الجمعة، 11 رمضان 1442| 2021/04/23
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال کا جواب

ایرانی ایٹمی سائنس دان فخری زادہ کا قتل

 

سوال:6 دسمبر 2020 کو فرانس-24 نے ایران پاسداران انقلاب کے  نائب سربراہ بریگیڈئرجنرل علی فدوی کا بیان نشر کیا کہ،"محسن فخری  کو ایک مشین گن کی تیرہ گولیوں کے ذریعے قتل کیا گیاجس نے زادے کی شکل کو ایک جدید کیمرے اور آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی مدد سے نشانہ بنایا"۔  اس سے قبل2 دسمبر2020  کو گارڈین کونسل ، جو  ایرانی شوری کونسل (پارلیمنٹ) کے کام کی نگرانی کرتی ہے، نے یورینم کی افزودگی میں 20فیصد اضافے کے قانون کی منظوری دی تھی اور پھر محسن فخری کے قتل کا واقعہ ہوا ۔۔۔اسی قانون کی وجہ سے صدرحسن روحانی کی حکومت، جو کہ اس کو "نقصان دہ" کہہ کر اس کی مخالفت کر رہی تھی،  اور پارلیمنٹ کے درمیان  تنازع شروع ہوا ۔ پارلیمنٹ نے  نو شقوں کے ساتھ اس قانون کو منظور کیا تھا! ایران میں مسلمانوں کے ایک اہم ترین ایٹمی سائنسدان کے قتل کے بعد  انتقامی اقدامات کی بجائے باہمی اختلافات کیسے پیدا ہوسکتے ہیں،  خاص طور پر جب ایران نے خود کہا کہ  اس قتل کے پیچھے یہود کی ریاست ہے؟ کیا یہ اختلاف ایٹمی سائنسدان کے قتل کے معاملے کو دبانے  کے لیے ہے جیسا کہ قاسم سلیمانی کے قتل کے معاملے کو ایرانی حکومت نےدبادیا تھا؟

 

جواب: جواب کو واضح کرنے کے لیے ہم مندرجہ ذیل امور کی وضاحت کریں گے:

اول: جمعہ 27 نومبر 2020 کو ایرانی وزارت دفاع کے عہدہ دار اور ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کو جس جگہ اور جس طریقے سے قتل کیا گیا یہ ایرانی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔  یہ قتل جنوری 2020 میں  القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل سے کم اہم نہیں، کیونکہ سفارتکاروں کے رپورٹس میں  ان کو "ایرانی ایٹم بم کا باپ کہا گیا ہے"( بی بی سی 27/11/2020)۔ یہ ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کے حوالے سے مرکزی شخصیت تھے اور ان کے قتل کا یہ واقعہ ایران کے اندر بلکہ دار الحکومت تہران کے قریب ہوا،  ، سلیمانی کے قتل  کی طرح عراق میں نہیں ہوا،  اور قتل کا طریقہ کارجس میں بارود سے بھر گاڑی اور خود کار اسلحہ (مشین گن) استعمال کی گئی،  یہ بھی ہر لحاظ سے ایران کے لیے بڑا چیلنج ہے۔  اگر چہ ایرانی ایٹمی سائنسدانوں کا قتل کا سلسلہ کبھی نہیں رکا اور ایرانی حکومت ہمیشہ یہودی ریاست پر الزام لگا کر اس کو مناسب وقت اور مناسب جگہ جواب دینے کی دھمکی دیتی رہتی ہے مگر حسب عادت کبھی جواب نہیں دیا تاہم موجودہ بین الاقوامی صورتحال،  جس میں قتل کا یہ واقعہ ہوا، مختلف ہے خاص کر امریکی انتخابات کے نتائج سے پیدا ہونے والی صورتحال  میں جب امریکہ اندرونی طور پر تقسیم ہے اور شش وپنچ میں مبتلاہے۔

 

دوئم: قتل کے اس واقع کا الزام  ایران نے یہود کی ریاست پر لگانے میں جلد بازی سے کام لیا، یہ ممکن تھا کہ اس کو  یہود کی جانب سے  ایرانی ایٹمی اور میزائل صلاحیتوں کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ کہا جاتا۔ اسی طرح  یہودی  وجود کے لیے بھی   ممکنہ انتقامی کاروائی سے بچنے کے لیے چھپنا اور حسب عادت  تردید ممکن تھی،  مگر اِس بار اُس نے ایسا نہیں کیا، بلکہ  ایسے اشاروں سے، جو اعتراف کے قریب ہیں، یہ بتایا کہ اس نے ہی یہ کی قتل کیا ہے، اور ایسا کرنا  ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گرین سگنل کے بغیر ممکن نہیں تھا۔  یقیناً ٹرمپ انتظامیہ کم ازکم یہودی وجود کی جانب سے اس قتل پر مطمئن تھی!اس کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:

 

1۔ٹرمپ نے قتل کے اس واردات کی خبر کو ٹوئیٹ کیا اور فخری زادہ کے قتل کے بارے میں "نیویارک ٹائمز" کی رپورٹ کو  ٹوئیٹ کیا۔ اسی طرح ٹرمپ نے  اسرائیلی صحافی یوسی میلمن کی فخری  کے قتل کے بارے میں ٹوئیٹ کو ری ٹوئیٹ کیا جس میں اس نے  کہاکہ یہ سائنسدان ایران کے خفیہ عسکری ایٹمی پروگرام کے سربراہ تھے اور یہ سالہاسال سے اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کو مطلوب تھے اور اس کا قتل  نفسیاتی اور پیشہ ورانہ لحاظ سے ایران پر کاری ضرب ہے۔۔۔(آر ٹی 27/11/2020) گویا کہ یہ ایران کو چیلنج کررہا تھا کہ کوئی انتقامی کارروائی کرکے دیکھاؤ!

 

2۔ الجزیرہ ٹی وی نے 28 نومبر2020 کو اپنی وئب سائٹ پر یہودی وجود کے وزیر اعظم نیتن  یاہو کے اشارے کا ذکر کیا جس میں وہ خلاف عادت اسرائیل کے اس قتل کے ذمہ دار ہونے کا اعتراف کرتا ہے۔ "اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک ریکارڈ شدہ کلپ جاری کی جس میں انہوں نے غیر معمولی طور پر ان کامیابیوں کا جائزہ لیا جو انہوں نے گذشتہ ہفتہ کے دوران حاصل کی تھیں۔ یہ حیرت انگیز تھا کہ نیتن یاہو نے ریکارڈنگ کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ وہ اپنی تمام کامیابیوں کا نہیں بلکہ  کچھ کامیابیوں کا جائزہ لیں گے  کیونکہ وہ ایسا (سب کا ذکر)نہیں کرسکتے"۔یعنی یہودی وجود نے تردید نہیں کی  اور نہ ہی چھپا بلکہ اشاروں کنایوں سے ذمہ داری کا اعتراف کیا۔  اسی طرح دنیا بھر میں اُس نے اپنے سفارتخانوں میں ہائی الرٹ  کا اعلان کردیا۔

 

3۔ دھمکی کے طور پر امریکہ نے27 نومبر2020 کو، یعنی خانزادے کے قتل کے دن، اعلان کیا کہ  امریکی ائیر کارفٹ کیرئیر"یو ایس ایس نیمیٹز"  کو دیگر جنگی جہازوں کے ساتھ خلیج روانہ کرے گا ۔۔۔قتل سے کچھ دیر پہلے بی 52 بمبار طیارےخلیج روانہ کیے گئے۔ قتل کے انجام پانے کے بعد ٹرمپ نے سخت جواب دینے کی دھمکی دی،"واشنگٹن پوسٹ نے امریکی عہدہ داروں کے حوالے سے خبر دی کہ صدر ٹرمپ نے عراق میں کسی امریکی کے قتل کی صورت میں سخت اور'بھر پور' جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔  اس دھمکی کا ذکر واشنگٹن پوسٹ نے جمعہ کے دن تہران کے قریب ایرانی ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کے وقت کیا"( الحرۃ 28/11/2020)۔

 

سوم:اس کا یہ مطلب ہے کہ  ٹرمپ انتظامیہ اور یہودی وجود یہ جانتے ہیں کہ  امریکہ میں انتقالِ اقتدار کے دنوں میں ایران ہر گز کوئی  بھر پور جوابی کارروائی نہیں کرے گا  خاص کر جبکہ  ایران یہ امید کرتا ہے کہ  منتخب امریکی صدر بائیڈن اس کے لیے کچھ نیا لائے گا! یاد رہے کہ  ٹرمپ اور بائیڈن میں اختلاف صرف اسلوب کا ہے ورنہ دونوں کے لیے امریکی مفاد ان کے ایجنٹوں اور اس کے مدار میں گردش کرنے والے تمام پیروکاروں سے مقدم ہے،  جو اس بات پر غور کرے  وہی اس کو اچھی طرح سمجھے گا۔۔۔ یوں ایرانی حکومت  جواب دینے کے حوالے سے تردد اور پس وپیش سے کام لے رہی ہے اور عسکری جواب،  جو کہ عوام کا مطالبہ ہے، سے  رائے عامہ کی توجہ ہٹانے  کے لیے دوسرے مسائل پر توجہ دے رہی  ہے:

 

1۔ ایران  ایٹمی اور میزائل پروگرام کے اہم عہدہ دار کے قتل پر  قتل کا ارتکاب کرنے والے یہودی وجود کو جاننے کے باوجود  اس قتل  کو ایران میں "افراتفری" پھیلانے  کے لیے ایک جال کہہ رہا ہے۔  ایرانی صدر روحانی نے کہا کہ  اس منصوبہ ساز کے پس پردہ ٹرمپ ہے"وہ یہاں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں مگر ان کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ان کے کھیل کا پردہ فاش کیا وہ اپنے خبیث اہداف کو حاصل نہیں کرپائیں گے"۔۔۔ایران جانتا ہے کہ کون اس کو مار رہا ہے،  وہ پہلے بھی اس کے سائنسدانوں کے قتل کے ذریعے اس کو مارتا رہا، شام اور عراق میں اس کے فوجیوں کو قتل کر رہا ہے ، اور اس کے باوجود ایران جواب نہ دینے اور جال میں نہ پھنسے کی بات کرتا ہے۔۔۔وہ امریکہ میں بائیڈن کے صدر بننے کا انتظار کررہا ہے! یہ ہے ایران جو ہمیشہ"شیطان بزرگ"کا واویلا کرتا ہے اور "مرگ بر امریکہ مرگ بر اسرائیل" کے نعرے لگاتاہے۔  ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ اور ایران کی دشمنی کا بانڈہ پھوڑ دیا جب اس نے  پاسداران انقلاب کے القدس بریگیڈ کے قائد قاسم سلیمانی کو 2020 کے اوائل میں عراق میں قتل کیا اور پھر ایران سے رائے لیے بغیر ہی کاظمی کو عراق کا وزیر اعظم بنایا، ا اور یہ سب کچھ کرتے ہوئےمریکہ  نے ایران کی جانب سے عراق اور شام میں  امریکی مفادات کے حصول کے لیے خدمات کو نظر انداز کردیا۔۔۔!

 

2۔دوسرا معاملہ جس پر ایران عسکری جواب سے توجہ ہٹانے کے لیے توجہ مرکوز کر رہا ہے وہ یورانیم کی افزودگی میں 20فیصد اضافے کا معاملہ ہے،  جیسا کہ  ایٹمی معاہدے سے پہلے یہی شرح  تھی، اور اس معاہدے میں اس کو افزودگی کم کرکے 3.67 فیصد تک لانے کا پابند کیا گیا تھا۔  یہ اضافہ ہونا چاہیے مگر  یہ عسکری جواب سے توجہ ہٹانے کے لیے حکومت اور دوسری کمیٹیوں کے درمیان اختلاف کا نکتہ نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ   مجلس شوری اس کو خیر اور حکومت اس کو شر کہہ رہی ہے! "ایرانی صدر حسن روحانی نے  بدھ کے دن  حکومتی اجلاس کے موقعے پر ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کا جواب  دینے اور   امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے  کے قانون کی مخالفت کا اعلان کیا جس کو قدامت پسند ایرانی پارلیمنٹ نے منگل کے دن منظور کیا تھا۔  ایرانی ٹی وی کے مطابق  صدر روحانی نے پارلیمنٹ کی قرار دادوں  کو 'نقصان دہ' قرار دیا۔۔۔ا ن قراردادوں میں سے اہم  ایرانی  پارلیمنٹ کی جانب سے یورینم کی افزودگی میں 20فیصد تک اضافہ  اور   عالمی ایٹمی توانائی کے اضافی  پروٹوکول  پر عمل درآمدکو معطل کرنا ہے،۔۔۔ یاد رہے کہ  ایران ایٹمی معاہدے سے قبل 20فیصد یورینم افزودہ کرتا تھا مگر معاہدے کے مطابق  اس افزودگی کو کم کرکے3.67 فیصد کرنے کا عہد کیا تھا"۔۔۔(العربی الجدید2/12/2020)۔ " ایرانی پارلیمنٹ کے اقدامات کی نگرانی کرنے والی  آئینی  کمیٹی نے یورینم افزودگی میں اضافے کا  قانون منظورکیا پھر ایٹمی سائنسدان کے قتل کے بعد  اس پر عمل کرنے کا اعلان کیا ۔۔۔ مگر اس قانون کی وجہ سے حکمران اشرافیہ کے درمیان اختلاف پیدا ہوا  اورحسن روحانی کی حکومت نے اس کی مخالفت کی"(رشیاٹوڈے 2/12/2020)۔

 

چہارم:  اس   سب کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ اپنے رابطے منقطع کردیےہیں،  بلکہ اس نے  ایران کی توہین اور تذلیل میں اضافہ کیا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ایران  کھڑے، بیٹھے اور لیٹے اس کی خدمت کرے، یعنی   مکمل طور پر امریکی مفادات اور امریکی انتظامیہ کی خواہش کے مطابق  چکر کاٹتا رہے  چاہے وہ مفادات اور خواہشات جیسے بھی بدلتے رہیں۔  اس سے قبل بھی قاسم سلیمانی کو  قتل کیا گیا، اور ایران نے دھمکیاں دی، پھر   نتیجہ ایران کی جانب سے عراق میں عین الاسد کے اڈے پر"حساب کتاب" سے"متفق علیہ" فائرنگ تھی(امریکہ کو بتا دیا گیا تھا کہ ایرانی عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے حملہ کرنا ہے اور امریکا نے حملے سے قبل اپنے فوجی وہاں سے ہٹا دیے تھے) جس کے بعد دھمکی ختم ہوگئی!  اگرچہ ایران کے بیرونی عناصر انتقام لینے کی قدرت رکھتے ہیں مگر ایران یہ قبول نہیں کرتا۔   القدس العربی اخبار نے 24 نومبر2020 کوبرطانوی اخبار"میڈل ایسٹ آئی" کے حوالے سے خبر نشر کی کہ  ایران عراق میں اپنی ملیشیا پر دباؤ ڈال کر ان کو امریکی مفادات کو نشانہ بنانے سے باز رکھتاہے،  اخبار نے کہا"گزشتہ ہفتے  گرین زون میں امریکی سفارت خانے پر میزائل داغے جانے کے 24گھنٹے بعد القدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل اسماعیل قانی بغداد پہنچ گئے اور عراقی  ملیشیاوں کو امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے باز رہنے کا حکم دیا"۔

 

پنجم: امریکی حمایت کے ساتھ یہودی ریاست کے حملے اور اس کے ساتھ بڑھنے والی کشیدگی کو دیکھنے سے  یہ معلوم ہوتا ہے کہ:

1۔صدر ٹرمپ کی جانب سے یہودی ریاست کے ساتھ قربت کے اقدامات، جیسا کہ امریکی سفارتخانے کی القدس منتقلی، یہود کی جانب سے شام کی گولان مقبوضہ پہاڑیوں کوضم کرنے کے اعلان کو تسلیم کرنا  اور ڈیل آف دہ سنچری اور اس میں شامل یہود کو خوش کرنے کے اقدامات، کے بعد  ٹرمپ انتظامیہ  اب اس نتیجے پر پہنچ گئی ہے کہ  ایران کا ایٹمی پروگرام یہودی وجود کے لیے خطرہ ہے جس کو ختم کرنا  یا روکنا ضروری ہے،  اسی لیے ٹرمپ انتظامیہ اس حوالے سے سابقہ حکومتوں کی نسبت تیزی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔۔۔اس طرف توجہ دلانا بھی مناسب ہے کہ سفید فام امریکیوں میں سے "کنزرویٹیو کرسچن"، جو کہ  ریپبلیکن  حامی ہیں ، یہودی وجودکے دفاع کی پالیسی کی حمایت کرتےبلکہ اس کو سیاست سے بالاتر"مذہبی" فکری معاملہ سمجھتے ہیں۔

 

2۔امریکہ میں سیاسی تقسیم اور گرما گرمی کے بڑھنے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ  ایران کے ساتھ  حالات کشیدہ کرکے مشرق وسطی میں افراتفری پھیلا کر نومنتخب ڈیموکریٹک صدر بائیڈن کےلیے مسائل پیدا کرنا چاہتی ہے  تاکہ  امریکہ میں صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد وہ تیل والے والے علاقوں  میں موجود تنازعات میں بھر پور طریقے سے مداخلت کرے ، اور  یہ  امریکی تیل ، توانائی اور اسلحہ کمپنیوں کی اسٹرٹیجک نقطہ نظر کے مطابق ہے جو امریکی پالیسیوں پر اپنے اثرکو بڑھا رہی ہیں۔۔۔

 

3۔ امریکی انتخابات کے نتیجے میں اگرچہ اب تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوا  لیکن امریکی  تیل، توانائی اور اسلحے کی کمپنیوں، جو کہ ٹرمپ کےلیے انتخابی مہم چلارہی تھیں، کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ:

۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کمپنیوں کو امریکہ میں اندرونی طور پر  ہارنے کا اندیشہ ہے  اور وہ امریکہ کے دوبارہ ماحولیات کےلیے پیرس معاہدے میں شمولیت سے پریشان ہیں جس سے ان کو بڑا نقصان ہوگا۔۔۔خصوصاً کورونا کے دوران تیل کی قیمتوں کے حوالے سے یہ کمپنیاں متاثر ہو سکتی ہیں  اور نقصان کا یہ سلسلہ 2021 کے آواخر تک جاری رہنے کا امکان ہے ۔۔۔اس کے ساتھ نومنتخب صدر بائیڈن  کی جانب سے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو کسی نہ کسی طرح  دوبارہ شروع کرنے کا بھی امکان ہے جس سے ان کمپنیوں پر اثر پڑے گا۔۔۔

۔   اس خوف کے ماحول میں یہ کمپنیاں ٹرمپ انتظامیہ کی بقیہ مدت سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں،  خاص طور پر جب امریکی عدالتیں ٹرمپ کی جانب سے  انتخابی نتائج میں دھاندلی کے الزامات  کو مسترد کر رہی ہیں جس سے اس بات کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں کہ ٹرمپ انتخابی نتائج کو مسترد کرواسکے ،  اسی وجہ سے یہ کمپنیاں ٹرمپ انتظامیہ کو  خلیج میں افراتفری پر ابھار رہی ہیں اور یہ سب تیل کی قیمتیں بڑھانے اور اسلحہ فروخت کرنے کے معاہدوں میں اضافہ کرنے کے لیے ہورہا ہے۔

 

ششم: خلیج میں کشیدگی کا ماحول، اس بات کا باعث بن سکتا ہے کہ  انتقامی کارروائی کا رخ یہودی وجود سے ہٹا کر دوسری جانب یعنی سعودی عرب  اور امارات کی طرف موڑدیا جائے، اور  اس عمل کےلیے جواز پیدا کرنا آسان بھی ہے کہ ان ملکوں نے یہودی وجود کے ساتھ پس پردہ یا کھلم کھلا  تعلقات قائم کرلیے ہیں۔۔۔ایران  قتل کا بدلہ "منافقین" یعنی سعودی عرب، امارات اور بحرین سے لینے کی بات کر رہا ہے۔  یہودی ریاست کی جانب سے ذمہ داری کے  اعتراف کے قریب اشاروں کے باوجود ایران آرام سے یہ کہہ سکتاہے کہ  سعودی عرب نے تہران کے قریب یہ حملہ کیا ہے،  وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ سعودی عرب  نے ہی  ایران کے اندر "یہودی  اقدام" کے لیے ساز باز کی اور یہ  سب کچھ سعودی فنڈنگ سے ممکن  ہوا خاص کر  جب یہودی وجود کے وزیر اعظم کے23 نومبر2020 کو سعودیہ کے خفیہ دورے اور بن سلمان سے ملاقات کی خبریں شائع ہوئی ہیں جس میں امریکی وزیر خارجہ پومپیو بھی موجود تھے۔  اس سب سے سعودیہ کو اس قتل میں ملوث کرنا آسان ہے۔۔۔اسی طرح امارات کو جواب دینے کا بھی امکان ہے جیسا کہ الجزیرہ نےیکم دسمبر2020 کو اپنی وئب سائٹ پر  برطانوی "میڈل ایسٹ آئی"کے حوالے سے خبر نشر کی کہ  ایران نے"  فخری زادہ کے قتل کے جواب میں امارات پر براہ راست عسکری حملے  کی دھمکی دی ہے۔  برطانوی وئب سائٹ نے  نام لیے بغیر امارتی ذرائع کے حوالے سے خبر دی کہ  ایران نے ابو ظہبی کے ولی عہد محمد بن راشد سے براہ راست رابطہ کرکے فخری زاداہ کے قتل کے بدلے اس پر حملے کی دھمکی دی۔۔۔"۔  اسی طرح ایران کا جواب سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے لیے  حوثیوں کو مزید میزائل اور ڈرون دینے  کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے،  جبکہ یہ کام پہلے سے  جاری ہے اور  اس میں اضافہ مشکل نہیں۔۔۔ اگر ایران اس سمت متوجہ ہوا تو یہ اپنی قوم کے ساتھ دھوکہ دہی ہو گی جو  قتل کے حقیقی محرک ملک  کو جواب دینے کا مطالبہ کر رہی ہے نہ کہ اس کے مدار میں گردش کرنے  والے ممالک کو جواب دینے کا  !

 

ہفتم: مسلمان سائنسدان پے درپے قتل کیے جا رہے ہیں،  خاص طور پر ایرانی ایٹمی سائنسدان،اور چونکہ جوابی اقدام نہیں کیا جارہا اس لیے یہ عمل دہرایا جارہا ہے! فلسطین کی زمین کو غصب کرنے والی بدنما ریاست یہ  عمل کرتی ہے  اورکرتی رہے گی،  ایران کے مسلمان سائنسدانوں کو قتل کرتی رہے گی!  یہ کتنا اندوہناک امر ہے کہ مسلمانوں کی سرزمین پر حکمرانی کرنے والے عزت کے بدلے ذلت قبول کرتے رہتے ہیں۔۔۔ استعماری کافروں کے ایجنٹ یا ان کے مدار میں گردش کرنے والے بنتے رہتے ہیں۔۔۔ جو مسلمانوں پرہونے والے ظلم پر خاموش رہتے ہیں، ان کی حرمتوں کی پامالی پر اعتراض بھی نہیں کرتے۔۔۔خلافت کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کا یہ حال ہوا۔  مسلمانوں کو ان احمق حکمرانوں کے ذریعے آزمائش کا سامنا ہوا جو ٹس سے مس نہیں ہوتے!  مسلمانوں کی عزت خلافت کی واپسی سے ہی لوٹ آئے گی جب ایک خلیفہ  ایک رومی کی جانب سے ایک عورت کی توہین پر خود فوج کی قیادت کرتے ہوئے اس کی مدد کو پہنچے گا اور اس کی سرزمین کو فتح کرے گا۔۔۔یوں  مسلمانوں کی عزت بحال ہوگی   جب ایسے جواں مرد  اٹھیں گے جن کے لیے دنیا کی لذتیں  کوئی معنی نہیں رکھیں گی اور جو کچھ اللہ قوی اور عزیز کے پاس ہے وہ اس کے متمنی ہوں گے۔ ایسے جواں مرد اٹھیں گے اور ان  حکمرانوں کو برطرف کریں گے، تب جابرانہ دور کا خاتمہ ہوگا۔  یہ جواں مرد اللہ کی توفیق سے امت  کی حالت بدل دیں گے،  وہی، اللہ سبحانہ و تعالیٰ،  عزت اور سعادت کی ریاست دوسری خلافت راشدہ کے قیام کے لیے اپنے مومن بندوں کی مدد کرنے والا ہے۔  یہی خلافت یہودی ریاست کے وجود کا خاتمہ کرے گی، امریکہ  اور  اسلامی سرزمین کی طرف ہاتھ بڑھانے والی باقی استعماری ریاستوں کے ہاتھ کاٹ دے گی،  اور اسلامی سرزمین قیامت تک ان پر حرام بنائے گی،  تب ہی مسجدوں کے میناروں سے بار بار اللہ کے اس فرمان کی صدا آئے گی :

 

﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً﴾

"کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا ہی تھا"(الاسراء:81)...

﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَرِيباً﴾

"کہتے ہیں یہ کب ہوگا کہہ دو کہ ممکن ہے کہ یہ قریب ہو"(الاسراء:51)۔

22ربیع االثانی 1442

7 دسمبر 2020

  

Last modified onبدھ, 23 دسمبر 2020 17:44

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک