الجمعة، 09 ربيع الأول 1443| 2021/10/15
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

کابل میں اتھارٹی حاصل کرنے کے بعد احتیاطی معاملات

 

خبر:

سی آئی اے کے ڈائریکٹر، ولیم برنز نے طالبان کے عملی طور پر سربراہ عبدالله غنی برادر سے 23اگست بروز پیر کے دن مبینہ طور پر خفیہ ملاقات کی۔ یہ طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سب سے اعلی سطح کی سفارتی ملاقات ہے۔ امریکی عہدےداران نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ صدر بائیڈن نے اپنے سینئیر ترین انٹیلی جنس جاسوس کو برادر سے ملاقات کے لئے کابل بھیجا، جب کہ اس دوران امریکہ کابل سے اپنے شہریوں اور مقامی سہولت کاروں کے انخلا میں سرگرم عمل ہے اور کابل ائیر پورٹ پر مسلسل افراتفری کی صورتحال ہے۔ برادرطالبان کے سینئیر ترین لیڈران میں سے ہیں جنہوں نے انتہائی تیزی کے ساتھ افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد  15 اگست کو حکومت کی بھاگ ڈور سنبھالی ۔ یہ برادر ہی تھے جو قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے بھی سربراہ تھے۔ واشنگٹن پوسٹ نے مزید لکھا کہ برادر نے 8سال قید میں گزارے جب ان کو سی آئی اے نے 11سال قبل پاکستان کے ساتھ مل کر ایک آپریشن میں کراچی سے گرفتار کیا تھا۔ برادر، طالبان کے بانی ملا عمر کے قریبی دوست بھی ہیں، انھوں نے قطر میں امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کی قیادت کی، اور امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ امریکی افواج کے انخلا کا معاہدہ بھی کیا۔ (نیو یارک پوسٹ)

 

تبصرہ:

افغانستان سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں نے کفر کے سردار امریکا کے خلاف افغان مسلمانوں کی شاندار فتح پر تشکر کا اظہار کیا۔ وہ جنگ جو 11ستمبر کے واقعات کے بعد سے امریکا نے عالم اسلام کے خلاف جاری رکھی ہوئی ہے اس میں سے ایک محاذ پر مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ امریکا نے اس جنگ کو "صلیبی جنگ" اور "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے ناموں سے پکارا۔ امریکا اس جاری جنگ میں بری طرح ناکام رہا اور اس کے کئی شواہد موجود ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ امریکا مسلمانوں کو جنگ میں ہرانے سے قاصر رہا، باوجودیکہ مسلمانوں کی تعداد، ان کے پاس موجود اسلحہ اور ان کی قوت امریکا کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔ مزید برآں، مسلمانوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ اس فتح کے بعد الله کے نازل کردہ وحی سے حکمرانی ایک بار پھر ممکن ہو پائے گی جس سے ہماری امت پچھلے 100ہجری سال سے محروم ہے، جب سے عثمانی خلافت کا 1342ہجری (1924ء ) میں انہدام ہوا۔ ان دو وجوہات کی بنیاد پر تمام مسلمانوں میں خوشی کی لہر  دوڑ گئی۔

 

مگر یاد رہے کہ آنے والے دنوں میں اس خوشی کے موقع کی وجہ سے کہیں ہم اس اہم ترین فریضے سے غفلت نہ برتنے لگیں جو تمام مسلمانوں پر فرض ہے، خاص طور پر ان پر جو افغانستان پر حکمرانی کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس لئے ہمیں واپس اپنے نبی ﷺ کی سیرت کی طرف دیکھنا ہو گا تاکہ ہم طاقت کے حصول کے بعد کے مرحلے میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں سیرت سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔ ہمارے لئے رسول الله ﷺ کے اعمال میں واضح طور پر رہنمائی موجود ہے کہ جب آپ ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے مہاجرین ؓاور انصار ؓمیں اخوت قائم کی۔ آپ ﷺ نے اس نئی اسلامی ریاست کی قوی بنیاد رکھی۔ آپ ﷺ نے ریاست کے دستور کو قرآن و سنت سے تشکیل کیا۔ آپ ﷺ نے آس پاس کے قبائل کی جانب سے ریاست کے دفاع کو یقینی بنایا۔ پھر ان سب کے بعد آپ ﷺ نے اسلامی فتوحات شروع کیں حتیٰ کہ ریاست کی حدیں روم و فارس سے جا ملیں۔

 

پس، کابل پر حکمرانی پر فائز مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی دیرینہ سنت پر عمل پیرا ہوں۔ ان کو چاہیے کہ وہ امت میں موجود مخلص لوگوں، جیسے حزب التحریر کے ساتھ جڑ جائیں جن کو الله سبحانہ و تعالیٰ نے شرعی اور سیاسی بصیرت سے نوازا ہے۔ بے شک حزب ہی اسلام کے ذریعے حکمرانی کرنے، یعنی خلافت کے نظام کو نافذ کرنے کی سب سے زیادہ اہلیت رکھتی ہے۔ پس طالبان میں موجود مخلص مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حزب التحریر کو نصرہ دیں تاکہ نبوت کے نقش قدم پر خلافت کے قیام کی عملی شکل اور پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں اور خلافت کے احیا کا باقاعدہ اعلان کیا جا سکے۔

 

بے شک کفر کے خلاف اس تاریخی کامیابی کی بقا و تحفظ اور اسلام کے نظام حکمرانی یعنی خلافت کے اعلان کی تیاری کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ ان خطرات کے خلاف احتیاط برتی جائے جو اسلام اور مسلمانوں پر ضرب لگانے کی طاق میں رہتے ہیں، چاہے وہ خطرات داخلی ہوں یا خارجی۔ جہاں تک داخلی خطرات کی بات ہے تو یہ وہ ایجنٹ ہیں جنہیں امریکا نے پروان چڑھایا۔ وہ امریکا کے ساتھ امریکی ٹینکوں پر سوار اس خطے میں داخل ہوئے، جیسا کہ عبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی۔ یہ لوگ کفار کے سردار امریکا کے وفادار ایجنٹ ہیں۔ امریکا کی طرح ان ایجنٹوں کے ہاتھ بھی مسلمانوں کے پاکیزہ خون سے داغدار ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان ایجنٹوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا حرام ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ امت سے غداری کے بدلے میں ان ایجنٹوں کا سخت ترین محاسبہ ہو۔

 

یہ درست ہے کہ آپ ﷺ نے مکہ کے تمام لوگوں کے لئے، جنہوں نے آپ ﷺ پر ظلم کیا، عام معافی کا حکم جاری کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ الطُّلَقَاءُ "جاؤ تم سب آزاد ہو"۔ لیکن یاد رہے کہ آپ ﷺ نے چھ لوگوں کو معاف نہیں کیا جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ النسائی نے اپنی سنن میں مصعب بن سعد سے نقل کیا جنہوں نے اپنے والد سے سنا کہ،  لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ إِلاَّ أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ وَقَالَ ‏اقْتُلُوهُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ‏ "آپ ﷺ نے تمام لوگوں کے لئے امان دی سوائے چار مردوں اور دو عورتوں کے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ 'ان کو قتل کر دو حتیٰ کہ یہ تمہیں اس حال میں ملیں کہ کعبہ کی چادر سے لپٹے ہوئے ہوں۔'"

 

مزید برآں، حامد کرزئی اور وہ جو اس کی حکومت کے حصہ تھے ایسے وفادار امریکی ایجنٹ ہیں کہ وہ امریکا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آج بھی اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان سے کچھ کی وفاداریاں قطر کے ساتھ ہیں اور کچھ کی کسی اور کے ساتھ۔ الله سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

"اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا" )سورة المائدہ 5:51 )

 

جہاں تک خارجی خطرات سے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تو جان رکھیں کہ امریکا نے ہماری سرزمین پر حملہ تجارت یا سیاحت کے لئے نہیں کیا تھا۔ بلکہ امریکا یہاں ایک استعماری قوت کی حیثیت سے آیا تھا تاکہ اسلام کے احیا یعنی خلافت کے دوبارہ قیام کو روکا جا سکے اور مسلمانوں کے وسائل کی لوٹ مار کی جا سکے۔ لہٰذا طالبان یا کوئی بھی دوسرا ہرگز یہ گمان نہ رکھے کہ امریکا مسلمانوں کا حمایتی یا اتحادی ہو سکتا ہے۔ امریکا ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کا کھلا دشمن رہے گا جو اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا موقع تلاش کرتا رہتا ہے۔ اس پس منظر میں اعلی سطح کے امریکی جاسوس سے ملاقاتیں نہ اسلام کو فائدہ دیں گی اور نہ ہی مسلمانوں کو۔ آپ کو فلسطین کی PLO سے سبق سیکھنا چاہیے جو کہ قابض یہودی وجود کے ساتھ مذاکرات کی میز بیٹھے اور آج انہی قابض یہودیوں کے وفادار بن چکے ہیں۔ الله سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

وَلَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ قُلْ إِنَّ الْهُدَىٰ هُدَى اللَّهِ أَن يُؤْتَىٰ أَحَدٌ مِّثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ ۗ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

"اوراپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو ان سے کہہ دو کہ بے شک ہدایت وہی ہے جو الله ہدایت کرے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے روبرو قائل معقول کر سکیں گے، ان سے کہہ دو کہ فضل الله کے اختیار میں ہے جسے چاہے وہ دیتا ہے اور الله کشائش والا جاننے والا ہے" )سورة آل عمران 3:73 )

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لئے بلال مہاجر، پاکستان نے تحریر کیا

Last modified onجمعرات, 02 ستمبر 2021 02:05

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک