الثلاثاء، 02 ربيع الأول 1444| 2022/09/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

روس یوکرین کی دلدل میں دھنس رہا ہے

 

ایسا لگتا ہے کہ روس نے یوکرین کی افواج  کی ہمت اور  لڑنے کی صلاحیت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا تھا ۔ روس اس غلط فہمی کا شکار تھاکہ یوکرین کی افواج روسی حملے کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی ۔ روس کو یہ غلط فہمی  روسی اشتعال انگیزی کے مقابلے میں یوکرین کے صدر کی جانب سے احتیاط، صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے لاحق ہوئی، اور یوکرائنی افواج نے ابتدائی طور پر مشرقی یوکرین میں روسی فوجی حملوں کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ لہٰذا، روس کا خیال تھا کہ یوکرین کے پاس لڑنے کی صلاحیت اور ارادہ نہیں ہے اور اس لیے وہ روسی جارحیت کا جواب نہیں دے رہا ہے۔ یوکرین کے صدر نے روس کے ساتھ جنگ شروع نہ کرنے کی پوری کوشش کی، جبکہ چلاک بائیڈن روسی ریچھ کو یورپ کے اندر ایک تباہ کن جنگ شروع کرنے پر اکسانے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔

 

روس نے یوکرین کی فوجی طاقت کو کم سمجھا۔ اس کم تر اندازے کی مغربی فوجی تجزیہ کاروں نے  تصدیق کی تاکہ روس دھوکہ کھا جائے، جنہوں نے یہ نعرہ لگانا شروع کیا کہ روسی افواج چند دنوں میں یوکرین کے دارالحکومت کیف(Kyiv) کو فتح کر لیں گی۔ مزید یہ کہ روس اپنی بڑی تعداد اور اعلیٰ فوجی ٹیکنالوجی کی وجہ سے غرور میں مبتلا تھا۔ اسے روس کی سرحد پر یوکرین میں واقع  ڈونباس کے علاقے میں وہاں کے لوگوں کی حمایت حاصل تھی، جبکہ بیلاروس نے بھی ماسکو کی مدد کرنے پر رضامندی کا اظہارکیا تھا۔ ان  سب باتوں نے پوٹن کو مغرور بنا دیا، اور اسے یوکرین کی طاقت کا غلط اندازہ لگانے پر مائل کر دیا، اور اس کی سیاسی سوچ کو کند کر دیا۔

 

روس نے جنگ کی اچھی منصوبہ بندی نہیں کی کیونکہ اسے توقع تھی کہ جنگ ہفتوں یا چند مہینوں میں ختم ہو جائے گی۔ یوکرین میں روس کی ناکامی کو فوجی حلقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حمل (لاجسٹک) کی ناکامی  کی مثال اور اس سے حاصل ہونے والے سبق کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ جنگ کے ابتدائی مراحل میں، یوکرائنی افواج نے روسی افواج کا براہ راست سامنا نہیں کیا۔ اس کے بجائے، انہوں نے روسی رسد(سپلائی لاین) کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کی، جس نے روسی فوجی کارروائیوں کو مفلوج کر دیا۔

 

روس نے نیٹو، امریکہ اور یورپ کے ردعمل کا بھی غلط اندازہ لگایا ۔ اس کا خیال تھا کہ روس کے تیل اور گیس پر یورپ کے توانائی کے انحصار کی وجہ سےروس کو یورپ پر برتری  حاصل ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ کریملن نے یوکرین کے لیے نیٹو کی فوجی مدد کی حد کابھی  غلط اندازہ لگایا تھا۔ روس کو اندازہ تھا کہ امریکہ سخت اقتصادی پابندیاں لگائے گا، تاہم اس کا خیال تھا کہ چونکہ اس نے 2014 میں کریمیا کے روس میں زبردستی الحاق کے بعد مغربی پابندیوں کا مقابلہ کیا تھا ، لہٰذا  روس اب بھی اسی طرح کی پابندیوں کو برداشت کر لے گا۔ شاید، روس کا خیال تھا کہ وہ  امریکہ اور یورپ کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کے لیے ایک طرف روسی توانائی پر جرمن انحصار کو اور دوسری طرف فرانس کی امریکہ دشمنی کو استعمال کر سکتا ہے، لیکن یہ اب تک ہو نہیں سکا۔

 

ایسا لگتا ہے کہ پوٹن نے امریکی پالیسی اور اس کی سیاسی سوچ کی گہرائی اور وسعت کو کم سمجھا۔ روس کا خیال تھا کہ جنگ اسے امریکہ کے خلاف فائدہ پہنچائے گی،  کیونکہ امریکہ امریکی بین الاقوامی نظام کو بچانے کی کوشش کرے گا اور  اس طرح وہ  روس کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہو جائے گا۔ اس کے بعد روس امریکہ اور نیٹو کے ساتھ ایک نئے جامع سکیورٹی انتظامات پر دستخط کرے گا، جس سے مشرقی یورپ میں روسی مفادات کے حوالے سے خطرات ختم ہو جائیں گے۔  روس یہ سمجھنے میں ناکام رہاکہ بائیڈن دراصل روس کو اکسانا اور یوکرین کی دلدل میں کھینچنا چاہتا تھا، جبکہ امریکہ روس کی کوئی بات نہیں مانے گا۔ روس یہ بھی سمجھنے سے قاصر رہاکہ امریکہ نے اس جنگ کو روس کو چین سے الگ کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا کہ وہ روس کو یوکرین میں پھنسا کر اس کی کمزوری کو استعمال کرتے ہوئے چین کے خلاف اس کا  تعاون مانگے گا۔ روس نے غلط اندازہ لگایا کہ بائیڈن  تویورپ کے اندر ایک طویل جنگ کے ذریعے اپنے حریفوں کو جلانا چاہتا تھا،  اور ساتھ ہی روس کے خطرے کو استعمال کرتے ہوئے یورپ کو امریکہ کے بازو تلے دبائے رکھنا چاہتاہے۔

 

غور طلب بات یہ ہے کہ شام میں روس کی جانب سے ادا کیے جانے والے کردار نے روس کو اپنی عظمت کا غلط  احساس دلایا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ وہیں واپس اس مقام پر آ گیا ہے جہاں سوویت یونین کبھی افغانستان کے جال میں پھسنے سے قبل تھا ۔  پوٹن اس بات کا خواہش مند تھا کہ  روس اور امریکہ دونوں مل  کے مشترکہ طور پر عالمی معاملات کو سنبھالیں ۔ اس لیے پوٹن نے روس کو ایک بڑی طاقت کے طور پر سمجھا، جو حیثیت میں امریکہ کے برابر ہے۔ افغانستان میں امریکہ کی تذلیل، چین کے ساتھ دشمنی پر امریکہ کی توجہ، امریکہ کی اندرونی سیاست میں شدید اختلافات ( پولرائزیشن) اور 2016 کے امریکی انتخابات میں ہونے والی  ہیرا پھیری میں روس کا کردار اور امریکی نجی اور سرکاری انفراسٹرکچر کے خلاف روسی سائبر حملوں نے روس کو یہ جھوٹا اعتماد دلایا کہ وہ امریکہ کے برابر ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ امریکہ زوال کا شکار ہے اور شاید یہی وقت ہے کہ روسی فائدے کے لیے امریکی کمزوری سے فائدہ اٹھایا جائے۔ تاہم، روس اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگا رہا تھا، اور وہ یوکرین کی دلدل میں پھنس گیا ۔

 

امت اسلامیہ کے سامنے دنیا کے حالات واضح ہیں کہ اس وقت دنیا کے معاملات سفاک بڑی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہیں، جو مادی مفادات  کے حصول کے لیے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں جس کی انسانیت کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ۔ امت اسلامیہ ہی دنیا کو بڑی استعماری طاقتوں سے نجات دلائے گی جو دنیا میں جنگل کے درندوں کی طرح گھومتی ہیں، اور کمزوروں کو کھا جاتی ہیں۔ آج کی بڑی طاقتوں کی کشمکش پرانے وقتوں کی  فارسیوں اور رومیوں کے درمیان کشمکش کی طرح ہے، اورجب وہ آپس میں لڑ لڑ کر تھک رہے تھے اور دنیا اُن کی ہوس گیری سے تنگ آچکی تھی تو اسی دوران اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسلام کو ایک ریاست، حکومت اور طاقت کے طور پر دنیا میں قائم کیا تھا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جو کچھ نازل کیا ہے اس کے مطابق حکمرانی کرتے ہوئے اور اللہ کی راہ میں جہاد کے ذریعے ظلم کو دور کرتے ہوئے امت کو اپنی اصل حالت کی طرف لوٹنا چاہیے۔ صرف اسلام ہی ہے جو کمزوروں کی حفاظت کرتا ہے اور مظلوم کو انصاف فراہم کرتا ہے، جبکہ اسلام کا غلبہ قائم کرنا مسلمانوں پر فرض ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نبوت کے نقش قدم پر خلافت کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کریں جس کی واپسی کی اللہ کے رسول ﷺ نے بشارت دی ہے، 

 

«ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ»

"پھر نبوت کے نقش قدم پر خلافت قائم ہو گی۔"(احمد نے روایت کیا)۔

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے یہ مضمون لکھا گیا

انجینئرمعیز، ولایہ پاکستان

Last modified onبدھ, 08 جون 2022 20:48

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک