الخميس، 07 صَفر 1442| 2020/09/24
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

صرف خلافت ہی کراچی کو جمہوری وفاقی نظام تلے برتی جانے والی شدید غفلت سے نجات دلائے گی

 

                  مون سون کی شدید بارشوں کے بعد کراچی کا بڑا حصہ بارش اور گٹر کے پانیوں میں کمر کمر تک ڈوب گیا، اربوں کی املاک تباہ وبرباد ہو گئیں اور اِس دوران بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی جس کے نتیجے میں کئی دنوں کے لیے زندگی کی ہر سرگرمی مفلوج ہو گئی۔ اس طرح پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ساتھ دہائیوں سےبرتی جانے والی غفلت نے چند ہی دنوں میں ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر لی، وہ شہر کہ جو دو کروڑ لوگوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور جوپاکستان کا معاشی مرکز ہے۔

 

                  پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت کے موجودہ سیٹ اپ کو ، جو دو سال حکمرانی کے باوجود کراچی کے لوگوں کی مشکلات و مصائب پرتوجہ دینے میں ناکام رہا ہے،جب عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا تواس نے شرمندگی کے عالم میں اجلت کے ساتھ "کراچی ٹرانسفارمیشن پلان "کا اعلان کیا۔ لیکن اس منصوبے کے اعلان کے محض ایک دن بعد، 6 ستمبر 2020 کو حکومت کے دو دَرجوں،یعنی وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اس منصوبے کی فنڈنگ پر تندوتیز لڑائی شروع ہو گئی۔ حکومت کا اعلان کردہ یہ منصوبہ اپنی ابتدا سے قبل ہی ناکام ہورہا ہے کیونکہ یہ عرصہ دراز سے کراچی میں موجود گہری تقسیم و تفریق کی بنیادی وجہ کو اپنا موضوع بنانے اوراس کا حل پیش کرنےمیں ناکام ہے، اور یہ وجہ جمہوری طرزِ حکومت ہے۔

 

                  وفاقی طرزِحکومت کے ذریعے جمہوریت کراچی میں حکمرانی کونیچے سے اوپر تین درجوں میں تقسیم کرتی ہے؛ شہری ، صوبائی اور وفاقی حکومت، اور ان حکومتوں کو الگ الگ انتخابات کے ذریعے تشکیل دیا جاتا ہے۔ حکومت کے ایک سے زائد مراکز کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا نتیجہ عوامی امور سے غفلت کی صورت میں نکلتا ہے کیونکہ وفاقی، صوبائی اور شہری حکام ذمہ داری قبول کرنےسے انکار کرتے ہیں اور وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ امور اُن کے دائراہِ اختیار سے باہر ہیں۔ اس وقت بھی کہ جب کراچی مشکل صورتِ حال سےنکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہا ہے ، ایم کیو ایم شہر میں، پی پی پی صوبے میں اور پی ٹی آئی وفاق میں کراچی کے مسئلے پر ایک دوسرے کی طرف انگلیاں اٹھانے میں مشغول ہیں۔

 

                  جمہوریت اقتدار کی تقسیم (Separation of powers)کے ذریعے حکمرانی کو متوازی سطح پر مختلف وزارتوں میں تقسیم کر دیتی ہے ، جیسا کہ پانی، بجلی اور خوراک وغیرہ کی خودمختاروزارتیں، اور ساتھ ہی ساتھ اداراتی تقسیم کے ذریعے مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں تقسیم کر دیتی ہے۔ اختیارات کی اس متوازی تقسیم کا نتیجہ ایک قابلِ احتساب حکومت کے قیام کی بجائے لوگوں کے امور سے غفلت کی صورت میں نکلتا ہے کیونکہ وزارتیں اور ادارے ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے اور الزامات لگانے میں لگے رہتے ہیں۔

 

                  اور قانون سازی کے لیے سیاسی نمائندگی کو وسیع اور متنوع بنانے کے ذریعے، جمہوریت کراچی جیسے کئی قومیتوں والے بہت بڑے شہرکے باسیوں کوسیاسی دھڑوں میں تقسیم کر دیتی ہے جس میں سے ہر دھڑا مہاجریا سندھی یا پٹھان یا پنجابی یا پھربلوچوں کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ پس جمہوریت کی وجہ سے کراچی کی سیاست اور قانون سازی مختلف سیاسی گروہوں کے درمیان شدید کشمکش کا باعث بنتی ہے، جبکہ انتخابات کا وقت تو جنگی صورتِ حال کا منظر پیش کرتاہے،جس میں پُرتشدد واقعات اور انسانی جانوں کا ضیاع ایک معمول ہے۔

 

اے پاکستان کے مسلمانو!

سات دہائیوں سے جمہوریت کراچی کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ جمہوریت انسانوں کا خود ساختہ ناقص نظام ہے جو کبھی بھی معاشرے اور ریاست کے درمیان یکجہتی اور یگانگت پیدا نہیں کرسکتا۔ جمہوریت کی تمام شکلیں ناکام ثابت ہوئی ہیں، چاہے یہ عوامی پارلیمانی جمہوریت ہویا فوجی صدارتی جمہوریت یا پھر ان دونوں کاموجودہ مخلوط ماڈل ۔ یہاں تک کہ جمہوریت کا عالمی علمبردار امریکا بھی جمہوریت کی وجہ سے شدید تقسیم سے دوچار ہے ، جہاں اس سال صدارتی انتخابات کی سرگرمیوں کے دوران مختلف نسلی گروہ بندیوں، حکومت کے مختلف درجوں اورمتوازن اداروں کےدرمیان تنازعات واضح ہیں۔

 

                  صرف خلافت ہی اسلام کے نفاذ کے ذریعے اس تباہ کن تقسیم کے عمل کو ختم کرے گی۔ اسلام میں حکمران قوانین اللہ کی نازل کردہ وحی یعنی قرآن و سنت سے اخذ کرتا ہے جبکہ جمہوریت میں سیاسی گروہ اپنے اپنے مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہوئےقوانین بناتے ہیں۔ اسلام میں حکمرانوں کو اسلام کے قوانین کی پیروی کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ

"اور اگر تمہارے درمیان کسی بات پر اختلاف ہو ،تو اگرتم اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، تو اس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ(کے حکم) کی طرف رجوع کرو"(النساء، 4:59)۔

 

اسلامی خلافت میں محکمۂ مظالم کی عدالت خلیفہ سمیت کسی بھی حکمران کو غیر اسلامی قانون کے نفاذ پر ہٹا سکتی ہے۔ اگر حکمران اپنے ہٹائے جانے پر مزاحمت کرے تو امت اوراہلِ قوت پر لازم ہے کہ اسے قوت کےبل بوتے پر ہٹائیں۔ اس کے علاوہ مرکز میں مجلسِ امت اور صوبوں میں موجود مجلسِ ولایہ میں موجود سیاسی جماعتیں اور عوامی نمائندےاسلام کی بنیاد پر حکمرانوں کو مشورہ دیتے ہیں۔ یوں افواج، عدلیہ ، اسمبلیاں اور حکمران سب کے سب ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے کام کرتے ہیں،یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بندگی ۔

 

                  اسلام میں خلیفہ ہی وہ اتھارٹی ہے جو ریاست میں موجود تمام حکمرانوں کے اقدامات کے لیے براہِ راست جواب دہ ہوتا ہے خواہ یہ صوبوں کے والی ہوں یا شہروں کےعامل۔ صرف خلیفہ ہی وہ مجاز اتھارٹی ہوتا ہے جو صوبے یا شہر کے لوگوں کی شکایت پر نااہل والی یا عامل کو اہل اشخاص سے براہِ راست تبدیل کر سکتا ہے۔ایسا اس وجہ سے ہے کہ اگرچہ قانون سازی کا اختیار اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے خاص اپنے لیے ہی رکھا ہے لیکن اسلام کی بنیاد پر حکمرانی کرنے کا اختیار اللہ سبحانہ و تعالیٰ نےاسلامی امت کو دیا ہے۔ امت بغیر کسی جبر و دباؤ کے ہونے والی بیعت کے ذریعے خلیفہ کو اختیارسونپتی ہے جس کے بعد خلیفہ دنیا میں امت کے سامنے اور آخرت میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کا مکمل طور پر ذمہ دار ہوتا ہے۔

 

                  جہاں تک شہریت کا تعلق ہے تو خلافت میں امت خود کو ایک واحد وجود کے طور پر دیکھتی ہےجو ناقابلِ تقسیم ہے اور صرف اسلامی عقیدے کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہے۔ اس امتِ واحدہ کورنگ، نسل، زبان یا علاقائی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا، پس کوئی بھی سیاسی جماعت زمانہ جاہلیت والی اس تقسیم وتفریق کی بنیادپر قائم نہیں کی جا سکتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

«مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ»

" جس نے (رنگ، نسل ، علاقے کی)عصبیت کی طرف دعوت دی، جس نے عصیبت کی بنیاد پر کسی کی مدد کی اوراس اندھی تقلید میں لڑتے ہوئے مارا گیا ، تو وہ جاہلیت کی موت مرا"(مسلم)۔

 

جہاں تک انتظامیہ کا تعلق ہے تو خلیفہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ عدم مرکزیت (Decentralization)پر مبنی ہو تا کہ احکامات پر تیز رفتاری سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ہر صوبے اور شہر کی ضرورت کے مطابق اسے وسائل فراہم کرتا ہے ، نہ کہ اس کی آبادی یا اسمبلیوں میں اس علاقے کی نمائندگی کی بنیاد پر۔لہٰذا کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریاست کا ردعمل تیز اور موثر ہوتا ہے جیسا کہ خلیفۂ راشد حضرت عمر ؓ کے دور ِخلافت میں مدینہ میں پڑنے والے قحط کے موقع پرہوا۔

 

اے مسلمانانِ پاکستان!

کیا منقسم اور مشکلات کا شکار شہرِکراچی ہمیں شہر مدینہ کی یاد نہیں دلاتا جب وہ اسلام کی روشنی سے منور ہو کر مدینہ المنورہ نہیں بنا تھا؟ اسلامی امت کی صورتحال کسی بھی سطح پر ٹھیک نہیں ہو گی ، چاہے وہ شہرکی سطح ہو یا امت کی سطح ، جب تک ہم اس طرف رجوع نہیں کرتے جو ابتداً درست تھایعنی اسلام کی حکمرانی۔ اسلامی خلافت نےتیرہ سو سال کے عرصے میں مدینہ، دمشق، بغداد ، قاہرہ اور استنبول جیسےعظیم الشان شہر قائم کیے جو کہ دنیا میں اپنی مثال آپ تھے اور خلافت اپنے قیام کے بعددوبارا ایسا کرے گی۔ لہٰذا ہم سب کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ مضبوط عہد کرنا چاہیے اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے، کسی سے خوف کھائے بغیراور کامیابی کے لیے صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہوئے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا،

إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الأَشْهَادُ

"ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس (قیامت کے)دن بھی کہ جس دن گواہ (گواہی کے لیے) کھڑے ہوں گے"(غافر، 40:51)۔

 

ہجری تاریخ :21 من محرم 1442هـ
عیسوی تاریخ : بدھ, 09 ستمبر 2020م

حزب التحرير
ولایہ پاکستان

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک