الأربعاء، 18 رجب 1444| 2023/02/08
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال جواب

جاپان کی نئی دفاعی حکمت عملی

 

سوال:

 

  جاپان نے نئی دفاعی حکمت عملی  اپنائی ہے جس کا اعلان چند دن پہلے کیا ، یہ نئی  دفاعی حکمت عملی  عسکری اخرجات میں بڑے اضافے پر مشتمل ہے، کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ جاپان  نے اپنی اُس عسکری قوت کو بحال کر رہا ہے جو دوسری عالمی جنگ سے پہلے اسے حاصل تھی؟ اس سے اس کے اہداف کیا ہیں؟ کیا یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے یا یہ فیصلہ بیرونی اثر خاص طور پر امریکہ کی وجہ سے کیا گیا ہے؟

 

جواب:

 

جی ہاں جاپان نے نئی دفاعی حکمت عملی اپنالی ہےاور اس حوالے سےقانونی تبدیلیوں کی منظوری دی ہے۔ جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا کی حکومت نے 16/12/2022 کوتین دفاعی دستاویزات کی منظوری دی؛  پہلی "جاپان کی قومی سلامتی کی حکمت عملی "، دوسری "قومی دفاع کی حکمت عملی "، اور تیسری "دفاع کی تعمیر کا پروگرام"۔ کم سے کم یہ کہا جاسکتا ہے کہ جاپان نے دوسری عالمی جنگ کے بعد کا صفحہ پلٹ دیا، اور سات دہائیوں سے شکست خوردگی کی حالت کو ختم کرنے کےلیے قدم اٹھایاہے، اور اپنی عسکری قوت  کو  بڑھنے سے روکنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کردیا ہے۔ اس معاملےکے تمام پہلوں کو سمجھنے کےلیے  ہم مندرجہ ذیل امور کو پیش  کرتے ہیں:

 

پہلا:اس حکمت عملی کے متعلق:

1۔ اس حکمت عملی کے ذریعے جاپان نےجاپانی دستور کی اُن شقوں پر عملدرآمد ختم کرنے کا اعلان کیا  جن کو امریکہ نے جاپان پر قبضے کے دوران وضع کیا تھا  اور جاپان 1947سے اس پر عمل پیرا تھا۔ اس دستور نے جاپان کو عسکری قوت بننے سے باز رکھا ہوا تھا  اور جاپان کو اپنی سرحدوں سے باہر کسی قسم کی عسکری کاروائی کرنےسے روکا ہوا تھا۔۔اس کےباوجود کہ نئی جاپانی حکمت عملی  جاپان کی جانب سے"جوابی" اور مشروط حملے کی بات کرتی ہے اور حملے میں پہل کرنے سے باز رکھتی ہے تاہم  یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جاپان اپنی سرحدوں سے باہر فوجی کارروائی کرنے کی پابندی سے آزاد ہوگیا ہے۔اس حکمت عملی کے تحت جاپان اپنی عسکری اخراجات کو 2027  تک دگنا کر ے گا۔ پہلے اس کے عسکری اخراجات اس کی کُل ملکی پیداوار ( جی ڈی پی) کا 1 فیصد تھے، جو اب بڑھ کر2 فیصد ہوجائیں گے (نیٹو ممالک کے اخراجات کے برابر)، اور یہ حکومتی خرچے کا10 فیصد بنتا ہے۔(الجزیرہ 16/12/2022 )۔ یوں جاپان عسکری اخراجات کے لحاظ سے امریکہ اور چین کے بعد تیسرے نمبر پر آجائے گا۔

 

2۔ یہ حکمت عملی  کہتی ہے کہ یہ "بدترین منظرنامے"کی تیاری ہے، اور یہ کہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کےبعد"امن وامان کی صورت حال سخت خراب اور نہایت پیچیدہ " ہے، اور اسے بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ اس لیے امریکہ سے "ٹام ہاک" طرز کے500  بین البراعظمی بلاسٹک اور ایس ایم 6 میزائل خریدنے کی ضرورت ہے تاکہ جاپان دور سے ہونے والے کسی بیرونی حملے کا مقابلہ کرنے کےلیے تیار ہو۔

 

3۔ جاپان کے دستور کی شق نمبر نو کی عبارت یوں تھی،"جاپانی قوم ہمیشہ کےلیے جنگ سے دستبردار ہے، ریاست کو جنگ کا حق نہیں، وہ بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے کےلیے کسی بھی قسم کی شدت پسندانہ اور دھمکی آمیز اقدام کے حق سے محروم ہے اورریاست یہ تسلیم ہی نہیں کرتی کہ اس کو جنگ میں کودنے کا حق ہے۔"  اب اس شق کو ختم کیا گیا ہےتاکہ جاپان نئی جنگی پالیسی اپنائے جو اندرونی طور پر بڑی تبدیلیوں کا تقاضا کرتی ہےجیسے جنگی اخراجات،   عسکری صنعت اور ایک ایسی  حقیقی فوج کی بناوٹ جو دوسری عالمی جنگ سے پہلے کی زبردست جاپانی فوج کی یاد کو اذہان میں تازہ کردے۔

 

4۔ جاپان نے اپنے پڑوسیوں اور  دوسری بین الاقوامی قوتوں کے ساتھ اس  پُرامن بقائے باہمی کی پالیسی کا خاتمہ کیا جس کو اختیار کیا گیاہوا تھا،  نئی ترامیم کے مطابق جاپانی فوج  ان ممالک کے خلاف"’ جوابی حملے" کرے گی جن کو دشمن ممالک سمجھتی ہے۔  نئی حکمت عملی میں "شر کےتکون"کو چیلنج کرنا بھی شامل ہے اگرچہ اس کو یہ نام نہیں دیا گیاہے۔ "شر کی اس تکون" کی نمائندگی چین کرتا  ہے جس کو "جاپان کا سب سے بڑا اسٹریٹیجک چیلنج"کا نام دیا گیا ہے، دوسرا اس تکون میں شمالی کوریا ہے جس کو" جاپان کےلیے  آج کا  بڑا خطرہ اور چیلنج"  کا نام دیا گیا ہے، جبکہ تیسرا روس ہے جس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ وہ"اپنے اہداف کے حصول کےلیے عسکری قوت استعمال کرنے پر رضامند ہےجیسا کہ وہ یوکرین میں کر رہا ہے۔۔اور ایشیا  اور بحر الکاہل میں اس کی  عسکری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ اس کی اسٹریٹیجک تعاون کی وجہ سے  سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔۔یہ کہا گیا ہے کہ یہ امن کے حوالے سے سخت تشویشناک بات ہے۔"(  فرانس 24، 16/12/2022

 

دوسرا: اس حکمت عملی کے حوالے سے بین الاقوامی موقف پر نظر ڈالنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے:

1۔چین نے اس حکمت عملی کی شدید مخالفت اور باضابطہ احتجاج کیا ہے۔ [نئی جاپانی حکمت عملی نے، اپنے سرکاری اعلان سے پہلے ہی، بیجنگ کی ناراضگی کو ہوا دی، جو بیسویں صدی کے پہلے نصف میں مسلسل سفاک جاپانی عسکریت پسندی کے بارے میں بات کرتا ہے، جس میں چین اس کا ایک شکار تھا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے جمعہ کو کہا، "جاپانی فریق حقائق کو نظر انداز کرتا ہے، اور چین-جاپان تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفاہمت سے اپنی وابستگی سے انحراف کرتا ہے، اور بے بنیاد طور پر چین کو بدنام کرتا ہے۔ چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔۔۔" (فرانس 24، 16/12/2022)]۔

 

2۔ شمالی کوریا نے جاپانی حکمت عملی پر شدید تنقید کی، (شمالی کوریا کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا،"جاپان ۔۔۔نےنئی سیکورٹی حکمت عملی اپنائی ہے، اوردوسرے ممالک پر پہلے حملہ کرنے کی صلاحیت کی تشکیل دینے کا جذبہ پیدا کررہا ہے۔۔۔جاپان کی جانب سے باقعدہ طور پر  نئے اقدامی  منصوبے سے مشرقی ایشیا میں سیکورٹی ماحول بنیادی طور تبدیل ہو جائے گا۔ "ترجمان نے کہا کہ ٹوکیو کو احساس ہوگا کہ"یہ آپشن بہت خطرناک اور بدترین ہے۔"( سکائی نیوز عربی 20/12/2022 ))۔

 

3۔ جہاں تک امریکہ کی بات ہے، ( واشنگٹن نے اس حکمت عملی کو خوش آئند قرار دیا۔ وائٹ ہاوس کے قومی سلامتی کے مشیر  جیک سالیوان نے کہا،"جاپان کی جانب سے دفاعی اخراجات میں بھر پور اضافے سے جاپان -امریکی اتحاد مضبوط اور جدید خطوط پر استوار ہوگا"( فرانس,2416/12/2022))۔ اسی طرح امریکی سیکریٹری دفاع  لویڈ اوسٹن نے جاپان کی جانب سے نئی حکمت عملی کے دستاویزات کے اجرا کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا، ( جاپان کی قومی دفاعی حکمت عملی اور امریکہ کی قومی حکمت عملی کے درمیان ہم آہنگی ہے۔ (الشرق الاوسط، 17/12/2022 ))۔ اور (صدر جوبائیڈن نے کا کہا کہ ان کا ملک "اس پریشان کن وقت میں جاپان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، اور ہمارا اتحاد آزاد اور کھلے بحر ہند اور بحرالکاہل کے لیے ایک اہم ستون ہے۔" وائٹ ہاوس نے کہا کہ  نئی جاپانی  دفاعی حکمت عملی کا ہدف امریکہ کے ساتھ عسکری اتحاد کو تقویت دینا ہے۔(الجزیرہ نیٹ 16/12/2022))۔

 

تیسرا: یہ ہے جاپان کی نئی دفاعی حکمت عملی ، اس کو باریک بینی سے دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے:

1۔ جان کی جانب سے نئی دفاعی حکمت عملی اختیار کرنا، جس کا اعلان اس نے 16/12/2022 کو  کیا، اچانک نہیں تھا اگرچہ یہ بڑا واقعہ ہے اور اس سے جاپان کی ستر سالہ کمزوری  کا دور ختم ہوجائے گا۔ جاپانی وزارت دفاع نے 22/7/2022کو "وائٹ پیپر" شائع کیا  جس میں اس دفاعی پالیسی کو  بیان کیا گیا جس پر چلنا بین الاقوامی چیلنجوں کا سامنا کرنے کےلیے ضروری ہے۔ "وائٹ پیپر" ستاویز نے اس حالت کا خاتمہ کیا کیونکہ اس میں جاپان کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کا نقطہ نظر پیش کیا گیا، جیسے چین کی بڑھتی ہوئی  عسکری طاقت اور تائیوان پر جنگ مسلط کرنے کا خطرہ،  چین  کا روس کے ساتھ عسکری تعاون کا خطرہ، روس ،چین اور شمالی کوریا کی جانب سے ایشیا میں جنگ شروع کرنے کا خطرہ،  اور وزارت دفاع کے اس دستاویز نے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے عسکری ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے اور کثیر الجہتی عسکری قوت بنانے کے لیے،  جس میں فضائیہ بھی شامل ہو، عسکری اخراجات میں اضافے کی اہمیت کو بیان کیا۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جاپان کے عزائم بلند ہیں ۔ہوسکتاہے وہ اپنے اوپر پڑا دوسری جنگ عظیم میں شکست  کا غبار جھاڑ دے گا۔ جاپان بحر الکاہل کے خطے میں مقابلہ بازی کی دوڑ میں شامل ہوگا جس میں جنوبی چین کے سمندر بھی شامل ہے جہاں چین اور جاپان کے درمیان متنازعہ جزائر موجود ہیں۔

 

2۔ اس سے قبل جاپان کے سابق وزیر اعظم "شینزو آبی"جاپان -امریکہ مشترکہ حکمت عملی تک پہنچنے کی تجویز کے معمار تھے،   جو بڑھتے ہوئے چینی اثرورسخ کا مقابلہ کرنے کےلیے  بحر ہند اور بحر الکاہل پر ایک ساتھ نظر  رکھے گی۔ اس تجویز کو امریکہ نے اختیار کیا جس میں امریکہ- جاپان تعاون کے ساتھ ساتھ  باقی اتحادی بھی شامل تھے جو تجارت، سرمایہ کاری  اور بحر ہند اور بحر الکاہل میں پرامن جہاز رانی کےلیے اکٹھے ہیں، اور اس میں آسٹریلیا اور ہندوستان کو بھی شامل کیا گیا۔( 8/11/2017

 

3۔ اس نئی جاپانی حکمت عملی اور اس سے پہلے والی حکمت عملی سے یہ واضح ہوتاہے کہ جاپان آج اپنی عسکری قوت کو دوبارہ حاصل کرنے، ماضی کے غبار کو جھاڑنے اور ایشیا میں لڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔   دوسری جنگ عظیم کی ابتدا میں جاپان ہی اس خطے میں بالادست ریاست تھی، وہی چین، کوریا     اور سمندری جزائر، اور ایشیا کے دیگر ممالک پر چھاتا چلا جارہا تھا ، بالکل ویسے ہی جیسے جرمن فوج شکست سے پہلے  یورپ میں ہر جانب بڑھتی چلی جارہی تھی۔ جاپان  کو ایٹمی حملے کا سامنا کرنا پڑا، اور ا  ٓج کے دن تک یہ واحد ملک ہے جس پر ایٹمی حملہ ہوا جب اگست 1945میں امریکی طیاروں نے ہیروشیما اور ناگا ساکی پر دو ایٹم بم گرائے جس سے دولاکھ سے زیادہ لوگ تو فوراً مارے گئے تھے۔اس کے بعد جاپان نے 15 اگست 1945اس ایٹمی حملے کے ایک ہفتے بعد ہتھیار ڈالنے کا اعلان کردیا اور امریکہ کی قیادت میں اتحادی جاپان میں داخل ہوئے اور اس پر قبضہ کیا۔

 

4۔ جاپان کی قدیم سامراجی تاریخ کے پیش نظر،  جاپان کی عسکری تیاری پر جاپانیوں کے اندر عظمت کے جذبات امنڈ آئے ہیں اور جاپانی عوام نے اس کو  خوش آئند قرار دیا ہے۔ مگر جاپان کے ایک طویل عرصے سے عسکریت سے دور رہنے اور 1952میں اتحادیوں کے نکلنے کے بعد سے آج تک وہاں  بڑے بڑے امریکی فوجی اڈوں کی موجود گی کی وجہ سے جاپان کی جانب سے ایک بار پھرعسکری قوت حاصل کرنے کا اعلان مکمل طور پر آزادانہ فیصلہ نہیں ہے۔

 

5۔ جاپان کی جانب سے اپنی فوج اور فوجی اتحاد کے لیے نئی پالیسی اپنانے اور علاقائی خطرات کے بارے میں اس کے نقطہ نظر کی حمایت میں شاید فوری طور پر امریکی بیانات بلا شبہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جاپان کی عسکریت پسندی خاص طور پر چینی خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی حکمت عملی کی بنیاد ہے۔ امریکہ اپنی افواج کو چین کے ارد گرد منتقل کر رہا ہے اور تائیوان کے اردگرد عدم استحکام پیدا کر رہا ہے اور چین کے ساتھ جنگ کا ماحول پیدا کر رہا ہے، جیسا کہ جب امریکی صدر جو بائیڈن سے یہ سوال کیا گیا کہ چین کی جانب سے تائیوان پر حملے کی صورت میں کیا امریکہ براہ راست جنگ میں شامل ہوگا تو  بائیڈن نے کہا: ہاں۔

 

6۔ اسی طرح، سابق صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے شمالی کوریا کی اشتعال انگیزی کا مشاہدہ کیا گیا، اور جاپان کو عسکری طور پر اٹھنے کی ترغیب دی اور جاپانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ٹرمپ نے انہیں "جنگجو قوم" کہا، یہ 2017 جاپان کے دورے سے پہلے کی بات ہے: (۔۔۔ ٹرمپ جمعے کے دن بطور صدر ایشیا کے اپنے حساس دورے سے پہلے  بات کر رہے تھے۔اس دورے میں، جس میں خاص طور پر جاپان اور جنوبی کوریا شامل ہیں، شمالی کوریا کے جوہری خطرے کا موضوع غلب ہے۔۔۔۔ٹرمپ نے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا،"جاپانی جنگجو قوم  ہے، میں چین سے کہتا ہوں  اور ہر سننے والے سے کہتا ہوں کہ  میرا مطلب ہے، اگر آپ  شمالی کوریا کے معاملے کو ایسے ہی جاری رہنے کی اجازت دیتے ہیں تو جلد ہی آپ کو جاپان کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ درپیش ہو گا۔"(مرصد نیوز۔ بین الاقوامی امور- جمعہ-03 نومبر 2017)۔ یعنی وہ چین کو دھمکی دے رہا ہے کہ جاپان شمالی کوریا کے خلاف عسکری طور پر متحرک ہوگا وہ ایسا بول رہا ہے گویا وہ جاپان کا ترجمان ہے! اسی طرح جاپان کو  دوبارہ مسلح کرنا، اگرچہ  مشرقی ایشیا کے موجودہ حالات میں جاپان کو  اس کی ضرورت ہے،  لیکن اس کے باوجود یہ مکمل امریکی منصوبہ لگ رہا ہے۔  چین کا مقابلہ کرنے کےامریکی منصوبے میں جاپان ایک مرکزی ملک بن گیا ہے۔

 

چوتھا: اب ہم  سوال کے آخری حصے کا جواب دے سکتے ہیں، یعنی  کیا یہ جاپان کا اپنا فیصلہ ہے یا یہ بیرونی اثر خاص طور پر امریکہ کی طرف سے ہے؟  جو کچھ گزر گیا اس پر غور کرنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے:

1۔جاپان کی چین پر غالب رہنے کی ایک طویل تاریخ ہے، امریکہ اور باقی یورپی استعماری ممالک کی جانب سے منع کیے جانے سے قبل  ہمیشہ جاپان چین کو اپنی کالونی بناتا رہا، یعنی  آج تک جاپانیوں تاریخ میں ان کی کامیابیوں کی باز گشت سنائی دیتی ہے اور چین بھی وقتاًفوقتاً جاپان سےان تاریخی جرائم لیے معافی کا مطالبہ کرتا رہتاہے۔ اسی طرح ایک اور پہلو سے جو کہ کم اہم نہیں  یعنی جاپانی معیشت امریکہ اور چین کے بعد دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے اور وہ چین کا مقابلہ کرنے  کی پالیسی پر خرچ کرنے پر قادر ہے،  اس کے ساتھ ساتھ جاپان کی صنعت اور ٹیکنالوجی کی  بڑی صلاحیت اس کو اکیلے بھی چین کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہے بشرطیکہ وہ دوبارہ عسکری قوت حاصل کرے۔

 

2 ۔ امریکہ چاہتا ہے کہ جاپان یہ سب کچھ اس کے ساتھ ایسے  اتحاد کے دائرے میں رہتے ہوئے کرےجس میں قیادت امریکہ کے پاس ہو  وہ اس طرح کہ جاپانی پالیسی امریکہ کے ہمہ گیر منصوبے کے حصے کے طور پر ہو اور جاپان کے اندر طاقت کا وہ گھمنڈ پیدا نہ ہو  کہ اس کی یاداشت واپس آجائے اور وہ امریکہ کو دشمن سمجھنے لگے اس کو یاد آجائے کہ امریکہ ہی نے اس پر ایٹم بم گرائے تھے، کیونکہ امریکہ کے ساتھ دشمنی کی جاپان کی طویل تاریخ ہے۔۔۔اس سب کی وجہ سے امریکہ چاہتا ہے کہ اس کو جاپان کی نئی حکمت عملی پر  تمام تر تفصیلات کے ساتھ مکمل کنٹرول ہو تاکہ جب ٹوکیو اپنی فوج کو بحال کرے گا تو اس حکمت عملی کو چین کے خلاف استعمال کیا جائے  اور وہ اس سےآگے بڑھ کر  امریکہ کی جانب سے ایٹم بم گرانے کو یاد نہ کرے! یہ ہے جاپان کو دوبارہ عسکری قوت بنانے کےلیے امریکی نقطہ نظر، اور یہی ایشیا میں چین کے خلاف امریکی منصوبے کی بنیاد ہے، یہ منصوبہ امریکہ کی جانب سے جرمنی کو  مشرقی یورپ میں روس کے خلاف مسلح کرنے کے منصوبے سے بہت مشابہت رکھتاہے۔

 

3۔ اس سب کے باوجود، جاپان نے بھی جرمنی کی طرح اپنی عسکری قوت دوبارہ حاصل کرنے میں تاخیر کی۔۔یہ بات درست کہ یہ قومیں زندہ قومیں ہیں مگر تجارت اور دولت کے ان کے اذہان پر چھانے کی وجہ سے  یہ عیش وعشرت کا شکار ہوگئیں اور عزت  اور وقار کو بھول گئیں، ان کی قیادتوں  میں جنگوں اور بالادستی حاصل کرنے  کی ہمت نہیں رہی۔ اب تک جاپان اور جرمنی بھی  دوسرے پیروکاروں کی طرح امریکہ اور یورپ کے مدار میں گردش کررہے ہیں!

 

یوں جاپان اور جرمنی نے اپنی عسکری قوت بحال کرنے میں  سات دہائیوں کی تاخیر کردی اور امریکہ نے ان کو دبائے رکھا۔مگر ان اقوام کے اندر قابل ذکر زندگی ہے اس لیے یہ اپنی عسکری قوت کو بحال کرسکتے ہیں اور بہت جلد ایٹمی طاقت بن سکتی ہیں جس سے مستقبل قریب میں ان کو ایک بار پھر اپنی قوت اور عظمت کا احساس ہوگا، جس سے خود امریکہ کےلیے بھی مسائل پیدا ہوں گے، تب ان کا  زبردست تصادم ہوگا،  یہی وجہ ہے کہ امریکہ جاپان اور جرمنی کی  عسکری حکمت عملی کو ایک لمحہ بھی آنکھ بند کیے بغیر مسلسل دیکھ رہا ہے!

 

پانچواں: آج جن کو بڑے ممالک کہا جاتا ہے ان کی حقیقت پر غور کرنے والا  اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ یہ بڑے ممالک خیر یا عدل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے،  ان کےلیے خیر ان کی خواہش کا پورا ہونا ہے چاہے ان کی خواہش دوسروں کےلیے شر ہو۔  ان کےلیے عدل  دوسروں کی مشکلات سے فائدہ اٹھانا ان پر غلبہ پانا ہے چاہے یہ کھلم کھلا ظلم ہو۔  ان  کے ہاں اقدار کے پیمانے خیر اور عدل سے بہت دور ہیں،  گویا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، فارس اور روم بغیر خیر اور عدل کے دنیا پر حکمرانی کر رہے تھے، تب اسلام حقیقی خیر اور عدل، اور ایک واضح راستے کے ساتھ آیا، جس کی رات بھی دن کی طرح روشن تھے یوں حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔آج کا معاملہ بالکل گزرے کل کی طرح ہے،  کل جس طرح ان کی اصلاح ہوئی تھی آج بھی اسی طرح ان کی اصلاح ہوگی، نبوت کے نقش قدم پردوبارہ خلافت راشدہ کے قیام کے ذریعے اور ممکن ہے کہ یہ اب بہت جلد ہونے والا ہواس جابرانہ دور کے اختتام پر  جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

«...ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَة عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ»

ثُمَّ سَكَتَ."پھر جابرانہ حکمرانی ہوگی اور اس وقت تک ہوگی جب تک اللہ چاہے گااور جب اللہ چاہے گا اس کو اٹھا لے گا اس کے بعد پھر نبوت کے نقش قدم پر خلافت قائم ہوگی ۔ پھر آپﷺ خاموش ہوگئے"(اس کو أحمد اورالطيالسي  نے روایت کی ہے) 

 

اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سچ فرمایاہے۔

 

﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾

"اللہ اپنے فیصلے میں غالب ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔"(یوسف:21)

 

30 جمادى الأولى 1444ہجری

بمطابق 24/12/2022م

Last modified onجمعہ, 06 جنوری 2023 18:50

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک