الثلاثاء، 12 صَفر 1442| 2020/09/29
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال کا جواب: تیل کا بحران اور اس کی محرکات

سوال:

پچھلے دِنوں تیل کی قیمتوں میں اچانک کمی خاص کر ٹکساس آئل کی قیمت میں  کمی اور اس کے منفی 30 تک پہنچنے کی خبریں گردش کرتی رہیں، حتی کہ  منظم لین دین کے لیے مشہور خام برنٹ کی قیمت بھی 9 فیصد  کم ہوکر 25 ڈالر بیرل پر آگئی۔۔۔جس کے کئی اسباب ہیں  چاہے وہ  تیل ذخیرہ کرنے والے اسٹوروں کا مکمل بھر جاناہو یا کورونا  جس کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیاں ماند پڑگئیں اور نتیجے میں پٹرول کی طلب میں کمی آگئی۔۔۔الخ بہر حال تیل کے اس بحران کے اسباب کیا ہیں؟ کیا یہ جاری ہے؟ یہ امریکی اور عالمی معیشت پر کیا اثرات مرتب کرے گا؟

 

جواب:

تیل کے بحران  کی حقیقت کو عمومی طور پر اور  امریکی تیل(ٹکساس آئل) کے بحران   کی حقیقت کو خصوصی طور پراور اس کے امریکی معیشت اور عالمی معیشت پر اثرات کو سمجھنے کے لیے   اقصادی  اور سیاسی حالات  کے تین امورکو سمجھنا ضروری ہے: ٹکساس آئل پر کوروناکے اثرات ،پھر برنٹ آئل پر اس کے اثرات ،اس کے بعد امریکی اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات۔

 

پہلا: تیل کے استعمال پر کورونا کے اثرات:

اس سال کے شروع سے ہی جب کورونا وائرس چین سے پھیلنا شروع ہوا ،پھر یورپ منتقل ہوا  اس کے بعد امریکہ پہنچا جس کے بعد لاک ڈاؤن کے اقدامات کا سلسلہ شروع ہوا اور بہت سے ممالک میں  معیشت کے بہت سارے شعبے رک گئے۔ اسی طرح کورونا کے پھیلاؤ کے خوف سے  کئی اہم ممالک  خاص کر یورپ اور امریکہ کے درمیان سفری پابندیوں کی وجہ سے فضائی ٹریفک اور زمینی نقل وحرکت  بھی منجمد ہوگئی۔ طبی اور غذائی  مواد کے علاوہ  با قی اشیاء کی عالمی تجارت کے رکنے سے بھی اس پر بڑا اثر ہوا جس نے نقل وحرکت متاثر کیا۔۔۔یادر رہے کہ 68 فیصد تیل فضائی اور زمینی نقل وحرکت کے لیے استعمال ہوتا ہے(انڈیپنڈنٹ عربی 24/4/2020 ) یوں کورونا کے سبب  تیل کی بین الاقوامی طلب میں کمی آگئی ، کورونا کے ایک کے بعد ایک ملک میں پھیلنے کے سبب  طلب میں مزید کمی ہوتی گئی کیونکہ کورونا جس ملک میں بھی پھیل گیا اس کی معاشی سرگرمیاں  متاثر ہوئی،   مگر تیل  کے ساتھ اس کا تعلق کچھ زیادہ ہی تھا۔ جب کورونا مغربی یورپ کے اہم ممالک میں پہنچا تو تیل کے عالمی طلب میں کمی آگئی کیونکہ یہ ممالک  بہت زیادہ تیل استعمال کرتے ہیں، اور جب وبا  امریکہ پہنچی اور بہت تیزی سے پھیلنے لگی تو تیل  کی قیمتوں کا بحران نمایاں ہوگیا کیونکہ امریکہ ہی دنیا میں 20 فیصد تیل استعمال کرتا ہے،  اس سے تیل  کی بین الاقوامی طلب میں30 فیصد کمی آگئی  جو کہ روزانہ 100 ملین بیرل استعمال کرتاہے۔  ہم طلب میں اس کمی کے حوالے سے دیے جانے والےبیانات میں سے صرف دو کا ذکرکریں گے؛

 

پہلا بیان: بدھ  15/4/2020 کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے توقع ظاہر کی کہ   اپریل سےتیل کے عالمی  طلب میں یومیہ 29 ملین بیرل کی کمی متوقع ہے جو کہ گزشتہ 25 سال کی کم ترین سطح ہے۔۔۔الوفد اخبار   کے ویب سائٹ 15/4/2020)۔

 

دوسرا بیان: روس کے توانائی کے وزیر الیگزینڈر نواک نے اعلان کیا کہ  تیل کی عالمی طلب  میں 20 سے 30 ملین بیرل یومیہ کمی آئی ہے، ہم تیل کی عالمی طلب کے کم سے کم سطح پر پہنچ چکے ہیں۔( العرنیہ نیٹ 22/4/2020)۔

یوں تیل کی طلب میں اس درجے کی کمی آئی جس کا تصور صرف عالمی جنگ کی حالت میں ہی کیاجاسکتاتھا!  یہ سب کچھ3 سے 4 مہینوں کے دوران ہوا  یعنی کورونا بحران کے دوران یہاں تک کہ ٹکساس آئل  کی قیمت منفی37 ڈالر تک گرگئی اور یہ 20/4/2020 کی بات ہے اور اس دن کو "بلیک مَنڈے" کا نام دیا گیا۔

دوسری بات:  دوسری صورت حال جو کہ سیاسی صورت حال ہے:

چونکہ تیل اسٹریٹیجک چیز ہے اس لیے ریاستیں اسے دوسری ریاستوں کو ضرب لگانے کےلیے استعمال کرتی ہیں۔  یہاں بات امریکی پالیسی کی ہورہی ہے جس نے سعودیہ  کو ایک ہی مہینے میں روس کے ساتھ تیل کی قیمتوں کی جنگ میں دھکیل دیا ،جس کی وضاحت یوں ہے:

 

1) امریکہ تیل کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے روس کو تیل کی پیداوار کم رکھنے پر مجبور کرتا تھا تاکہ امریکی شیل آئل کمپنیاں مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں کیونکہ امریکی شیل آئل نکالنے کا خرچہ زیادہ ہے۔ اس پالیسی کے ذریعے سعودیہ تین سال سے  روس کو اوپیک پلس کے مجموعے کے ضمن میں پیداور 2.1 ملین بیرل کم کرنے پر قائل کرنے میں میں کامیاب رہاتھا۔ روس کے ساتھ سعودیہ کا یہ معاہدہ مارچ2020 کے آخر میں ختم  ہورہا تھا، یہ معاہدہ کورونا سے پہلے کا تھا اور کورونا کے وبا کے دوران اس کی مدت ختم ہورہی تھی۔

 

2) چین میں کورونا وبا پھیلنے کی ابتدا اور وہا سے اٹلی منتقل ہونے کے ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں کمی آنے لگی اور برنٹ فی بیرل 45 ڈالر کا ہوگیا۔ قیمت کی یہ سطح جو مزید گررہی تھی  امریکی تیل کی پیداوار کےلیے خطرناک تھی اور اسے تیل کی مارکیٹ سے باہر کرسکتاتھی، اس لیے قیمتوں کو بڑھانے کی ضرورت تھی۔ تب امریکہ سعودیہ کے ذریعے روس پر دباؤ بڑھا کر پیداوار مزید کم کرنے کےلیے متحرک ہوا تاکہ کورونا وائرس کے سبب ،تیل کی عالمی طلب میں کمی کی وجہ سے، قیمتوں کو مزید گرنے سے بچایاجاسکے چنانچہ 6/3/2020 کو اوپیک پلس کا اجلاس ہوا جس میں روس نے  پیداوار میں مزید کمی سے انکار کردیا!

 

3) اوپیک پلس کے اس  مذکورہ اجتماع کی ناکامی کے بعد   اور اوپیک میں اختلافات کی خبروں سےتیل کی قیمتیں فوراً10 فیصدگرگئیں۔

 

4) اس اجتماع کی ناکامی کے بعد چند دن تک سعودیہ  نے روس کو پیداوار میں کمی کرنے پر مجبور کرنے کے لیے  قیمتوں کی جنگ چھیڑ دی جس کے لیے اس نے پانچ اقدامات اٹھائے:

ا۔ 2.1  ملین بیرل یومیہ کمی کے معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا حالانکہ روس نے سابقہ معاہدے کی پابندی کی حامی بھری تھی۔

ب۔  یکم اپریل سے، جو کہ روس کے ساتھ معاہدے کے اختتام کی تاریخ تھی،  پیداوار میں بے تحاشا اضافہ کردیا، سعودی عرب نے روزانہ12 سے 13 ملین بیرل تک پیداوار میں اضافہ کردیا  جبکہ کورونا کی وجہ سے عالمی طلب میں کمی آرہی تھی۔

ج۔اپنے ایشیائی گاہکوں کےلیے فی بیرل تیل کی قیمت میں 6 ڈالر کی کمی کردی جو کہ تاریخ میں اس طرح کی پہلی کٹوتی تھی۔

د۔ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے وہ مارکیٹ میں روس کے گاہکوں کو توڑنے کا ارادہ رکھتاتھا۔

ھ۔ سمندر میں تیل کو ذخیرہ کرنے کے لیے دیو ہیکل جہاز کرائے پر حاصل کیا تاکہ تیل کی قیمت مزید گرے۔

 

5)ان اقدامات کے ذریعے، جن کا اعلان تھوڑے دن بعد 6/3/2020 کو(اوپیک پلس کے ناکام اجتما ع میں)میں کیا گیا ،سعودیہ نے تیل کی قیمتیں گرادیں یہاں تک کہ تیل کی ایک تہائی قیمت گرگئی۔ پیر کے دن تیل کی قیمتوں میں یہ کمی 1991 ءمیں خلیج کی جنگ کے دوران ہونے والی کمی کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔ سعودیہ کی جانب سے کورونا وبا کے دوران تیل کی عالمی طلب میں کمی کے باوجود پیداوار میں اضافے سے تیل کی سپلائی بہت بڑھ گئی! اسی وجہ سے خام برنٹ کی قیمت مقررہ معاہدوں کے لیے 22 فیصد کم ہوکر37.05 ڈالر بیرل ہوگئی اس سے قبل 31 فیصد  سے 31.02 ڈالر کی کمی ہوئی تھی جو کہ  12 فروری 2016 کے بعد سب سے زیادہ کمی ہے۔۔۔رائٹرز 9/3/2020)۔ یاد رہے کہ خام برنٹ  کو شمالی سمندر میں تیل کے کنوؤں سے نکالا جاتا ہے اور خام تیل برنٹ ،فورٹیز ،اوزبرگ اور ایکووِسک پر مشتمل ہوتا ہے اور اسی کو دنیا کی تیل کے دوتہائی پیداوار کی قیمتوں ، خاص کر یورپی اور افریقی مارکیٹ میں ،  تعین کے لیے بطور معیار استعمال کیا جاتا ہے ۔    اگر ٹرانسپورٹ  کے اخراجات کے بعد قیمت مناسب ہوتو اسے  بعض دفعہ امریکہ اور بعض افریقی ممالک برآمد کیا جاتا ہے ۔ خام برنٹ کے مقررہ معاہدوں  کے لین دین کو  لندن میں  انٹر کانٹینینٹل اسٹاک ایکس چینج  کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، یعنی سعودیہ نے اپنے اقدامات کے ذریعے  تیل کی قیمتوں کو گرادیا اور یکم اپریل کے بعدسعودیہ کے اقدامات پر عملدرآمد شروع  ہوا کیونکہ روس کے ساتھ  اوپیک  پلس کا معاہدہ  مارچ کے آخر میں اختتام پذیر ہوا۔  مارکیٹ میں تیل کی سپلائی  بڑھنے سے چوتھے مہینے اپریل میں (20/4/2020 کو) تیل کی قیمتیں 30 ڈالر سے نیچے آگئیں۔

 

6)یہ سعودی پالیسی  روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکی پالیسی تھی،  مگر اس پالیسی کو تقریباً دو مہینے پہلے واشنگٹن میں تیار کیا گیا تھا  یعنی کورونا وبا کے سبب تیل کی طلب میں بے تحاشا کمی سے قبل خاص کر امریکہ کے اندر، ان دونوں عوامل(سعودیہ کے ذریعے امریکی پالیسی اور تیل کی طلب میں ہوش ربا کمی سے) ٹرمپ انتظامیہ  کی جانب سے روس پر تباہی کے ہتھوڑے کا وار دائیں بائیں  لگنے لگا جس کی زد میں خود شیل آئل کی امریکی کمپنیاں بھی آگئیں!  یعنی امریکہ نے  تیل کی قیمتوں میں کمی کی جو منصوبہ بندی کی تھی اس کے مطابق   اسے توقع نہیں تھی کہ قیمت اس  حدتک گر جائے گی۔ کمی کی اس حد کی یہی دو وجوہات تھیں؛ امریکہ کی جانب سے سعودیہ کے ذریعے روس پر دباؤڈالنے کی پالیسی اور وبا کی وجہ سے تیل کی طلب میں  مسلسل کمی ،مگر امریکی پالیسی کو وضع کرتے وقت امریکہ کو اس قدر گراوٹ کا اندازہ نہیں تھا۔ امریکہ کے اندر  شیل آئل کمپنیوں پر دباؤ بڑھتا رہا۔ 2 اپریل کو امریکی تیل کمپنی"ویٹنگ پیٹرولیم" نےدیوالیہ ہونے کا اعلان کیا اور شیل آئل کی مزید سو کمپنیاں دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئیں کیونکہ مارکیٹ میں تیل کی قیمت تیل نکالنے کے خرچے سے بھی کم ہوگئ: ( کیونکہ شیل آئل کے ایک بیرل نکالنے کا کم سے کم خرچہ 35 ڈالر ہے)( عرب مارکیٹ ویب 11/3/2020)۔

انڈیپنڈنٹ عربی  24/4/2020 کے مطابق 4/23 جمعرات کو  ٹکساس  آئل کے جولائی کے معاہدوں کے لیے قیمت 15 ڈالر جبکہ ستمبر کے لیے 27 ڈالر تھی  اور 2020 کے آواخر کے معاہدوں کے لیے 30 ڈالرز۔ اس چیز نے شیل آئل پر دباؤ میں اضافہ کردیا۔۔۔

 

7)  کورونا وبا کی وجہ  سےامریکی تیل کی صنعت جن مشکل حالات سے دوچار ہوئی اسی کی وجہ سے  امریکی انتظامیہ تیل کی پیداوار میں کمی کے لیے  سعودیہ اور روس میں مداخلت کرنے  کے عزم کا اظہار کرتی رہی۔  امریکی صدر نے روسی صدر کو فون کیا  اور تیل   کی قیمتوں کے حوالے سے(سعودیہ نہیں) امریکہ کے ساتھ ساز باز کرنے کی دعوت دی، اسی طرح ٹرمپ نے سعودیہ سے بھی رابطہ کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر سے بہت مفید بات چیت ہوئی  اور سعودی ولی عہد سے بھی  شاندار گفتگو ہوئی(یورو نیوز 1/4/2020)۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ  ٹرمپ انتظامیہ نے سعودیہ اور روس کے درمیان تیل کی پیداوار میں کمی کے معاہدے کی نگرانی کی جو کہ تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ ہے جس کی رو سےتیل کی پیداوار یومیہ 10 ملین بیرل کم کی جائے گی۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم(اوپیک) اور ان کے اتحادی طلب میں کمی کے بعد تیل کی پیداوار میں یومیہ10 فیصدکمی کرنے کے معاہدے پر پہنچ گئے۔۔۔ اب تک جس بات کی تصدیق ہوچکی ہے اس کے مطابق  اوپیک اور اتحادی اپنی پیداوار میں یومیہ9.7 ملین بیرل کمی کریں گے( بی بی سی 12/4/2020)۔ اس معاہدے پر 1/5/2020 سے عملدرآمد کیا جائے گا اور یہ دومہینے کے لیے ہوگا، اس کے بعد اس پر دستخط کرنے والے ممالک تیل کی عالمی طلب کو دیکھ کر کوئی قدم اٹھائیں گے۔ یہ مختصر مدتی معاہدہ ہے یعنی صرف دو مہینوں کے لیے جس میں جولائی کے اختتام تک تیل کی عالمی طلب میں اضافے کا انتظار کیا جارہا ہے۔  تاہم اس بات کو دیکھا جاسکتاہے کہ  تیل کی قیمتیں اس قدر زیادہ گرگئیں تھیں کہ  مارکیٹ پر اس معاہدے کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا اور   نہ ہی قیمتوں میں کوئی خاطر خواہ اضافہ ہوا،  بلکہ  برنٹ کی قیمت 30 ڈالرسے بھی نیچے گرگئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طلب 30 ملین بیرل یومیہ کے حساب سے کم ہوئی اس لیے  پیداوار میں یومیہ 10 ملین بیرل کمی سے بھی  فرق نہیں آیا!

 

تیسرا: تیسری صورت حال امریکی تیل ذخائر کی ہے

امریکی تیل کے ذخائر دوقسم کے ہیں، پہلی قسم ریاست کے اسٹریٹیجک اور دوسری قسم  کمپنیوں کے ذخائر ہیں۔ اس صورت حال نے تیل کی قیمتوں میں کمی کے بحران کو بڑھا دیا: اس کے ایک جزو کا تعلق اسٹریٹیجک ذخائر سے ہے جبکہ دوسرے کا ٹکساس آئل سے ہے۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے:

 

1- تیل کے اسٹریٹیجک ذخائر(جو کہ ریاست کے ہیں) سے مراد نکالے گئے تیل کے زیر زمین ذخائر ہیں جن کو بحرانوں کے دنوں میں استعمال کرنے کےلیے محفوظ کیا گیا ہے۔ 1973 کی جنگ کے بعد عالمی توانائی ایجنسی کے مشورے پر بیشتر ممالک نے  یہ ذخائر بنائے ہیں۔  اس کے علاوہ بڑے ممالک میں سے ہر ملک کے اپنے تیل کے ذخائر ہیں جو  تیل کی سپلائی بند ہونے کی صورت میں30 سے 90 دن تک ان کی ضروریات پوری کرسکیں۔۔۔

2- 1975 میں امریکی کانگریس نے  ایک قانون منظور کیا تھا جس کی رو سے  وفاقی حکومت  خام تیل کو ذخیرہ کرنے کی پابند ہے تاکہ  کسی بھی ہنگامی صورت حال  اور تیل کی سپلائی بند ہونےکی صورت میں اس سے استفادہ کیا جاسکے۔ امریکہ کے تیل کے ذخائر  ٹکساس اور لویزیانا کے ساحلوں پر ہیں  جس کی سخت حفاظت پر امریکہ  بہت خرچہ اٹھاتاہے۔ 2009 میں امریکی ذخائر کی مقدار727 ملین بیرل تھی۔  وفاقی حکومت کے ذخائر کے علاوہ  تیل کی صنعت سے وابستہ امریکی کمپنیاں بھی وفاقی حکومت کے ذخائر کے برابر تیل ذخیرہ کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کے یہ ذخائر بھی ٹکساس میں ہیں کیونکہ ایک عرصے سے یہ امریکہ کی سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والی اسٹیٹ ہے جس کو"خام ٹکساس" کہا جاتاہے اس طرح ہمسائیہ اسٹیٹ اوکلا ہوما میں جہاں سے ٹکساس آئل کو  خشکی کے ذریعے امریکہ کےآخرتک پہنچایا جاتاہے۔۔۔

3- 6 مارچ 2020 ءکو تیل کی قیمتوں میں کمی اور روس اور سعودیہ کے درمیان قیمتوں کی جنگ چھڑنے پر  کئی ممالک بشمول امریکہ اور چین  اپنے ذخائر بھرنے لگے۔ ٹرمپ نے  اس وقت تیل کی قیمتوں میں کمی پر خوشی کا اظہار کیا۔۔۔ امریکہ نے سعودیہ وغیرہ سے سستے تیل کی خریداری جاری رکھی۔ بلیک منڈے سے پہلے ٹکساس کے ذخائر اگر مکمل نہیں تو کسی حدتک بھرچکے تھے۔  تیل کو ذخیرہ کرنا  مسئلہ بن گیا کیونکہ طلب نہ ہونے کی وجہ سے ٹکساس میں  تیل پیدا کرنے والوں کی سپلائی کو بند کرنا پڑی۔

 

4- یوں امریکہ کے تیل کے  اسٹریٹیجک ذخائر بڑی حد تک بھر گئے اور تیل بردار جہاز  ٹکساس آئل لے کر اوکلاہوما  کے علاقے کاشینگ کے  اسٹوروں  تک قطار درقطار کھڑے ہوگئے  جہاں ان سے تیل وصول کیا جاتاہے۔ یوں  اوکلاہوما میں خام تیل کے ذخائر بڑھ گئے اور طلب میں کمی کی وجہ سے آئل ریفائنریز کا کام بھی سست روی کا شکار تھا ( الجزیرہ نیٹ 20/4/2020)۔ کاشنگ میں  تیل ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش 76ملین بیرل ہے۔ عام طور پر جن کے ساتھ معاہدے ہوئے ہوں وہ  کاشنگ میں تیل وصول کرتے ہیں ۔ جب ان کو وصول کرنے کا وقت ہوجائے اور وہ خشکی سے اس کو امریکہ کے اندرونی علاقوں میں پہنچا کر کم خرچے پر ذخیرہ کرتے ہیں، مگر ہوا یہ کہ ،اوکلاہوما خاص کر کاشنگ کے علاقے میں  جہاں ٹکسا آئل  ذخیرہ کیا جاتاہے، اسٹور بھر گئے  بلکہ تیل 5 ملین بیرل زیادہ ہوگیا جبکہ  لاک ڈاؤن کی وجہ سے امریکہ میں تیل کے استعمال میں 25 فیصد کمی آئی( رائ الیوم 25/4/2020)۔  اس لیے یہ کہنا ممکن ہے کہ تیل کے یومیہ عالمی طلب میں30 فیصدتک کمی یعنی 30 ملین بیرل کی یومیہ کمی اس کی قیمتوں میں  کمی کا پہلا سبب ہے۔  امریکہ کی جانب سے سعودیہ کے ذریعے روس پر دباؤ کی پالیسی  معمول  اور عمومی حالت کے لیے تھی، یہ بحران کے وقت کے لیے نہیں تھی، اسی لیے اس کے نتیجے میں قیمتوں کے گرنے کا یہ بحران پیدا ہوا!

 

چوتھا- اس سب نے ٹکساس آئل پر اثر ڈالا، اوکلاہوما میں اس کے اسٹور بھر گئے،  کم خرچے پرمزید اسٹور کرنے کی گنجائش نہیں رہی اس لیے ان معاہدوں سے کسی بھی قیمت پر جان چھڑانا ضروری ہوگیا، یہی ٹکساس آئل بحران  یا"بلیک منڈے" تھا جو کہ 20/4/2020 کو رونما ہوا جبکہ تیل کو منفی 37 ڈالر فی بیرل فروخت کیا گیا اور امریکی اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنے والوں  کو بڑے خسارے کا سامنا ہوا۔۔۔ جس کی وجہ سے صورت حال اس طرح گھمبیر ہوگئی جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، یعنی  کاشینگ کے اسٹورز بھر گئے، جب بھی  اسٹاک بھرنے کے قریب ہوتے ہیں،  جو کہ بہت ہی کم ہوتا ہے،  ذخیرہ کرنے کے اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں  چونکہ  معیشت کے بند ہونے کی وجہ سے تیل کے استعمال کی صورت حال بدستور مشکوک تھی  اس لیے کاشینگ میں تیل ذخیرہ کرنے کے اخراجات بہت بڑھ گئے یعنی یہ دوسرا  عامل تھا جس نے  مئی / جون کے لیے کیے گئے سودوں کو نمٹانے کے لیے دباؤ بڑھا دیا اس لیے ان کے معاہدوں کے لیے قیمت 10 ڈالر پر آگئی پھر 5ڈالر پر ،اور پھر  ڈرامائی طور پر منفی صفر پر پہنچ گئی،  اس کے بعد   منفی37.6 تک پہنچی ۔ اس طرح اس سے وابستہ لوگ اور  اسٹاک ایکسچینج  میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے نقصان اٹھایا   ٹکساس آئل کے بلیک منڈے کا بحران 20/4/2020 کو اس طرح رونما ہوا،  صورت حال کا اس طرح گھمبیر ہونا اس  بڑے بحران کا سبب بن گیا۔  یہی وجہ ہے کہ ٹکساس آئل بحران کی وجہ سے   سعودیہ اور روس کے درمیان اوپیک پلس معاہدہ پر خوش منانا ٹرمپ کو راس نہ آئی جب اس نے 12/4/2020 کو کہا تھاکہ" اس سے امریکہ میں توانائی کے شعبے میں ہزاروں نوکریاں پیدا ہوں گی،  میں روسی صدر پوٹین اور سعودی بادشاہ سلمان بن عبد العزیز  کا شکریہ ادا کرتا ہو"( سی این این عربی 21/4/2020)۔  ٹرمپ کی خوش فہمی حقیقت سے کوسوں دور تھی  اور تیل کی قیمتوں میں اس طریقے سے کمی نے نہ صرف امریکہ کو خوفزدہ کیا بلکہ  پوری دنیا ششدر رہ گئی،  اس سے اقتصادی بحران نے شدت اختیار کی، توانائی  کا شعبہ تو  آتش فشاں کی طرح پھٹ گیا!

 

یاد رہے کہ خام مغربی ٹکساس متوسط West Texas Intermediate کو امریکہ کے تیل کے کنوؤں سے نکالا جاتا ہے، خاص طور پر ٹکساس، لویزیانا اور شمالی ڈاکوٹا کے تیل کے کنوؤں سے، پھر اس کو  حوالہ کرنے کے لیے پائپ لائن کے ذریعے  اوکلاہوما میں کوشینگ پہنچایا جاتا ہے،  اور مغربی ٹکساس متوسط West Texas Intermediateکا لین دین  نیویارک اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے کیا جاتا ہے جو کہ  شکاگوکی تجارتی انڈیکس کی ملکیت ہے۔

 

پانچواں- دوسری طرف امریکہ نے کورونا بحران کے شروع میں  امداد اور پیکج دینے کے منصوبوں پر اعتماد کیا جو کہ درجہ بدرجہ تھا۔ پہلا قدم چھوٹا تھا جوکہ8.3 ارب ڈالر کا تھا  جس کو کورونا وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے صحت کے شعبوں پر خرچ کرنا تھا،  اس کے بعد جب وبا نے صحت کے شعبے سے ہٹ کر معیشت پر ضرب لگائی توامریکہ نے  شرح سود کو کم کر کے تقریباً صفر تک پہنچایا اور 700ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا،  جس کا مقصد معیشت کو کورونا کے اثرات سے بچانا تھا( بی بی سی 16/3/2020 ) ۔یوں   مارکیٹ کے بہاؤ کو جاری رکھنے کی کوشش میں اس کو افراط زر میں ڈبودیا ۔ اس کے بعد27/3/2020 کو2.2 ٹریلین ڈالرز کے stimulus پیکج  کا اعلان کیا  جو کہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکج ہے،  جس میں سے بیشتر ان کمپنیوں کے قرضوں کو خریدنے کےلیے تھا جو  دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی تھیں۔  اس دوران فیڈرل ریزرو بینک نے  پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ  وہ 500 ارب ڈالر سے زیادہ کے ریزرو بانڈ خریدے گا اور 200 ارب سے زیادہ   پراپٹی مالیاتی رسید خریدے گا۔  اسی طرح امریکی مرکزی بینک نے اعلان کیا کہ  وہ 300 ارب ڈالرسے  کمپنیوں  اور کاروباری صارفین  کے کام کی انشورنس کے لیے  فنڈنگ کا پروگرام بنارہا ہے(ٹریڈرز ایپ 24/3/2020)۔ اس کے علاوہ  کورونا سے متاثرین  کی صحت پر اٹھنے والے اخراجات  تباہ کن ہونے کا امکان ہے جس سے کئی انشورنس کمپنیاں دیوالیہ ہو سکتی ہیں،  جو کہ بہت بڑی کمپنیاں ہیں۔  ساتھ ہی امریکہ  کو سخت بے روزگاری کا سامناہے، کورونا کی وجہ سے تقریباً 30 ملین امریکی بے روزگار ہوچکے ہیں۔ جو کمپنیاں ان لوگوں کو روزگار دے رہی تھیں ان کی مالی حالت بہت خراب ہے اس لیے ان کو جلد دوبارہ  اسی سال روزگار دئیے جانے کا امکان نہیں ہے۔ اس قدر بڑی تعداد میں بے روزگاروں کو الاؤنس دینا سرکاری خزانے پر بڑا بوجھ ہوگا۔ اب تک 22 ملین لوگوں نے بے روزگاری الاؤنس کے لیے اندراج کیا ہے  اور ابھی سلسلہ جاری ہے۔   اگر امریکہ  اس بحران سے نکلنے کی اسی طرح کوشش جاری رکھتا ہے تو اس کی کرنسی  کی ویلیو میں زبردست کمی آئے گی جو خود امریکہ اور ان ممالک کےلیے وبال ہوگا جو ڈالر میں لین دین کرتے ہیں۔

 

چھٹا: اس بحران نے صرف  امریکہ کو نہیں  کئی اور ممالک کو بھی متاثر مگر امریکہ کو زیادہ متاثر کیا:

1۔ یورپ کا حال بھی اپنے ہم مشرب امریکہ سے بہتر نہیں۔  کورونا کے محرکات نے  اقتصادی بنیادوں کے ساتھ اس کی سیاسی بنیادوں کو بھی ہلاکر رکھ دیا۔ ہم اٹلی، فرانس، جرمنی اور برطانیہ میں اس وبا کے بحران کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔  فرانسیسی صدر میکرون نے 26/3/2020 کو  ویڈیولنک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ " کورونا کے پھیلاؤ نے  اتحاد کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی۔۔۔" انہوں نے مزید کہا کہ "یورپی پروجیکٹ خطرے سے دوچار ہے۔۔۔ ہمیں شنگن کے علاقے کے ختم ہونے  کے خطرے کا سامنا ہے"۔(رشیا ٹو ڈے 26/4/2020)۔ جرمن چانسلر مرکل نے کہا" میری  نظر میں یورپی یونین اپنے وجود میں آنے کے بعد سب سے سخت آزمائش سے دوچار ہے۔۔۔ اہم بات یہ ہے کہ یونین کورونا کے سبب پیدا ہونے والے معاشی بحران سے  مضبوطی سے نمٹے"(رائٹرز 7/4/2020) ۔ اور  اسپین کے وزیر اعظم بیڈرو سانچیز نے 5/4/2020 کو   کہا" موجودہ صورت حال کی کوئی مثال نہیں،  یہ ٹھوس موقف کا تقاضا کرتاہے،  ہم آج  مل کر اس سے نمٹ لیں گے یا بطور اتحاد ناکام ہوجائیں گے۔۔۔"(فرانکفورٹ ر غمانیہ جرمنی 23/4/2020)۔ 23/4/2020 کو یورپی قیادت نے ویڈیولنک  اجتماع میں اس بحران سے نکلنے کے لیے 500 ارب یورو کے پیکج کا اعلان کیا مگر انہوں نے، اس کی تفصیلات کو  جس کے حوالے سے اختلافات ہیں،  موسم گرما تک موخر کردیا۔۔۔ انہوں  امدادی فنڈنگ پر بحث کی  اور مشترکہ کورونا بانڈ جاری کرنے پر بات کی۔ مگر جرمنی،ہالینڈ، آسٹریا اور فن لینڈ نے اسے مسترد کردیا اور امدادی فنڈ کو بھی مسترد کردیا جبکہ  فرانس ،اٹلی اور اسپین نے اس  منصوبے کی حمایت کی کیونکہ زیادہ متاثر یہی ممالک ہیں۔ جرمنی کی طرف سے اسے مسترد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ  اپنے نام سے قرضے دے کر ان ممالک کو اپنا مقروض بنانا چاہتا ہے تاکہ وہ یورپ کے دوسری ممالک پر حاوی ہوجائے۔۔۔!

2۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے تو عالمی بینک نے خبردار کیا کہ 2019 کے 6.1 کے مقابلے میں چین کی شرح نمو 2020 میں کم ہو کر2.3 ہوجائے گی(امریکی اخبار الحرۃ 10/4/2020)۔   اخبارات نے چین کے مرکزی بینک کے سربراہ کے حوالے سے خبردی کہ:" وہ  چینی حکومت کو مشورہ دے گا کہ  بڑے شکوک وشبہات کو مدنظر رکھتے ہوئےاس سال کے لیے شرح نمو کا تعین نہ کیا جائے۔" اور  سرکاری اخبار اکانومسٹ ڈیلی نے"ماجون" چینی نیشنل بینک کے کیش کے شعبے کے عہدہ دار کے حوالے سے خبردی کہ "6 فیصد نمو کا حصول بہت مشکل ہے" مزید کہا کہ" ہدف کا تعین کورونا کے حوالے سے  نمٹنے کے حکومتی اقدامات سے مشروط ہے"۔

 

3۔ رہی بات روس کی تو اس کا60 فیصد دارومدار تیل اور گیس کے برآمدات پر ہے۔ تیل کو روسی معیشت  میں شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے،  اس لیے وہ اب اپنے خسارے کا حساب لگا رہا ہے جبکہ روسی کرنسی روبل بدترین صورت حال سے دوچار ہے ۔ تیل کے بحران کے بعد ایک ڈالر 79 روبل کے مساوی ہوگیا ہے۔ رائٹرز نیوز ایجنسی نے صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے ایک روسی بینک کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کہ "  اگر بیرل تیل کی قیمت 10 ڈالر سے گرگئی  تو جی ڈی پی  سکڑ کر 15فیصد کم ہوجائے گا"۔

 

ساتواں : سرمایہ داریت  کی کجی بالکل واضح ہوگئی ہے ، کورونا سے نمٹنے میں اس کی ناکامی نمایاں ہوگئی ہے، ریاستوں کے درمیان انانیت اس قدر واضح ہوگئی کہ وہ دھڑام سے زمین پر آن پہنچیں ، اب صرف اس صحیح اسلامی آئیڈیالوجی کے علاوہ کچھ باقی نہیں،  اب  دوبارہ اسلام کو لے کر دنیا کی قیادت کرنے کا سنہری موقع ہے۔۔۔ مگر عالم اسلام کے حکمران  اور اس نظام کے کرتے دھرتے  امت کے  متحرک ہونے کے سامنے رکاوٹ ہیں۔ یہ حکمران بڑے  استعماری ممالک کے دامن تھامے رہنے پر مُصر ہیں،  امت کو ایسی مخلص اور سچی قیادت کی ضرورت ہے جو اسلام کے ذریعے اس کی قیادت کرے ،  اور بلاشہ امت یہ جانتی ہے کہ حزب التحریر ہی وہ قائد ہے جو اپنوں سے جھوٹ نہیں بولتی، اس لیے امت کو  صدق دل سے اس کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنی  چاہیے

﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

"اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے گا یقینا  اللہ قوی اور برتر ہے"(الحج، 22:40)۔

 

اے بھائیو،  حالات بتارہے ہیں کہ کورونا کے بعد کی دنیا  کی صورت حال کورونا سے پہلے والی صورت حال سے مختلف ہے، جو ممالک اپنے آپ کو دنیا کے معبود سمجھتے تھے اور  اللہ کی  جانب سے اپنے رسول ﷺ پر نازل کیے گئے قوانین  کی بجائے دنیا کے لیے قوانین بناتے تھے، حق کو باطل باطل کو حق قرار دیتے تھے یہ ممالک اللہ کی ایک چھوٹی سے مخلوق کے سامنے بے بس اور عاجز ہوگئے جو آنکھ سے نظر بھی نہیں آتی، یہ اس سے نمٹ نہ سکے نہ اس کا علاج کر سکے۔۔۔یہ اس وقت تک تاریکیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں  گے جب تک کہ  اللہ تعالیٰ اپنے اس قول کا کوڑا ان پر نہ برسادیں، 

﴿وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً

"کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل تو ہے ہی مٹنے کے لیے"(الاسراء، 17:81)۔   

 

دوبارہ خلافت کی صبح طلوع ہوگی  اورچار دانگ عالم کو اپنے نور سے روشن کرے گی،

﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هُوَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَرِيباً

"کہتے ہیں کہ یہ کب ہوگا کہہ دو شاید یہ قریب ہے"(الاسراء، 17:51)۔

چھ رمضان 1441ہجری

بمطابق 29/4/2020.

 

 

#Covid19     #Korona    كورونا#

 

Last modified onمنگل, 05 مئی 2020 20:46

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک