی۔۔ اگرچہ یہ کامیابی زیادہ طُول نہ پا سکی اور نیتن یاہو نے دائیں بازو کی سخت گیر جماعتوں کی حمایت و تعاون سے نومبر2022 کے انتخابات میں دُوبارہ کامیابی حاصل کرلی۔

 

نیتن یاہو نے سخت گیر جماعتوں  کے ساتھ اتحاد کرکے وزارتیں تشکیل دینے پر اصرار کیا اور بائیڈن انتظامیہ کی وفادار جماعت(خاص طور پر لابیدLapid اور گینٹس Gantz کی جماعتوں)پر مشتمل حکومت تشکیل دینے  کی اُن کی خواہش کو پس پشت ڈال دیا۔اس نئی حکومت  کی جانب سے اپنے مؤقف کےاعلان کے بعد  امریکہ کی جانب سے شدیدسخت اورغیرمعمولی تنقید کا مظاہرہ کیا گیا، جیسا کہ دوقومی حل کے تحفظ کا ضروری ہونا، اُن وُزراء کے ساتھ مل کر کام کرنے سے انکارکرنا جو کہ نیتن یاہو کی حکومت میں دائیں بازو کے شِدّت پسند جانے جاتے تھےاور تیسرا یہ کہ یہودی ریاست میں عدلیہ کی حیثیت کوتبدیل کرنے کےحوالے سے نیتن یاہو کی پالیسیوں پرتنقیدشامل ہے۔ یہ سب عمومی طورپر  داخلی مُعاملات سمجھے جاتے ہیں،مگرامریکہ نے اعلانیہ طور پرنیتن یاہو کی اِن پالیسیوں پرتنقیدکی اوراُس نے اپنی  وفادارجماعتوں کوعدلیہ پر حاوی ہونے کے لئے نیتن یاہو کے اقدامات کی مخالفت کرنے کی ترغیب دی۔

 

یہودی اپوزیشن پارٹیوں نےنیتن یاہوکوزیادہ مہلت نہیں دی بلکہ اس کےخلاف وسیع پیمانےپربھرپُوراحتجاج ایسے زوروشور اورقوت سے شروع ہوگیا جس سے یہودی وجود پہلے واقف نہ تھا۔ اِقتدارکےلئے ایک اعصاب شِکن جنگ شروع ہوگئی اور یوں یہودی ریاست میں ایسی نئی صورتِ حال پیدا ہوئی  جو اس سے پہلےاس پیمانے پرکبھی نہ دیکھی گئی تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں افراد نے حکومت  اورحکومت کی جانب سےعَدلیہ کو اپنی مٹھی میں لینے کےاقدامات کےخلاف مُظاہرے کئے، مظاہرین نےحکومتی عُہدہ داروں کے گھروں کا مُحاصرہ کرلیا، سڑکیں بندکردیں، ٹائر جلائے اورسَڑکوں پرگاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ یہودی پولیس کی جانب سے مُظاہرین کے خلاف آنسوُگیس اور دستی بموں کااستعمال بھی کیاگیا لیکن معاملات مزید بِگڑتے ہی چلے گئے۔  بعض پولیس حُکام نے مُظاہرین کو منتشر کرنے کےلئےطاقت کے استعمال کے احکامات ماننےسے انکارکردیا۔اپوزیشن اورحکومت کے درمیان اختلافات شدت اختیارکرگئے۔ یہودی دومخالف دھڑوں میں تقسیم ہوگئے۔ سرمایہ کارگروپ، یہودی ریاست سے بھاگنےکی راہ دیکھنےلگے اور 50 کےقریب بڑی سرمایہ دارکمپنیاں یہودی ریاست سےنکل گئیں۔ رِیزروافسران نےبھی حکُومتی احکامات تسلیم نہ کرنےکااعلان کردیا۔۔۔اورحکومتی حامیوں اور حزبِ اختلاف کے حامیوں کےدرمیان حالات ہرسطح پرشِدّت اختیارکرگئے۔بائیڈن انتظامیہ کےمؤقف سے نیتن  یاہو کے خلاف اپوزیشن کی حمایت و مدد کرنے کی واضح بُوآ رہی تھی۔

 

سوم : ان حالات کے تناظر اور انتشار سے مُشابہ اس صُورتِ حال میں نیتن یاہو نے اپنی قیادت میں یہودیوں کو اِکٹھا کرنے کی کوشش کی اور پہلے سے سُلگتے فلسطینی خطہ میں جلتی پرتیل چھِڑکنے لگا۔ یوں اِس کےبعدمسجدِاقصیٰ پردھاوابولنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔جنین اورنابلس میں قتل وغارت کابازارگرم کیاگیا۔ نیتن یاہوداخلی صُورتِ حال کومعمُول پرلانےکےلئےیہودیوں کو فلسطینیوں کے خلاف اپنا سخت موقف دکھاناچاہتاتھاتاکہ وہ عدالتی نظام کو اپنی حمایت میں تبدیل کرے اوریہودی ریاست کی عدالتوں میں موجوداُس کےخلاف کرپشن کےمقدمات واپس لئےجاسکیں،کیونکہ کرپشن کےیہ مقدمات ایک طویل عرصےسےاُس کےسَرپرلٹکتی تلوارکی طرح ہیں، تاہم ابھی تک ایسا کُچھ نہیں ہُوا۔ بلکہ فلسطینیوں کےساتھ حالات کوکشیدہ کرنا اُسی کےخِلاف اُلٹاپڑگیا  کیونکہ جنین کیمپ کے قتلِ عام کے تبادلہ میں القدس میں آٹھ یہودیوں کوقتل کیاگیا۔اسی طرح نابلس قتلِ عام کے بعدحوارہ اوراَریحا میں بھی حملےکئےگئے،جس پرنیتن یاہوکوزیادہ پریشانی کاسامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر تب، جب یہودی ریاست کےاندراُس کو اپوزیشن کی مزیدمُخالفت کا سامناکرنا پڑاجس کی وجہ سے اُس پر امن وامان بحال کرنےمیں ناکامی کااِلزام لگایاگیا اور یہ کہاگیا کہ اس کی پالیسیوں کی وجہ سےیہودیوں کو فلسطینیوں کےحملوں کاسامناہواہے، اور یوں نیتن یاہو کوئی اورمتبادل حل تلاش کرنے لگا۔

 

چہارم  : حالات میں اِس کشیدگی کے باعث، نیتن یاہو نے فوری طورپراپنامنصوبہ تبدیل کردیا اور بڑی تیزی سے اِیران پرحملے کی طرف متوجہ ہواکیونکہ وہ اس کے ذریعے یہودیوں کے جتھوں کو اپنی قیادت میں متحد رکھناچاہتا تھا اور اپنی حکومت کو بچانا چاہتا تھا۔اور ایسا کرنے کے متعدد اسباب ہیں جن میں سےنُمایاں یہ ہیں:

 

جہاں ایک طرف فلسطینی یہودی حملوں پرجوابی وارکرتےرہتےہیں لیکن دُوسری طرف آس پاس اورقریبی مسُلمان ممالک کی حکومتیں  سَرجھکائے تابعدار بنی رہتی ہیں اور کبھی کوئی مؤثرجواب تک نہیں دے پاتیں۔ نہ ہی شام نے یہودی حملوں کا کوئی جواب دیا اور نہ ہی عراق نے، حتیٰ کہ اسی طرح ایران نے بھی اصفہان کی اسلحہ بنانے کی عسکری فیکٹری پرڈرون حملوں کا الزام یہودی وجودپر لگایا لیکن اس کے جواب میں دوہفتےگُزرجانے کےبعدایران کی جانب سے بحیرۂ عرب میں ایک بحری جہاز پرڈرون کے ذریعےمعمولی سی فائرنگ کی گئی ، اس جہاز کا مالک ایک یہودی تھامگراِس فائرنگ سے کسی بندےکو ایک بھی خَراش تک نہ آئی  بلکہ  کشتی کا مَالی نقصان بھی نہ ہونے کے برابرہُوا۔اس سے قبل ایران نے یہودی وجودپر ایٹمی تنصیبات کونُقصان پہنچانے کا الزام لگایا جس کے بارے میں سابق ایرانی صدرنےکہاتھا کہ اس سے ایران کودس اَرب ڈالر کا نقصان ہوا مگرایران نے اس پر بھی کوئی جوابی کاروائی نہ کی۔اور اِسی طرح کے کئی اور واقعات بھی ہیں۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ نیتن یاہوکو اندازہ تھا کہ ایران پرحملہ کرنےکا ردِعمل بہت ہی معمولی ہوگا۔اور اِس سے وہ اپنی توقعات کےمُطابق کامیابی حاصل کرلےگا اوراس سےاُسے ایسےحملوں کوجاری رکھنے میں شَہہ ملےگی۔

 

ایٹمی مسئلہ کے حوالے سے بھی ایران کو عالمی سطح پرمُسلسل سخت تنقید کا سامناہے اور بڑی طاقتوں کےساتھ ایٹمی معاہدےکی بحالی کے مذاکرات کامیاب نہیں ہورہے۔ اور چونکہ یہودی وجود بار بار یہ اعلان کرتا  ہے کہ ایران کوایٹمی قوت حاصل کرنےکی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اِسی بات کا بہانہ وہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پرحملےکرتاہے۔ اسی ضمن میں مغرب،ایران پرحد سے آگے بڑھنے اوریورینیم کی افزودگی میں اضافے  کا الزام لگاتاہے :(ایران صرف بارہ دنوں میں  ایٹم بم بنانے کےلیے اسلحہ کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد کی  اتنی پروڈکشن کرسکتا ہے جو اس مقصدکےلیے کافی ہے۔سائنس اورعالمی سیکورٹی کے ادارےکے مطابق، ایران ایک مہینے کےاندرچار مزیدبَم تیارکرسکتاہے۔  اس ادارے نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایٹمی توانائی کےعالمی ادارےسے حاصل ہونے والی معلومات کےمُطابق ایرانی حکومت صِرف تین مہینوں میں اتنا یورینیم افزودہ کرسکتی ہےکہ جِس سےسات ایٹم بم بنائےجا سکتے ہیں۔العربیہ نیٹ 05 مارچ، 2023)۔

 

پنجم : باریک بینی سےدیکھنےسےمعلوم ہوتاہےکہ نیتن یاہونےاِن اُمورپرتوجہ مرکوزکی اورایران پربھرپورحَملہ کرکے یہودیوں کواپنی حکومت کےپیچھےصَف بستہ کرنے کی کوشش  میں پیش رَفت کی تاکہ اندرونی انتشار ختم ہو جو اس کی حکومت  کو کمزورکرسکتاہے، اگروہ  کسی اور میدان میں کوئی اوربڑی کاروائی نہیں کرتا بلکہ حالات کے سامنےسرنِگوں ہوتاہے،قُوت وطاقت کے استعمال سے ہی داخلی حالات اس کے حق میں سازگاراور موافق ہو سکتے ہیں۔ ظاہری بات ہےکہ نیتن یاہوحکومت کے اِن عزائم اورمنصوبوں کی  خبریں واشنگٹن تک پہنچ گئیں اور اُس نے نیتن یاہوحکومت کو ایسا کوئی بھی قدم اُٹھانےسےمنع کرنےکےلئے اِقدامات کرنے میں جلدی کی۔ کیونکہ موجودہ حالات میں اپنےمفادات کےمُطابق امریکہ کی توجہ رُوس کی یوکرین کے ساتھ جنگ پر مرکوز ہے اور اِس کے علاوہ چین کا معاملہ بھی دَرپیش ہے،چُنانچہ وہ اس وقت خطے میں ایران اور یہودی وجُودکےدرمیان  جنگ کا خطرہ مَول نہیں لیناچاہتا۔ جب امریکہ نے یہ دیکھاکہ  نیتن یا ہواپنے داخلی مسائل کوحَل کرنےکےلئے ایران کے خلاف جنگ کےبارےمیں سنجیدگی سےغَورکر رہاہے تو بائیڈن نےمُضطرب ہوکر مداخلت کی کیونکہ امریکہ بارہا اپنے بیانات میں اعلان کرچُکا ہےکہ وہ یہودی وجودکوتحفظ فراہم کرنےکا پابند ہےمگرجیسا کہ ہم اُوپرذکرکرچکے ہیں کہ اس وقت امریکہ دیگر معاملات میں اُلجھا ہوا ہے ۔

 

ششم : لہٰذا یہ وہ وجوہات ہیں کہ اعلیٰ سطحی امریکی عسکری عہدہ داران کا یہودی وجودکے دورےکا مقصد  نیتن یا ہوکو اس جنگ سےبَاز رکھناتھا  تاکہ نیتن یاہو ایک ایسے وقت میں مداخلت کرکے بائیڈن کو مزید اضطراب میں مُبتلا نہ کردے جبکہ امریکہ پہلے ہی یوکرین پررُوسی حملےاورچین کے حوالے سےخاصا اُلجھن کا شکار ہے۔اُوپربیان کئے گئے معاملات کے علاوہ امریکی مفادات کی خاطراِن دوروں کےدو مزید پہلو بھی نظرآئے :

 

1: امریکہ نےعالمی ایٹمی توانائی کمیشن کےڈائریکٹرپر زور دیا کہ وہ ایٹمی معاملات پر نرم بیانات دے اورایران  کےساتھ نرم رویہ روا رکھے چُنانچہ اس کمیشن کےسَربراہ نے عین اُسی وقت ایران کا دورہ کیااور اعلیٰ سطح کے ایرانی عدہ داران سے مُلاقاتیں کیں جب امریکی عُہدہ دارخطے کےدورے میں مصروف تھےاور عالمی ایٹمی توانائی کمیشن کے ڈائریکٹر نے اس دورے کے دوران اپنےاطمینان کااظہارکرتےہوئےکہا: (ایران نے کئی ایٹمی تنصیبات میں مُعائنہ اورنگرانی کےلیے کیمرے نصب کرنےکےسلِسلےکوجَاری رکھنےکی حامی بھرلی ہے۔۔RT ،4مارچ، 2023)۔اور ایٹمی توانائی کمیشن کا اس کےبعدکابیان قابلِ توجہ ہے، الجزیرہ نیٹ کے مطابق 5مارچ،2023 کوگُزشتہ روز یعنی ہفتے کوتہران کےدورےکےدوران گروسیGrossi نےکہا کہ’’ایٹمی تنصیبات پر کسی بھی قِسم کا عسکری حملہ غیرقانونی ہے۔ نیتن یا ہونےاس پَر جواب دیتے ہوئےکہا : ’’ رافیل گروسی Rafael Grossiنےایک غیرمُناسب بیان دیاہے۔

 

2: نیتن یاہو کے خلاف بڑے پیمانے پر داخلی سطح کے احتجاج۔ اس حقیقت کے باوجود کہ امریکہ  نہیں چاہتاکہ یہودی وجود فی الحال ایران کےخلاف جنگ میں مُلوث ہو،اُسی طرح امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ نیتن یاہو اندرونی انتشار میں پھنسا رہے اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے اور زور پکڑتا جائے تاکہ اس  کے ذریعے نیتن یاہو کی حکومت کا خاتمہ کرکے دوبارہ امریکی حمایتیوں کی حکومت قائم کی جائے یعنی  ڈیموکریٹک پارٹی کےحامی دوبارہ یہودی ریاست میں بَرسَرِ اقتدارآئیں۔۔ خاص کراس لئے کہ چونکہ یہودی وجود کے عسکری اور سیاسی دائرۂ کار میں امریکہ کا خاصا اثرورَسوخ ہے۔

 

ہفتم  : اس سب سے یہ لگ رہا ہے کہ امریکہ  نیتن یاہو کو ایران پر حملے سے باز رکھنے میں کامیاب ہوجائےگا خاص طور پر اس وجہ سے کہ بزدل یہودی وجوداَمریکی حمایت کےبغیراس قسم کےحَملےنہیں کرسکتا۔

 

﴿ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ﴾

’’یہ جہاں بھی جائیں ان پر ذلت مسلط کی گئی ہے سوائےاس کےکہ اللہ کی رسی کوپکڑ لیں یا لوگوں(مسلمانوں)کی رسی پکڑ لیں(آل عمراٰن؛ 3:112)

 

ایک پہلو تو یہ ہے کہ انبیاء کےسلسلے کے بعد اللہ کی رسی کو تو چھوڑ دیا گیا لیکن لوگوں کی رسی ہی اب اُن کی حقیقت ہے،جبکہ  دوسری طرف،   نیتن یاہو جب ایران پر حملے کے حوالے سے نا امید ہوجائے گاتووہ امریکن ریپبلکن پارٹی میں اپنےآقاؤں سے خفیہ سَرگوشیاں کرے گا اور  اپنے خلاف اپوزیشن کی تحریکوں کو ٹھنڈا کرنے کےلیے لامحالہ کہیں اورجارحیت کااظہارکرے گا اور جب اُس کا کہیں اور بَس نہ چَل پائے گا تو اس کےسامنےفلسطین کےمَحاذکوہی گرم کرنےکےعلاوہ اورکوئی راستہ نہیں ہوگااوروہ غزہ کی پٹی یاپھرلبنان پر حملہ کردے گا کیونکہ اُس پر اقتدار میں رہنے کا بُھوت سوارہے، اور دائیں بازو کی جماعتوں اور اُن مذہبی انتہا پسندیہودیوں کو، جو اُس سےبھی کہیں زیادہ ہرجگہ مُسلمانوں کےخون کےپیاسےہیں، اپنے گِردجمع کرنے کے بعدوہ کسی بھی قیمت پر اقتدارکو چھوڑنے کاسوچ بھی نہیں سکتا۔

 

  معاملات کی صُورتحال سےیہی نظرآرہا ہے ، جیسا کہ جمعرات 9 مارچ 2023 کو ’’سماء الاخباریۃنےیہ خبرشائع کی کہ ( قابض یہودی فوج کےہاتھوں تین فلسطینی شہیدجن کوجَنین کےعلاقےجبع Jaba میں آج صبح قتل کیاگیا۔ اسرائیلی فورسز  جنین کےجنوب میں جبع کےعلاقے میں داخل ہوئیں اورایک گاڑی پرکُھلی فائرنگ کی جس میں چار نوجوان سوار تھےجن میں سے تین موقع پرشہید ہوگئے۔۔۔ پھر  مزاحمت کاروں کے ساتھ تصادم کے دوران ان فوجیوں کے نکلنے سے پہلے فوجی کمک علاقے میں پہنچادی گئی)۔ اسی طرح فرانس پریسFrance24 نے 10مارچ 2023 کوخبرشائع کی  (القدس- اے ایف پی؛  مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فلسطینی شہری یہودی آبادکار کی فائرنگ سے قتل ہوگیا، جیساکہ اسرائیلی فوج اورفلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیاہے کہ یہ ایک نئےپُرتشدد دِن کی صُبح ہےجس میں چارفلسطینی قتل کئے گئےجن میں سےایک تَل ابیب میں حَملہ کرنےوالاتھا جس میں تین لوگ زخمی ہوئےتھے۔جُمعرات کوایک فلسطینی نے پولیس کی گولی سےقتل ہونےسےپہلےتَل اَبیب کےوَسط میں دیزنگوف Dizengoffکے علاقے میں  فائرنگ کردی جس میں تین لوگ زخمی ہوگئے۔ اِسرائیلی طِبی ذرائع نےبتایاکہ ایک زخمی کی حالت’’نازکہے۔۔ دوسری طرف اسرائیلی پولیس نےکہا کہ اُس نے دوافراد کوگرفتارکرلیاہے۔۔۔جن میں سے ایک تَل ابیب کےجنوب میں رملہ شہر سے تعلق رکھتاہے اور دوسرے کا تعلق  النقب (جنوب)میں  رملہ شہر Kisefaسےہے’’ جن پر دہشت گرد دیدیزنگوف کے حملہ آورکو منتقل کرنے کا الزام ہے

 

یہ واضح سی بات ہے کہ یہودی ریاست ہی لوگوں کو قتل کرتی ہے اور اُنہیں گرفتار بھی کرتی ہے کیونکہ وہ اپنے گِرد مسلمان حکمرانوں کے رَدِعمل کے حوالے سے قطعی بے خوف وخطرہے!

 

ہشتم  : خلُاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ یہودی وجودجو خطے میں ایک ناسُورکی طرح موجودہےاور خطے کا کوئی حکمران اس کو جَڑ سے اُکھاڑنے یا اس کو ٹکر دینے کی ہمت نہیں رکھتا بلکہ وہ تواِس کےساتھ حالات کومعمول پرلانےکےلئےمرے جارہےہیں! اور اِسی لیے یہ ناسور مُسلسل اپنی توسیع کئے جارہا ہے اور اپنی راہ میں حائل ہر اُس رُکاوٹ کو ختم کررہا ہے جسے وہ اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔۔۔ اور یہ سب کُچھ وہ اکیلےنہیں کرتا بلکہ مُسلمانوں پرحُکمرانی کرنےوالوں کے تعاون  یااُن کی خاموشی سےفائدہ اٹھاکرکَرتاہے!یہ ناسور اسلامی سَرزمین پرقابض  ہے، فلسطین کی مُبارک سَرزمین پر،اوراِس کےساتھ تعلق حالتِ جنگ کاتعلق ہی ہوسکتاہے، اس کے ساتھ کسی بھی قِسم کے حالات کومعمول پرلاناسنگین جُرم اورغداری ہے:

 

﴿إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾

’’اللہ ان لوگوں سےتعلق سےتمہیں منع کرتاہےجنہوں نے دین کےبارےمیں تم سےقتال کیا اورتمہیں تمہارے گھروں سےنکالا اور تمہیں نکالےجانےمیں مددکی  تم ان سے دوستی مَت کروجو ان سے دوستی کرے گا وہی ظالم ہے(الممتحنہ:9)

 

یہ ہے وہ شرعی حکم جس کوعملی جامہ پہنانا فرض ہے،اور اگرمسلمانوں  پرحُکمرانی کرنےوالے ممالک اس فرض کوپُورا نہیں کرنا چاہتے یا ان کواُن کا استعماری آقا اس بات کی اِجازت نہیں دیتا تو بھی یہ اُمت زندہ امت ہے  اوریہ زیادہ دیراس ذِلت پر خاموش نہ رہے گی،اور اُمت کی یہ خاموشی کسی بھُوکے شیر کے حملہ آور ہونے سے پہلے گھات میں رہنے جیسی خاموشی کی طرح ہے۔ پس جلد ہی اسلامی طرزِ زندگی دوبارہ واپس آئےگی اور اللہ کےاذن سےخلافتِ راشدہ قائم ہوگی، خلیفہ پُوری اُمت کواپنے ساتھ یکجاکرےگا،اسلامی افواج کی قیادت کرے گا،یہودکو ذلیل کرکےمسجدِ اقصٰی میں اُسی طرح  قدم رکھے گا جیسے پہلے مسلمانوں نے رکھاتھا اور یوں یہود کا شیرازہ بکھر جائے گا۔

 

﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَرِيباً﴾

’’اور وہ کہتے ہیں کہ یہ کب ہوگا کہہ دیجئے، ممکن ہے قریب ہی ہو(الاسراء:51)

 

18 شعبان 1444 ہجری

بمطابق، 10 مارچ، 2023

Last modified onجمعہ, 24 مارچ 2023 05:25

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک