الجمعة، 12 شعبان 1445| 2024/02/23
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

امریکہ ڈھٹائی کے ساتھ فلسطین میں صیہونی وجود کے تمام جرائم کا ذمہ دار ہے!

 

خبر  :

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے 15 دسمبر 2023 کو اسرائیلی حکام بشمول وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز Reuters  کے مطابق انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ" اس جنگ کی ایک اور مرحلے میں منتقلی ہوگی، جس میں قیادت کو نشانہ بنانے اور انٹیلی جنس کی بنیادوں پر ہونے والی کارروائیوں پر زیادہ بہتر انداز میں توجہ مرکوز کی جائے گی۔۔۔ البتہ بالکل ایسا کب ہو گا اور کن حالات کے تحت امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مسلسل  گہری بات چیت جاری رہے گی"۔ رائٹرز نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ" بائیڈن نے رواں ہفتے خبردار کیا تھا کہ غزہ میں زیادہ شہری ہلاکتوں کی وجہ سے بین الاقوامی رائے عامہ اسرائیل کے خلاف ہوتی جا رہی ہے"۔

 

تبصرہ :

سلیوان نے جس طرز زبان کا استعمال کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اس جارحیت کو کس حد تک اپنی جنگ سمجھتا ہے۔ 'اسرائیل نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ...' اس طرز جیسے کچھ جملے کہنے کی بجائے، سلیوان نے فخر سے جنگ کی نئی سمتوں کو ایک حقیقت کے طور پر بیان کیا: "یہ ایک عبوری مرحلہ ہوگا"۔ یہاں تک کہ غزہ میں صیہونی وجود نے جو ہولناک تباہی مچائی ہے اسے بھی ہلکے پھلکے انداز میں لیا گیا۔ بائیڈن کے مطابق مسئلہ تو یہ ہے کہ بین الاقوامی رائے عامہ "اسرائیل سے ہٹ سکتی ہے"، یہ نہیں کہ ہزاروں بے گناہ خواتین اور بچوں کو اندھا دھند بم دھماکوں میں بے رحمی سے قتل کر دیا گیا جو کہ آئے دن، یہاں تک کہ اب تو ہر دوسرے گھنٹے برسائے جا رہے ہیں۔

 

جس قدر بربریت کا ارتکاب کیا جا رہا ہے جنہیں کوئی بھی دل و دماغ رکھنے والا چاہے تو باآسانی ملاحظہ کر سکتا ہے، الفاظ چاہیں بھی تو ان جرائم کے خلاف صحیح غم و غصے کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ ہے وہ صیہونی وجود جو : نسلی تطہیر پر استوار ہے اور نسل پرستی کی بنیاد پر قائم ہے، اور اب اس طرز کے 'حتمی حل' کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جیسےنازیوں نے اپنے دور میں کیا تھا۔ مسلمان اس سب کو نہ تو کبھی بھول پائیں گے اور نہ ہی اسے کبھی معاف کریں گے۔ لیکن آخر ایسا وہ کون ہے جسے کبھی معاف نہیں کیا جانا چاہئے؟

 

جب ایک شیطانی نسل کا کتا اپنے پڑوسی کے گھر میں گھس کر پڑوسی کے بچوں کو وحشیانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دے تو یقینی طور پر ایسے کتے کو باندھ کر رکھنا ضروری ہے، لیکن پڑوسی رات کو جاگ کر یہ نہیں پوچھتا پھرے گا کہ کتے نے ایسا کیوں کیا؟ کیونکہ کتے نے تو ویسا ہی کیا جیسا کہ ایک خونخوار شیطانی کتا کر سکتا ہے۔ پڑوسی یقیناً اس کتے کے مالک کو ہی مورد الزام ٹھہرائے گا اور اس سے ہرجانے کا تقاضا کرے گا۔ کتے کا مالک ہی وہ اصل ناسور ہے جس سے ہمیں ضرور آگاہ رہنا چاہئے، کتے کا یہی وہ مالک ہے جس نے فلسطینیوں کو 'انسانی جانور' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ غزہ کو مسمار کر دے گا اور روزانہ قاتلانہ اعلانات کرتا ہے، روزانہ معصوم بے گناہوں کو ہلاک کرتا ہے، گھروں، ہسپتالوں اور اسکولوں، مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بنانا، بجلی، پانی اور خوراک کو کاٹ دینا اس کا معمول ہے۔ اس کتے کا مالک امریکہ ہے جس نے صیہونی وجود کا پٹہ تھام رکھا ہے اور اسے ہر وہ ہتھیار مہیا کیا ہے جو اس نے مانگا اور اب بھی مسلسل فراہم کر رہا ہے۔ لہٰذا یہ دراصل امریکہ ہی ہے جو اس خبیث وجود کے تمام جرائم کا ذمہ دار ہے۔

 

بائیڈن نے 11 دسمبر کو وائٹ ہاؤس میں امریکی یہودیوں سے کہا، "مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اپنی ریاست کے جنوبی حصے اور ملک کے کچھ جنوبی حصوں کی طرف سے مجھے بہت بری طرح تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جب 35 سال پہلے میں نے کہا تھا کہ صیہونی ہونے کے لیے آپ کا یہودی ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور میں خود ایک صیہونی ہوں"۔ امریکہ ہی ہے جو یہودی وجود کو غیر متزلزل سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے اور غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد کو ویٹو کرنے والا واحد رکن تھا۔ اقوام متحدہ میں وہ واحد رائے جو اگر کوئی وزن رکھتی ہے وہ اسی (امریکہ) کی رائے ہے، جو ایک نام نہاد بین الاقوامی برادری کے باطل پن پر زور دیتی ہے جو بین الاقوامی قانون کو مرتب کرتے ہیں اور اسے برقرار رکھتے ہیں۔

 

اگرچہ مشرق وسطیٰ میں امریکی غلام حکومتیں اس وقت تک اپنے آقا کے احکامات پر عمل کرتی رہیں گی جب تک کہ انہیں اکھاڑ پھینکا نہیں جاتا، لیکن یہ نہایت شرم کی بات ہوگی اگر امریکہ کا ثقافتی سامراج مسلم امہ کے عظیم بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان اس سب کے بعد بھی انہیں وہ سننے کو تیار کر لے جو کچھ انہوں نے ان دنوں میں دوغلے مغربی اقدار کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دیکھا ہے۔

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لئے لکھا گیا۔

ڈاکٹر عبداللہ رابن

Last modified onجمعرات, 11 جنوری 2024 03:50

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک