الإثنين، 22 شعبان 1445| 2024/03/04
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

یہود کی افواج نے سب کچھ جلا دیا، جبکہ مسلم فوجیں اپنی بیرکوں میں بیٹھیں رہیں۔ مسلمانوں کی ا فواج پر لازم ہے کہ وہ جنگ کےمحاذوں پر رہیں، دشمن سے لڑیں اور اُن کی قوت کو پاش پاش کر کے پسپا کر دیں۔

 

خبر:

یہودی وجود نے بروز پیر، 27 جنوری 2023 ،کو مقبوضہ مغربی کنارے میں مزید سینکڑوں فوجی بھیجے، جس کے ایک دن بعد ایک فلسطینی بندوق بردار نے دو اسرائیلیوں کو قتل کردیا اور اس کے بعد  یہودی آباد کار ایک فلسطینی قصبے میں گھس گئے، گھروں  اور گاڑیوں کو جلادیا ، اور اس قدر بدترین پرتشدد کارروائیاں کیں جن کی مثال کئی دہائیوں میں نہیں ملتی۔۔۔اتوار کو ہونے والے تشدد کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ فائرنگ کے ساتھ حملہ اور ہنگامہ آرائی "اس بات کی اہمیت بڑھا دیتی ہے کہ زبانی اور اعمالی طور پر لازمی فوراً کشیدگی میں کمی لائی جائے ۔"۔۔۔یہ تشدد اُس وقت شروع ہوا جب اردنی حکومت نے بحیرہ احمر کے تفریحی مقام عقبہ میں مذاکرات کی میزبانی کی جس کا مقصد مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان سے قبل کشیدگی کو کم کرنا تھا۔۔۔عالمی برادری بھاری اکثریت سے یہودیوں کی بستیوں کو غیر قانونی اور امن کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ اس سال اب تک 62 فلسطینی، جن میں سے نصف کا تعلق مسلح گروپوں سے تھا، یہودی وجود کے فوجیوں اور عام شہریوں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔اسی عرصے میں 14 یہودی فلسطینیوں کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔ یہودیوں کے حقوق کے گروپ B’Tselem کے اعداد و شمار کے مطابق، 2004 کے بعد مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کے لیے گزشتہ سال سب سے مہلک رہا ہے۔ ان علاقوں میں تقریباً 150 فلسطینی مارے گئے ہیں۔(دی انڈی پینڈنٹ)

 

تبصرہ:

قابض افواج اپنے گھناونے جرائم کے ذریعے  اس سرزمین کی بے حرمتی کرتی ہیں، جو  رسول اللہﷺ کی اسراء و معراج کی سرزمین ہے۔ یہ قیامت (المشر) اور اجتماع (المنشر) کی سرزمین ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جسے آسمانوں اور زمین کے خالق نے نوازا ہے، جس کے بارے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ"

وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک، جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں، لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے ۔"(الاسراء، 17:1)۔

 

اس مبارک سرزمین میں جو پاکیزہ خون بہا ہے وہ مسلمانوں کا خون ہے۔ یہ خون ایک ایسی زمین میں بہایا گیا ہے جس کے بارے میں رسول اللہﷺنے فرمایا:

 

لا تَزالُ طائفةٌ مِن أُمَّتي على الدِّينِ ظاهرينَ لعَدوِّهم قاهرينَ، لا يَضُرُّهم مَن خالَفَهم، إلَّا ما أصابَهم مِن لَأواءَ حتى يَأتيَهم أمْرُ اللهِ وهم كذلك، قالوا يا رسولَ اللهِ، وأين هم؟ قال ببَيتِ المَقدِسِ وأكنافِ بَيتِ المَقدِسِ

"ہمیشہ میری امت کی ایک جماعت اللہ تعالیٰ کے حکم پر لڑتی رہے گی اور اپنے دشمن پر غالب رہے گی۔ جو لوگ ان کی مخالفت کریں گے وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے سوائے اس کے جو انہیں تکلیف میں پہنچتی ہے۔ یہاں تک کہ ان پر اللہ کا حکم نہ آجائے اور وہ اسی حالت میں ہوں گے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کہاں ہیں؟ آپﷺ نے کہا کہ یروشلم اور یروشلم کے حدود میں۔"(احمد)۔

 

پس یہاں ہماری فکر ایک بابرکت جگہ کے بارے میں ہے اور اس خون کے بارے میں جو سب سے زیادہ حرمت والا ہے، کیونکہ یہ مسلمانوں کا خون ہے۔ یہ اس قوم کا خون ہے جس کی تعریف انسانیت کے رسول محمد ﷺ نے کی تھی۔ پس اس وحی نے اس خون کی عزت میں اضافہ کیا۔ اس طرح مسلمانوں پر آنے والی آفت کی شدت ہے۔یہ اس مصیبت کی شدت ہے جو مسلمانوں پر نازل ہوئی ہے۔

 

مسلمانوں پر مصیبت ان کے فانی دشمنوں کی وجہ سے نہیں آئی، جو کسی مؤمن کے بارے میں کسی عہد کو نہیں مانتے۔ وہ دشمن یہودی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ جن پر اللہ کا غضب نازل ہو، ان کے لیے کسی خیر کی امید نہیں کی جا سکتی، جبکہ ان کے اندر کوئی امید نہ ہو۔ جو ان کے بارے میں اچھا گمان کرے وہ بلاشبہ ان میں سے ہے۔اس بات سے اختلاف کرنے والوں کی تردید آسمانی عبارت اور عملی دلیل دونوں سے ہوتی ہے۔ یہ اختلاف کرنے والے مسلمانوں کے حکمران ہیں۔ انہوں نے یہودیوں کو بااختیار بنایا اور ان کے ساتھ تعلق کو معمول بنا لیا۔ یہ کام انہوں نے کیا جو دل و جان سے یہودیوں کے ساتھ تھے۔

 

دراصل ہماری بدقسمتی ان لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوئی جن سے ہمیں بھلائی کی امید ہے۔ وہ امت اسلامیہ سے ہیں۔ ان میں یہ صلاحیت اور نصرت موجود ہے کہ وہ بابرکت سرزمین اور اس کے لوگوں کا ساتھ دیں۔ تاہم، وہ ایک انگلی نہیں ہلاتے ہیں۔ شاید زلزلے، مسلم ممالک میں پھیلی ہوئی غربت، ناانصافی، مختلف سانحات اور فسادات جنہوں نے امت کو متاثر کیا، اور ان کے حملوں سے کوئی بھی نہیں بچا ، یہ سب عقلمندوں کے لیے ابتدائی انتباہی پیغامات ہیں، قبل اس کے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنا غضب اور تباہی ہم پربھیجے۔امام مالک نے اپنے موطا میں روایت کیا ہے،

 

أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏ نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ

"کہ رسول اللہﷺ کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے جبکہ ہم میں نیک لوگ ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اگر بداعمالی(برائی) بہت ہو۔"

 

ایسی آزمائشیں اللہ عزوجل کی طرف سے بھیجی جاتی ہیں تاکہ سوئے ہوئے لوگ بیدار ہوں۔ انہیں اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ ذمہ دار اور قابل کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو۔ چنانچہ وہ سب سے پہلے جھوٹ اور غداری پر خاموشی کو توڑ کر گناہ کو اپنے اوپر سے ہٹاکر خود کو سہارا دیتا ہے۔ اس کے بعد، وہ بابرکت سرزمین اور اس کے لوگوں کی حمایت کر کے خود پر سے گناہ کو ہٹا دیتا ہے۔

 

مسلم افواج میں بہت سے مخلص لوگ سمجھتے ہیں کہ ان پر انگلیاں نہیں اٹھتی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لاہور، کراچی، مصر کے ہیلیوپولس، ڈھاکہ اور اناطولیہ وغیرہ میں نجی فوجی چھاؤنیوں میں لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہ کر وہ الزام تراشی یا عوام کے احتساب سے بچ سکتے ہیں۔تاہم وہ اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کر سکتے کہ وہ لوگوں کی نظروں سے کتنے ہی دور کیوں نہ ہوں، اللہ عزوجل کی نظر اُن پر ہے۔ اس کے فرشتے ہر اس لمحے کو ریکارڈ کرتے ہیں جو وہ اپنی ذمہ داری پوری کیے بغیر گزارتے ہیں۔ لہٰذا جو لوگ مخلص ہیں انہیں ان کا فرض یاد دلانا چاہیے۔انہیں یاد دلانا چاہیے کہ وہ اپنے رب سے ملیں گے اور وہ ان سے اپنے آپ پر اور اپنے لوگوں پر ظلم کرنے کا حساب لے گا۔ اس لیے کہ اگر وہ اس دنیا میں زلزلہ، بیماری یا کسی وباء سے بچ بھی جائیں تو قیامت کے دن حساب سے نہیں بچ سکیں گے۔عالم اسلام کی فوجوں میں ہتھیار رکھنے والا کوئی بھی جنگجو بچ نہیں سکے گا، سوائے اس کے تمام گولہ بارود کو حکومتوں کے سینوں میں اتاردے، جو اس امت کے سینے پر بیٹھی ہیں اور ہمارے دشمنوں سے ملی بھگت کرتی ہیں۔مسلم افواج کے افسران اس حزب کو نصرۃ دینے کے سوا نہیں بچیں گے جو نبوت کے نقش قدم پر خلافت قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ وہ حزب ہے جو رسول اللہﷺ کے اسراء کی منزل کی حمایت کے لیے فوجوں کو متحرک کرے گی۔ وہ حزب، حزب التحریر ہے، جسے آپ جانتے ہیں، جبکہ وہ آپ کو جانتی ہے۔ تو اسے اپنی نصرۃ فراہم کریں، تاکہ آپ نجات اور فلاح پائیں۔

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ * وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾.

"مومنو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جبکہ رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ اللہ، آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے ۔ اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔"(الانفال، 25-24)

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے ولایہ پاکستان سے بلال المہاجر نے تحریر کیا

Last modified onاتوار, 12 مارچ 2023 13:07

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک