الأحد، 15 رجب 1444| 2023/02/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

قطر اور مغرب کی اصلیت کو آشکار کرتا ہوا 2022 کا فیفا ورلڈ کپ

 

ڈاکٹر عبدالبصیر، پاکستان

 

کھیلوں کی کمرشلائزیشن

کھیل ، ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ ٹیموں کی صورت میں کھیلے جانے والے کھیل اس لحاظ سے اور بھی بہتر ہوتے ہیں کیونکہ ان سے ٹیم ورک بھی سیکھنے کوملتا ہے۔ فٹ بال کاکھیل، جسے ساکرsoccer بھی کہا جاتا ہے، ٹیم کی صورت میں کھیلے جانے والے اُن چند کھیلوں میں شمار ہوتا ہے جہاں پورے کھیل کے دورانیہ میں تقریباً ہر کھلاڑی کو اپنی بھرپُور صلاحیتیں اور جوہر دکھانے اور کھیل میں اپنا کردار ادا کرنے کا مساوی موقع ملتا ہے۔  لیکن بہرحال کھیل اور ان کی بطورِ تجارت کمرشلائزیشن  دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ کھیل ایک صحت مندانہ سرگرمی ہوتی ہے جس کا معاشرے کی تعمیر میں ایک مثبت کردار ہوتا ہے جبکہ کھیلوں کی کمرشلائزیشن یا نمائش، کسی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے مماثلت رکھتی ہے جہاں کھلاڑی، بطورِ ماڈل یا اداکار پیش کیے جاتے ہیں اور ان کھیلوں کی کمرشلائزیشن میں عوام کا کردار فقط اتنا رہ جاتا ہے کہ وہ بس سٹیڈیم کی سیٹوں یا اپنے ڈرائنگ روم کے صوفوں پر ہی براجمان بیٹھے رہیں۔ کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے کھیلوں کے کلب بھی خرید لیے جاتے ہیں ،  کھیلوں کے نشریاتی حقوق کو بھی فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور ان کی نیلامی ہوتی ہے، ٹکٹوں کے ساتھ ساتھ سپانسرز بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ اس حد تک ہوتا ہے کہ مجموعی طور پرعالمی سطح کےتماشائیوں کے بڑے ہجوم کی وجہ سے، زیادہ تر ایسے تمام کھیلوں کو تماش بینوں کا کھیل[1] کہا جاتا ہے کیونکہ ایسے کھیل عالمی سطح پر تماشائیوں کے ایک بڑے حجم کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں جس کے نتیجے میں کثیر آمدنی ہوتی ہے جو کہ اربوں ڈالر[2] تک چلتی ہے۔

 

فُٹ بال کی کمرشلائزیشن

کھیلوں کی دنیا میں مارکیٹ شیئر اور آمدنی کے لحاظ سے فٹبال کا کھیل سب سے آگے ہے اور دنیا کی تقریباً نصف آبادی (3.5ارب سے زائد) کے شائقین[3] کے ساتھ اس کھیل کا نمبر سب سے پہلاہے۔حالانکہ قطر، فٹبال کھیلنے والے مشہور ممالک کی فہرست میں شامل نہیں ہے لیکن پھر بھی قطر نے بڑی اُمیدوں اور خطیر سرمایہ کے ساتھ 2022 میں منعقد ہونے والے ورلڈکپ کی بولی میں حصہ لیا ، جبکہ وہ یہ بولی پہلے ہی 2010 میں جیت چکا تھا جب قطر کوکچھ مخفی وپوشیدہ انداز میں ایک ساتھ دو اکٹھے ورلڈکپ[4] اپنے ملک میں منعقد کرانے کا موقع نوازا گیا۔ اس چھوٹی سی قوم نے بغیر کسی تنازعہ کے یہ بولی جیت کر پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا کیونکہ فیفا حکام کو بھاری رشوتیں دینے کی باتیں زبان زدِ عام[5] تھیں جس کی بنیادی وجہ ، اس طرح کے بڑے پروگرام کی میزبانی کے لیے قطرجیسے ملک کا انتہائی غیرموزوں ہونا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ کی دیگر اقوام کے برعکس، فٹبال نہ تو قطرکا ثقافتی کھیل ہے اور نہ ہی ان کی روایت میں شامل ہے، جبکہ فیفا کے سابق صدر سیپ بلاٹر Sepp Blatter، جو کہ اُس وقت فیفا کے انچارج تھے جب قطر کو ورلڈکپ کے انعقادکے لیے نوزا گیا،ان کے مطابق مصر، الجزائر اور تیونس فیفا ورلڈکپ کی میزبانی کے لیے زیادہ مستحق تھے؛ یاد رہے کہ فیفا کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے تمام عرصہ کے دوران سیپ بلاٹر پر کرپشن کے الزامات تھے۔ اگرچہ قطر نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے لیکن فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے 22میں سے 11 ارکان کو یا تو معطل کر کے ان پر جُرمانہ عائد کیا جاچُکا ہے  یا ان پر تاحیات پابندی یا کرپشن کے الزامات میں مقدمات ہو چکے ہیں۔ قطرنے ورلڈکپ کے انتظامات اور انفراسٹرکچر پر 229 ارب امریکی ڈالر[6] کا کثیر سرمایہ خرچ کرکے دنیا کو ایک بار پھر حیرانی میں ڈال دیاہے۔ کسی بھی ملک کی جانب سے ورلڈکپ پر خرچ کی جانے والی ، یہ اب تک کی سب سے خطیر رقم تھی اور اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس سے قبل ہونے والے مہنگے ترین ورلڈکپ میلوں میں 2014 کابرازیل اور 2018 کا روس کا ٹورنامنٹ تھا، اور ان دونوں ٹورنامنٹ پر ہونے والے خرچہ کی لاگت کا تخمینہ 15 بلین ڈالر [7]سے بھی کم تھا۔

 

کھیلوں کے انعقاد سے اپنی گِرتی ہوئی ساکھ کو بہتر کرنے کی کوشش

ورلڈکپ کے انفراسٹرکچر اور سٹیڈیم کی تعمیرپر بے تحاشا خرچ نے  ورلڈکپ کے سابقہ چند میزبان ممالک کوبھاری قرض تلے دبا دیا تھا اور ان اخراجات کےنتیجے میں ایسی تعمیرات  باقی بچی تھیں جن کا فیفاورلڈکپ کے اختتام کے بعدکچھ استعمال نہ رہا تھا[8]۔ یہ قطر کی جانب سے کی جانے والی  sportswashing[9]کی ایک کھلی اور واضح کوشش تھی،  Sportwashing  ایک ایسی اصطلاح ہے ، جو کسی افراد، اداروں یا حکومتوں کو اپنی وہ  ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کےلیے استعمال ہوتی ہے،  جو ساکھ  ان کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے داغدار ہوچکی ہو۔ سعودی ولی عہد ، محمد بن سلمان Sportwashing  کی ایسی حرکتوں کا چیمپئن مانا جاتا ہے  اور وہ اس کو نئی انتہا تک لے کرجاچکاہے[10]۔

 

عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کی بھونڈی کوشش کے علاوہ، ایسی حرکتیں علاقائی سطح پر بھی قومیت کا تڑکا  لگاتے ہوئے  ان حکومتوں کے کام آتی ہیں جو اسلام کو اپنی پہچان کا بنیادی عنصر بنانے کی بجائے کھیلوں کو فروغ دیتی ہیں۔ مزید برآں، ایسے بڑے پروگرام، بڑے پیمانے پر عوام کی توجہ منتشرکرنے کے ہتھیار[11] کے طورپر کام کرتے ہیں جیساکہ کچھ مؤرخین اور فلسفیوں کے مطابق زمانۂ قدیم میں بھی اولمپک کھیل منعقد کرانے کا اصل مقصد یہی ہوتا تھا[12]۔سب  حکمران، بلکہ خصوصاً ظالم وجابرحکمران، آمر اور بادشاہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے عوام اپنے حکمران کی قانونی حیثیت اور کرپشن پر سوال اُٹھانے کی بجائے، بس گول گِننے میں لگے رہیں۔ اس کے علاوہ ورلڈکپ کی میزبانی کرنا، میزبان ملک کے لیے کوئی نفع بخش کاروبار نہیں ہے، جیسا کہ مطالعات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اتنی بھاری سرمایہ کاری کے باوجود بھی میزبان ملک کو کوئی خاطرخواہ مالی آمدن حاصل نہیں ہوتی[13]۔ البتہ میزبان کے برعکس، ورلڈ کپ اپنے انتظامی ادارے یعنی فیفا کے لیے ہمیشہ منافع بخش ہوتا ہے جس کی آمدن 7.5ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے جو کہ پچھلے منعقد ہونے والے ورلڈکپ سے بھی 1 ارب ڈالر زائدہے[14]۔

 

تصویر کا دوسرا رُخ 

اب جبکہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ کن حالات میں قطرورلڈکپ کا انعقاد ہورہا ہے تو آئیں تصویر کے دونوں رُخ دیکھتے ہیں ۔  جس میں ایک طرف تو وہ مغربی عوام و ممالک ہیں جو قطرکوورلڈکپ کی میزبانی دینے پر قطر اور فیفا کو شرمندہ کررہے ہیں اور دوسری طرف ایسے مسلمان ہیں جو قطر کی تعریفیں کررہے ہیں کہ اس نے مغرب کے سامنے اسلام کا حقیقی رُوپ پیش کیا۔ اگر اس پس منظر میں باریک بینی سے غور کیا جائے تو ہمیں ان کی منافقت کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ تو آئیں اس پر غور کرتے ہیں !

 

مغرب کی قطر کو شرمندہ کرنے کی حقیقت

ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے کے لحاظ سے قطر کے ایک انتہائی چھوٹا ملک [15]ہونے سے لے کر، ٹورنامنٹ سے متعلقہ تعمیراتی مقامات کے حالات[16]، ہم جنس پرست لوگوں کے خلاف ریاستی سطح پر امتیازی سلوک[17]، اور سٹیڈیم میں یا اس کے اطراف میں شراب پر پابندی[18] کی وجہ سے قطر کو شدید تنقید اور سوالات کی بوچھاڑ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یہی تمام مغربی ممالک اپنے اقتصادی ومعاشی مراکز کو مزید رواں رکھنے اور عالمی نظام کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اس قطری ٹورنامنٹ کے تعمیراتی مقامات سے بھی بدترحالات میں سستی اُجرت کے ذریعے نکالے گئے خلیجی تیل کو استعمال کرنے میں ملوث ہیں جو آج انسانی حقوق کا چیمپئن ہونے کادعوٰی کرتے ہیں۔

 

یہی مغربی ممالک اس وقت  تو  گنگ بنے بیٹھے رہے تھے جب روس میں فیفا ورلڈکپ منعقد ہورہا تھا یا کیا پیوٹن کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ریکارڈ[19] ان ممالک سے مخفی تھے ؟ اور 2008 میں چین میں ہونے والے اولمپک کھیلوں کے دوران انہی مغربی ممالک نے کیوں کج روی اختیار کی تھی جبکہ چین میں آج بھی درسی کُتب میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ ہم جنس پرستی دماغ کا خلل [20]ہے اور وہاں ہم جنس پرستوں کی باہمی شادی غیرقانونی [21]ہے؟ کیا چین کے ایغور کمیونٹی کے لوگوں کی چیخیں ان مغربی ممالک کے کانوں تک ابھی بھی نہیں پہنچی ہیں[22] ؟ جرمن ٹیم، Die Mannschaft، نے اس وقت تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیے تھے جب ان کے جاپان کے ساتھ  ہونے والے ایک میچ سے پہلے ہونے والے گروپ فوٹو شوٹ میں فیفا کی جانب سے "OneLove" کا بازوبند باندھنے پر پابندی کی دھمکی کے خلاف انھوں نے احتجاج کیا تھا لیکن اسی جرمن ٹیم نے اس وقت کوئی احتجاج نہ کیا جب ان کے سٹار پلیئر،Mesut Ozil کو چین  کی جانب سے کئی دفعہ کھیل سے الگ رکھا گیا اور اس کی وجہ Mesut Ozil کا سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے چین  کے امتیازی برتاؤ پر تنقید کرنا تھا[23]۔ یا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ترکی نژاد تھا اور ٹیم کے لیے غیرضروری تھا۔ کچھ یورپی ممالک کے شائقین نے قوس وقزح  کے رنگ والی ٹوپیاں اور لباس پہننے کے اصرار پر سٹیڈیم کے داخلی دروازوں پر ہنگامہ کھڑا کردیا[24]۔ یادرہے کہ یہ وہی ممالک ہیں جومسلم خواتین کو ان کے اسلامی لباس پہننے کے انتخاب [25]پر پابندی اور جُرمانے عائد کرتے رہے ہیں اور اب وہ فیفا[26]  سے اس مبینہ قطری مَن مانی [27]کی شکایت کررہے ہیں۔ ایسے ممالک جنہوں نے خود تو اپنے ہاں تمباکو نوشی تک کے لیے خصوصی زون بنا رکھے ہیں اور وہ شراب کے نشے کی حالت میں کسی بھی قسم کی مشینری کو استعمال کرنے پر پابندی لگاتے ہیں ، وہ ممالک بھی دوحہ کے اطراف میں  شراب پینے کے لیے مخصوص علاقوں اور دوسرے لائسنس یافتہ مقامات[28] تک محدود ہونے پرقطر کی مذمت کررہے ہیں۔نام نہاد انسانی حقوق کی خلاف ورزی[29] کے اسی بھونڈے بہانے کو استعمال کرتے ہوئے کئی مشہور شخصیات نے ورلڈکپ کی افتتاحی تقریب میں پرفارم کرنے سے انکار کردیا۔میڈیا کے بی بی سی جیسےبڑے اداروں نے دوٹوک انداز میں افتتاحی تقریب کو نظرانداز کردیا اور اس کے بجائے قطرپر الزامات و تنقیدنشرکرنے میں اپنا وقت صَرف کردیا[30]۔ مغرب کے دوہرے معیار اور دوسروں کے قوانین وروایات کی تحقیرکو  بےنقاب کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی اور مثال یا واقعہ ہوسکتاہے ؟

 

قطرکی جانب سے  اسلامی تأثردینے کی اصلیت

ایک اور دلچسپ اور بہت زیادہ زیرِ بحث  بات وہ اسلامی تأثردینا ہے  جو کہ قطر نے اس پروگرام ، خاص طورپر افتتاحی تقریب کے دوران دینے کی کوشش کی۔ آج کل کے سوشل میڈیا کے اس دور میں سخت سے سخت تر ظالم حکمران بھی اپنی حکمرانی چھِن جانے سے ڈرتے ہیں اور اسی لیے اپنی رعایا کو مطمئن کرنے کے لیے ایسے اقدامات سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔ اسلام سے ان حکمرانوں کی ظاہری محبت کے کھوکھلے پن کو سمجھنے کے لیے ذرا اس پرغورکریں۔ 1916 میں خلافتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت[31] کرنے کے بعد ، قطر عبداللہ ثانی کی قیادت تلے برطانوی حکومت کے زیرِانتظام آگیا۔ تب سے ہی الثانی خاندان اس چھوٹی سی سلطنت پر حکومت کرتارہا ہے اورمختلف مواقع پر مسلمانوں کے خلاف مغرب کی مدد کرتا رہا ہے ۔ العدید فضائی اڈا، جوکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہے، اس کی بہترین مثال ہے[32]۔ 1996 میں قطر نے اس فضائی اڈےکو 1ارب ڈالر سے زائد کی لاگت سے تعمیر کیا تھا اور اس میں مستقل طور پر 11،000 امریکی اور امریکہ کی زیرِقیادت  anti-ISIL اتحادی افواج رہائش پذیر ہیں اور 100 سے زائد آپریشنل ہوائی جہاز موجود رہتے ہیں ۔ اس فضائی اڈے کو امریکہ نے 2001 میں طالبان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے استعمال کیاتھا اوردو دہائیوں پر محیط  اس جنگ میں لاکھوں لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ افغانستان اورعراق کی تباہ کاریوں کی داستانوں میں بھی اسی  فضائی اڈے سے  اُڑنے والے برطانوی رائل فضائیہ اور رائل آسٹریلین فضائیہ کے جہاز اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں ۔ فی الوقت، العدید اور قطر میں موجود دیگر اڈے ، مختلف ممالک بشمول عراق، شام اور افغانستان[33] میں امریکی کاروائیوں کے لیے امریکی سینٹرل کمانڈ  (CENTCOM)کے لیے نقل و حمل، کمانڈ اور بیس اڈے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اسی طرح ، قطر 1996 میں "اسرائیل" کی ریاست کے ساتھ اقتصادی تعلقات قائم کرنے والے پہلے عرب ممالک میں شامل تھا۔ قطرنے فٹبال ڈپلومیسی کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید معمول پر لانے کے لیے تل ابیب[34] سے "اسرائیلی" شائقین کے لیے براہِ راست پروازوں کااعلان کردیا۔تاہم ابھی اُن  کے عوام اس مسئلے پر حکومت کے ساتھ نہیں ہیں جیسا کہ قطر میں ورلڈ کپ کی کوریج [35]کے لیے "اسرائیلی" میڈیا کی بوکھلاہٹ اور اجتناب سے دکھائی دیتاہے۔ اقتدار کی اندرونی کشمکش بھی شاید ایک اور وجہ ہے  جس سے حکومت کھیلوں کے ذریعے اپنی گِرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کی کوشش کررہی ہے اور اسی طرح دوسری وجہ  الثانی خاندان کاشاہانہ طرزِ زندگی بھی ہے[36]۔ ان کی یہ شاہ خرچیاں پاکستانیوں میں خاص طور پر بدنام ہیں  جو ان شاہی خاندانوں کو خصوصی طور پر تلور کے شکار کا اجازت نامہ دینے کا سُنتے رہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مقامی لوگوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے[37]۔ اسلامی ثقافت اور قرآنِ کریم کی تلاوت کے ساتھ ساتھ مسلمان مبلغین اور قطر کے علماء کی موجودگی سے ایک اچھی طرح مزّین کردہ افتتاحی تقریب، ان حکمرانوں کی جانب سے وہ ظاہری  ڈھکوسلے ہیں جو وہ اسلام اور امت سے محبت کے اظہار کے لیے کررہے ہیں جبکہ اس کے برعکس ان کے عملی اقدامات بالکل اُلٹ ہیں اور ان حکمرانوں کے کھوکھلے بیانوں کا سارا پول کھول رہے ہیں۔ حقیقت میں قطر کے حکمران، شراب اور بے حیائی پر پابندی کا سہرا اپنے سَر لے ہی نہیں سکتے جس پر بہت سے بھولے بھالے اور معصوم مسلمان ان حکمرانوں کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے ہیں۔ اصل میں ان حکمرانوں نے پہلے تو فیفا کے مطالبات کے آگے سرجھُکا دئیے تھے اور میچوں کے دوران سٹیڈیم کے اندر شراب کی فروخت پررضامندی ظاہر کی تھی تاہم بعد میں اپنی عوام کی برہمی کے ڈر سے اس فیصلہ کو واپس لے لیا[38]۔ ہم جنس پرستوںLGBT کے حقوق سے متعلق بھی یہی معاملہ رہا ہے جس کے لیے قطری حکام نے فیفا کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ورلڈکپ کے دوران قطر کی نام نہاد "اخلاقیات" کا نفاذ لازمی نہ ہوگا۔  امیرِ قطر، شیخ تمیم بن حمادالثانی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کویہ بتایا کہ اس کی قوم " کسی قِسم کےامتیازی سلوک کے بغیر سب کے لیے اپنے دروازے کھُلے رکھے گی"[39]۔ اسی طرح قطری حکومت نے سرکاری سطح پر اپنے آپ کوڈاکٹر ذاکرنائیک کی موجودگی سے دور ہی رکھاہے اور یہ تاثٔر دیا ہے کہ انہیں سرکاری طور پر مدعو نہیں کیا گیا[40]۔

 

لیکن امت اب ان جھوٹے بیانات سے مزید بےوقوف نہیں بنے گی اور نہ ہی اب وہ جیت یا گول گِننے میں مشغول رہے گی جبکہ ان کے حکمران مغربی طاقتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ان کی دولت لوٹنے اور امت کو مزید غلامی میں دھکیلنے میں مصروف ہیں۔  (باقی دوسرے خلیجی ممالک کی طرح) قطرکی آمدن کا واحد ذریعہ وہ بے بہا زیرِ زمین ایندھن  ہی ہے جس سے  اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مسلم علاقوں کو نوازا ہے۔ مسلمانوں پر یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ قدرتی ذخائر مجموعی طورپر امت کی ملکیت ہیں[41] اور کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہیں کہ انہیں ایسے میلوں کی میزبانی پر ضائع کیاجائے۔ مزید براں ایسے ٹورنامنٹ مسلمانوں پر ان کی قومیت کی جھوٹی شناخت [42]کو مزید مشکل کردیتے ہیں جو ویسے بھی استعماری آقاؤں کی جانب سے دیا گیا طوق ہیں ۔مغربی طاقتوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خود ہمیشہ میدانِ جنگ کا سہارا لیا ہے لیکن وہ ہم سے یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں فٹبال کے میدان میں ہرادیں۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں کھیل کے لیے فٹبالیں[43] مہیا کر کے ہی خوش ہوتے رہیں جبکہ وہ خود دنیا کو مختلف اقسام کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کے ہتھیار مہیا[44] کرتےرہیں اور  جمع[45] کرتے رہیں ۔ ہمیں ٹورنامنٹ کے دوران ہونے والی بدتمیزیوں اور غنڈہ گردیوں پر اپنا غصہ نکالنے کی بجائے  ، اسلام کو اپنا معیار بنانے کی ضرورت ہے۔  

    

نتیجہ

بہرحال اس ورلڈکپ سے ایک مثبت نتیجہ اخذ کرنے کے طورپر ایک امید کی کرن یہ ہے کہ دنیا نے اس بات کا مشاہدہ کرلیا ہے کہ شراب اور بے حیائی پر پابندیاں قابلِ عمل ہیں  اور جب ان شاءاللہ مستقبل قریب میں ایک مضبوط اسلامی ریاست اسلام کے نظام کے تحت یہ تمام پابندیاں نافذ کرے گی تو اس سے کوئی طوفان کھڑا نہیں ہو جائے گا۔

 


[1]https://www.thebusinessresearchcompany.com/report/spectator-sports-global-market-report

[2]https://www.statista.com/topics/1595/soccer/#dossierKeyfigures

[3]https://www.worldatlas.com/articles/what-are-the-most-popular-sports-in-the-world.html

[4]https://www.pbs.org/newshour/world/the-world-cup-is-officially-underway-in-qatar-heres-why-its-so-controversial

[5]https://www.nytimes.com/2020/04/06/sports/soccer/qatar-and-russia-bribery-world-cup-fifa.html

[6] https://www.sportingnews.com/in/football/news/cost-world-cup-qatar-how-much-paid-fifa-most-expensive-2022/i69pi7uree5ctahcjyuzd9fn

[7]https://www.dw.com/en/qatar-world-cup-will-be-the-most-expensive-of-all-time/a-63681083

[8]https://www.cnbc.com/2022/11/10/why-hosting-the-world-cup-can-be-a-bad-idea-for-some-countries.html

[9]https://en.wikipedia.org/wiki/Sportswashing

[10]https://www.theglobalist.com/uk-premier-league-soccer-sport-newcastle-united-saudi-arabia-mohammed-bin-salman-soft-power/

[11]https://www.cambridge.org/core/journals/china-quarterly/article/abs/beijing-olympics-as-a-campaign-of-mass-distraction/F6C9F285432857EC4B1B5A18503D4BF0

[12]http://www.idcommunism.com/2016/08/olympic-games-and-fascism-olympic.html

[13]https://www.aljazeera.com/sports/2022/11/17/do-host-countries-make-money-from-the-world-cup

[14]https://www.bloomberg.com/news/articles/2022-11-20/fifa-revenue-hits-7-5bn-for-qatar-world-cup-period

[15]https://www.espn.in/football/fifa-world-cup/story/4797079/sepp-blatters-comments-on-qatar-2022-world-cup-too-late

[16]https://www.theguardian.com/global-development/2022/nov/19/qatar-working-conditions-world-cup-guardian-reporting

[17]https://edition.cnn.com/2022/11/19/football/qatar-world-cup-2022-lgbtq-rights-spt-intl/index.html

[18]https://www.nytimes.com/2022/11/18/sports/soccer/world-cup-beer-qatar.html

[19]https://www.amnesty.org/en/location/europe-and-central-asia/russian-federation/report-russian-federation/

[20]https://www.scmp.com/news/people-culture/gender-diversity/article/3123549/homosexuality-can-be-called-mental-disorder

[21]https://www.nytimes.com/2015/11/25/world/asia/china-lgbt-rights-education-trial.html

[22]https://www.bbc.com/news/world-asia-china-22278037

[23]https://www.dailymail.co.uk/sport/sportsnews/article-7805497/Arsenal-star-Mesut-Ozil-removed-Pro-Evolution-Soccer-game-China.html

[24]https://www.washingtonpost.com/sports/2022/11/22/rainbow-flag-fifa-soccer-qatar/

[25]https://www.aljazeera.com/news/2021/9/24/muslim-women-struggle-with-germanys-hijab-ban-in-workplaces

[26]https://www.nytimes.com/2022/11/23/sports/soccer/german-player-protest-armbands-world-cup.html

[27]https://www.abc.net.au/news/2022-11-22/fifa-world-cup-qatar-rainbow-clothing-one-love-armband/101681732

[28]https://www.coventrytelegraph.net/news/uk-world-news/anger-sale-alcohol-fans-qatar-25548640

[29]https://time.com/6234015/celebrities-boycotting-qatar-world-cup/

[30]https://www.theguardian.com/football/2022/nov/20/bbc-ignores-world-cup-opening-ceremony-in-favour-of-qatar-criticism

[31]https://en.wikipedia.org/wiki/Battle_of_Al_Wajbah

[32]https://en.wikipedia.org/wiki/Al_Udeid_Air_Base

[33]https://militarybases.com/overseas/qatar/al-udeid/

[34]https://www.reuters.com/world/middle-east/direct-tel-aviv-doha-flights-operate-during-world-cup-fifa-2022-11-10/

[35]https://www.reuters.com/world/middle-east/arabs-shun-israeli-media-qatar-world-cup-dashing-hopes-warming-2022-11-21/

[36]https://www.therichest.com/luxury/a-peek-inside-the-extravagant-335-billion-life-of-the-qatari-royal-family/

[37]https://tribune.com.pk/story/1296854/qatar-royal-hunting-rare-houbara-bustard-attacked-balochistan

[38]https://www.independent.co.uk/sport/football/world-cup/qatar-alcohol-stadium-ban-b2227933.html

[39]https://sports.yahoo.com/at-qatars-world-cup-lgbtq-fans-are-supposedly-welcome-but-still-afraid-163049856.html

[40]https://indianexpress.com/article/india/issue-zakir-naik-being-wanted-raised-with-qatar-mea-arindam-bagchi-8287907/

[41] The Messenger of Allah (saw) said: “Muslims are partners (associates) in three things: in water, pastures and fire.” [Narrated by Ibn ‘Abbas and reported by Abu Dawud]

[42] The Messenger of Allah (saw) said: “He is not one of us who calls to tribalism/nationalism. He is not one of us who fights for the sake of tribalism/nationalism. He is not one of us who dies following the way of tribalism/nationalism.” [Narrated by Jubayr ibn Mut’im and reported by Abu Dawuud]

[43]https://www.bloomberg.com/features/2022-world-cup-soccer-ball-adidas-al-rihla-sialkot

[44]https://www.statista.com/statistics/267131/market-share-of-the-leadings-exporters-of-conventional-weapons/

[45]https://ourworldindata.org/military-spending

Last modified onپیر, 09 جنوری 2023 05:55

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک