الثلاثاء، 16 ربيع الثاني 1442| 2020/12/01
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

اے پاکستان کے مسلمانو! عوامی بالادستی اور فوجی بالادستی کے لاحاصل جھگڑے سے منہ پھیر کر

خلافت کے قیام کی جدوجہد کرو جو اللہ کے قانون کی بالادستی قائم کرے گی

 

                  یہ بات نہایت واضح ہے کہ "نیا پاکستان" منصوبہ ناکام ہوچکا ہے، جس نے پاکستان کے مسلمانوں کو غربت ، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کی دلدل میں دھکیل دیا ہےجبکہ دوسری طرف پاکستان کے مسلمانوں کا دل مقبوضہ کشمیر میں ہندو ریاست کے ظلم و جبر کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کے باعث غم سے بھرا ہو ا ہے۔"نیا پاکستان" منصوبے کی ناکامی اس قدر شدید اورہمہ گیر ہے کہ موجودہنظامِ حکمرانی کے حوالے سے لوگوں کو پُرامید رکھنے کی ہر کوشش ناکام نظر آتی ہے۔

                  "نیا پاکستان" منصوبہ اس لیے ناکام ہوا کیونکہ موجودہ نظام اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قوانین کی بجائے انسانوں کے بنائے قوانین کو بالادست قرار دیتا ہے۔ انسان کا بنایا یہ نظام اب تک اس لیے برقرار ہے کیونکہ اس کا چلنا سیاسی و فوجی قیادت میں موجود کرپٹ عناصر کے مفاد میں ہے۔ یہ نظام کرپٹ عناصرکوکرپشن کرنے کا کھلا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اس مسلم سرزمین پر پھیلے ہوئے وسائل اور دولت کی لوٹ مار کریں، خواہ یہ زرداری، نواز یا جہانگیر ترین جیسے سیاست دان ہوں یا مشرف، کیانی اورعاصم باجوہ جیسے فوجی افسران ہوں۔ لہٰذا کرپٹ عناصر اس نظام کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ بازی کرتے ہیں ،سودے بازیاں کرتے ہیں،پینترے بدلتے اور یو ٹرن لیتے ہیں تا کہ دونوں ہاتھوں سےملک کولوٹ سکیں۔ یہ لوگ اس نظام کے اردگرد منڈلاتے رہتے ہیں اور سیاسی ہوا کے رُخ کو دیکھ کر اپنی وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں تا کہ انہیں ملکی دولت لوٹنے کا ایک اور موقع ہاتھ آئے اور یہ اپنی ہوس کو تسکین پہنچاسکیں۔

                  پاکستان کی سیاسی و فوجی اشرافیہ میں موجود کرپٹ عناصرپر یہ بات عیاں ہے کہ لوگ یہ جان چکے ہیں کہ موجودہ نظامِ حکمرانی بذات خود ناکام ہوچکا ہے۔ لیکن کبھی ختم نہ ہونے والی ہوس کرپٹ عناصر کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ کوئی نیا منصوبہ سامنے لا کر مسلمانوں کو بیوقوف بنائیں تاکہ یہ ناکارہ نظام چلتا رہے اور ان کے مفادات کا حصول بھی جاری و ساری رہے۔ پس ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی بالادستی، فوجی بالادستی، صدارتی نظام ، پارلیمانی جمہوریت، عمائدین کی کونسل اورمخلوط سیاسی و فوجی حکومت (ہائی برِڈ حکومت) جیسے لاحاصل موضوعات پر بحث و مباحثے کا ایک گورکھ دھندا ہے کہ جس میں معاشرے کو الجھایا جا رہا ہے۔ حکمران اشرافیہ کے مختلف دھڑوں کے خریدے ہوئے نمائندوں کی طرف سے، ان موضوعات پر شروع کردہ یہ بحث درحقیقت زیادہ سے زیادہ طاقت کے حصول کی کشمکش کی خاطر ہے ،جس کے نتیجے میں نہ تو پاکستان کے مسلمانوں کا کوئی مسئلہ حل ہو گا اور نہ ہی انہیں عزت و خوشحالی حاصل ہوگی۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

قرآنِ پاک جو کہ ہر شک و شبے سے بالاتر کتاب ہے کہ جس میں جھوٹ کہیں سے داخل نہیں ہوسکتا، میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں خبردار کیا ہے کہ اس کی ہدایت سے منہ موڑنے کے نتیجے میں زندگی کا تنگ ہوجانا یقینی ہے، ارشاد فرمایا،

«وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ»

"اور جو میری نصیحت (قرآن)سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے"(طہٰ، 20:124)۔

یقیناً انسانوں کے بنائے حکمرانی کے نظام سے جنم لینے والے تمام منصوبے ہمیں ناکامی سے ہی دوچار کریں گے۔

                  حالیہ سیاسی تجربے نےاللہ سبحانہ و تعالیٰ کے کلامکی سچائی کو ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے۔ ماضی میں ہم مشرف –عزیز منصوبے سے نکل کر کیانی-زرداری منصوبے میں داخل ہوئے۔ پھر ہم کیانی-زرداری منصوبے سے نکل کر راحیل-نواز منصوبے میں داخل ہوئے اور اس کے بعد ہم نے باجوہ-عمران منصوبے یعنی "نیا پاکستان" میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ان تمام منصوبوں میں ہم نے انسانوں کے بنائے ہونے نظام سے جنم لینے والی مصیبتوں اور تکالیف سے نجات حاصل کرنے کے لیے دوبارہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظام میں ہی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی! ہم نے بار بار بھلائی کے حصول کی امید لگائی جبکہ ہم نے ایسے لوگوں کی پیروی کی کہ جنہوں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ہدایت کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے،جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

«قُلِ اللَّهُ يَهْدِي لِلْحَقِّ أَفَمَن يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّي إِلَّا أَن يُهْدَىٰ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ»

" کہہ دو کہ اللہ ہی حق کا رستہ دکھاتا ہے۔ بھلا جو حق کا رستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے رستہ نہ بتائے وہ رستہ نہ پائے۔ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو؟"(یونس، 10:35)۔

 

واقعی، یہ کہاں کا انصاف ہوگا کہ اگر ہم اب بھی جھوٹ، گمراہی اور اللہ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی موجودہ نظام سے برآمد ہونے والے کسی بھی نئے منصوبے سے امید لگائیں؟

 

  اے پاکستان کے مسلمانو!

انسانوں کے بنائے ہوئے اِس ناکام نظام سے منہ موڑ لو اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قانون کی بالادستی کو دوبارہ قائم کرنے کی طرف قدم بڑھاؤ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،«إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ»"بالادست حاکمیت اللہ کےسواکسی کے لیے نہیں ہے"(یوسف، 12:40)۔ یہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہی ہو گی جو اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہمارے آئین کی ہر ایک شق اور ہر وہ قانون جو ہم پر نافذ کیا جائے گا صرف اور صرف قرآن و سنت سے ہی اخذ کیا گیا ہو۔

 

                  اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا مربوط قانون اس بات کی روک تھام کرتا ہے کہ کوئی بھی حکمران یاحکومتی عہدیدار اپنی تقرری کے دوران بڑے پیمانے پر دولت جمع کر لے اور خلافت اس غیر قانونی دولت کو فوراً ضبط کر کے بیت المال میں جمع کرائےگی۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے سود کے خلاف جنگ کا اعلان کیا  ہے ، تو یہ خلافت ہی ہوگی جو پاکستان کو سودی قرضوں کے شکنجے سے نکالے گی۔ اللہ کے قانون کی رُو سے لوگوں کے امور کی نگہبانی حکمران کی بنیادی ذمہ داری ہے،پس خلافت صحت کی معیاری اور ممکنہ حد تک اعلیٰ سہولیات مفت فراہم کرے گی جیسا کہ وہ اس سے پہلے صدیوں تک فراہم کرتی رہی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قانون اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کو اُس آتشِ جہنم سے بچائیں کہ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہو ں گے، پس خلافت میں  مفت  تعلیم کی فراہمی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہمارے بچے تقویٰ سے بھرپوراسلامی شخصیات بنیں اور ساتھ ہی دنیاوی معاملات میں بھی زبردست ترقی کریں۔

 

                  اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قانون ہمیں رنگ و نسل ، زبان اورعلاقے سے قطع نظر ایک ہی امت قرار دیتا ہے اوریہ خلافت ہی ہو گی جو اللہ کے حکم کے مطابق تمام مسلم علاقوں کو ایک ریاست کی شکل میں یکجا کرنے کے لیے کام کرے گی کہ جس کا ایک ہی حکمران ہوگا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قانون ان اقوام کے ساتھ گٹھ جوڑ بنانے سے منع کرتا ہے کہ جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں اورمسلمانوں کے علاقوں پر قبضہ کرتے ہیں یا اس عمل میں دوسروں کی مدد کرتے ہیں ، پس خلافت امریکا کے ساتھ جاری تباہ کن اتحاد کو ختم کردے گی اور ہندو ریاست اور یہود ی وجود کے خلاف جنگی پالیسی کا راستہ اختیار کرے گی۔

 

                  انسانوں کے بنائے ہوئے جابرانہ نظام کی کرپشن، امور سے غفلت، ظلم اور دھوکے پر مبنی حکمرانی کے منصوبوں سے صرف ایک ہی نظام اور منصوبہ تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ ہمارا نیا منصوبہ حزبالتحریر اور ہمارا نیا نظامِ حکمرانی خلافت ہونا چاہیے۔ امام احمد نے یہ حدیث روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

،«ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ»

"پھر ظلم کی حکمرانی ہو گی اور اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے ختم کردے گا۔ پھر نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت ہو گی۔ پھر آپﷺ خاموش ہوگئے"

(مسند احمد)۔

 

اے افواج پاکستان کے افسران!

آپ اپنی قیادت میں موجود مٹھی بھرکرپٹ افراد کواس بات کی ہرگز اجازت نہ دیں کہ وہ معزز افواجِ پاکستان کی قوت کو انسانوں کے بنائے ناکام نظام کو قائم رکھنے کے لیے استعمال کریں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آپ کو قوت و طاقت بخشی ہے جسے اب لازمی طور پرپاکستان کے اچھے عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ یقیناً رسول اللہﷺ نے مدینہ میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قانون کی بالادستی قائم کی اور یہ کام انہوں نے انصارکی نُصرۃ حاصل کر کے کیا۔ جنگ و حرب میں آج آپ انصار کے وارث ہیں اور اب آپ پر لازم ہے کہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو نُصرۃ فراہم کریں ۔ اٹھیں اورخلافت کے قیام کے عظیم فرض کے لیے نُصرۃ دے کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کریں اور خود کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

«إنَّ النَّاسَ إَذا رَأوُا الظَّالِمَ فَلمْ يَأْخُذُوا عَلى يَدَيْهِ أوْشَكَ أن يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بعِقَاب»

"لوگ جب ظالم کو ظلم کرتادیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ روکیں، تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے"(ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ)۔

 

ہجری تاریخ :20 من صـفر الخير 1442هـ
عیسوی تاریخ : بدھ, 07 اکتوبر 2020م

حزب التحرير
ولایہ پاکستان

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک