الإثنين، 21 ربيع الأول 1441| 2019/11/18
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال کا جواب

ہندوستان کا کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے پیچھے کیاارادہ کارفرما  ہے؟

(ترجمہ)

سوال:

"امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو جمعہ کے روز ایک کال پر بتایا کہ یہ ضروری ہے کہ ہندوستان اور پاکستان  جموں اور کشمیر پر تناؤ کو باہمی مذاکرات کے ذریعے کم کریں، وائٹ ہاؤس نے ایک  بیان میں کہا" (رائٹرز 2019/8/17)۔ ٹرمپ  یہ کہتا ہے جبکہ مودی کشمیر کے سرکاری الحاق کو بڑھا چڑھا رہا ہے اور یہ کہ اب کشمیر  پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تنازعہ نہیں رہا۔”ہندوستانی وزیراعظم مودی نےہندوستان کے جشنِ آزادی کے دن 2019/8/15 کو اپنی تقریر میں کہا  کہ اس کی حکومت نے وہ حاصل کر لیا جس میں پچھلی تمام حکومتیں رہی تھیں “(الشرق الاصوت 2019/8/16)۔  سوال یہ ہے کہ جب ہندوستان کشمیر کو سرکاری طور پر الحاق کرچکا تو پھرمذاکرات کی کیا افادیت رہ جاتی ہے؟ پاکستان نے کشمیر کو آزاد کرانے کیلئے جہاد کے عمل  کا انتخاب کیوں نہیں کیا، خصوصاً جب وہ اپنی فوج کے ذریعے یہ کرنے کے قابل بھی ہے؟ اور کیا اس میں امریکہ کا کوئی کردار ہے؟ جزاک اللہ خیراً۔ 

 

جواب:

جواب کی وضاحت کیلئے ہم مندرجہ ذیل باتوں پر نظر دوڑاتے ہیں۔

1۔ دنیا کے تمام خطوں میں یوریشیا امریکی خارجہ پالیسی سازوں کیلئے سب سے اہم ہے اور امریکہ کی کوشش ہے کہ اس خطے میں اس کا کوئی مدِ مقابل نہ اٹھے۔ یہاں چار ممکنہ مدِ مقابل ہیں: روس، چین، جرمنی اور خلافت، لیکن فی الوقت امریکہ چین کو اصل مدِ مقابل کے طور پر دیکھتا ہے۔سوویت یونین کے انہدام  کے وقت سے امریکی حکمتِ عملی بنانے والے چین کو امریکی مفادات کے سب سے بڑے خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔عملی طور پر امریکی حکمتِ عملی بنانے والے ایشیا پیسیفک ممالک کو چین کی بڑھتی بحری قوت کو کمزور کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے برِصغیر ہند کو یوریشیا میں چین کی بڑھتی طاقت کا مقابلہ کرنے کیلئے استعمال کیا۔اور جب امریکہ ایشیا پیسیفک علاقے میں تائیوان، تھائی لینڈ، ویت نام، فلپائن، جاپان،انڈونیشیا اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے ساتھ  اتحاد بنا کر اپنی  صلاحیتوں کو مضبوط کر رہا تھا،لیکن اس دوران اب تک برِ صغیر ہند میں وہ  کوئی خاص اتحاد نہیں بنا سکا، خصوصاً ہندوستان سے، جب تک کہ  1990 کے اواخر میں واجپائی کی حکومت نہیں آ گئی۔ 2000 میں صدر کلنٹن کے دورے کے بعد  ہندوستان  سے فائدہ اٹھانے کا سلسلہ  ختم ہو گیا اور پھر 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے کچھ ہی دیر بعد بش انتظامیہ نے ہندوستان پر دھیان دینا شروع کر دیا۔امریکہ کے بیشتر اعمال ہندوستان اور چین کے درمیان فوجی فرق  کوختم کرنے کے لیے تھے اور امریکی پروگراموں میں سے ہی ایک پروگرام امریکہ کا ہندوستان کے ساتھ جوہری معاہدہ بھی تھا۔

 

2۔ امریکہ نے دیکھا کہ کشمیر پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تناؤ  چین کے خلاف برصغیر ہند کی مزاحمت کو کمزور کرتا ہے۔اس تناؤ کو ختم کرنے کے لیے امریکہ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل شروع کیا اور اس کا ہدف  ہندوستانی اور پاکستانی افواج کو کشمیر کی وجہ سے ایک دوسرےسے لڑنے سے روکنا تھا،  تا کہ ہندوستان امریکہ کی مدد کے لیے  دستیاب ہوسکے اور چین کے ابھرنے کو روکا جا سکے۔امریکہ کا یہ خیال تھا کہ کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق ہوجانے کے بعد امریکہ  پاکستانی حکومت پر دباؤ دالے گا  کہ وہ کوئی فوجی کاروائی نہ کرےاورمعاملات کو مذاکرات کی طرف موڑ دے گا  ، جس سے وہ  اس مسئلے کو دبا دے گا اور فوجی تنازعے  جنم نہیں لے گا، بالکل ویسے ہی جیسے فلسطین میں عباس کی حکومت اور اس کے گرد عرب حکومتیں اس یہودی وجود کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہیں کرتیں جوفلسطین کے حصے پر قابض ہے! لہٰذا مودی نے جموں اور کشمیر کے الحاق  اور وہاں کی آبادی کو تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا اور پھر آئین میں کشمیر سے متعلق شِق 370 کو ختم کرنے کے  مودی کے 2019/8/5 کے کیے گئے فیصلے  پر عمل کیا۔اس شِق نے علاقے کو کافی حد تک خودمختاری دی ہوئی تھی۔

یہ شق کشمیر کو اپنے آئین، الگ جھنڈے اور سوائے خارجہ امور، دفاع اور مواصلات کے کئی معاملات میں آزادی کی اجازت دیتا تھا ۔خاتمے کی قرارداد “تنظیمِ اصلاحی” بل کے نام سے پیش کی گئی جو مقبوضہ کشمیر کو دو علاقوں میں تقسیم کر دیتی ہے: جموں وکشمیر اور لداخ اور انھیں نئی دہلی میں موجود وفاقی حکومت سے جوڑ دیتی ہے۔ ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا، ریاستی کونسل نے اگلے ہی دن 2019/8/6 کو  یہ دستاویز 125 ووٹ حق میں اور 61 ووٹ خلاف کے ساتھ منظور کر لی۔شِق 35A جو غیر کشمیریوں کو کشمیر میں جائیداد اور زمین خریدنے سے منع کرتا تھا، ختم کر دی گئی، جس کی بدولت اب دوسری ریاستوں میں موجود ہندو کشمیر میں آ کر جائداد اورزمین خرید سکیں  گے اور حکومتی نوکریوں کیلئے درخواستیں دے  سکیں گے جس سے اس مسلم اکثریتی علاقے کی آبادی اور ثقافت تبدیل ہو جائے گی۔یعنی اسی طرح جس طرح یہودی وجود نے فلسطین کو جوڑ کر کیا! بالکل جیسے نیتن یاہوکر رہا ہے، جسے امریکہ کی آشیرباد  اور وہاں سے اجازت حاصل ہے، ویسے ہی مودی بھی کررہا  ہے، جسے امریکہ کی آشیرباد  اور اجازت حاصل ہے۔۔۔یعنی مودی نے امریکی مددوحمایت سےکشمیر میں نیتن یاہو کے طریقے کو دہرایا ہے۔

 

3۔ جب ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے حالیہ فیصلے کا اعلان کیا، تو پاکستان کاردعمل  مایوس کن تھا، وہ مذمت کرنے سے آگے نہیں بڑھا ۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کیا: “پاکستان آج (پیر 2019/8/5) نئی دہلی کی جانب سےکیے گئے اعلان کی پُرزورمذمت اور مسترد کرتا ہے۔ ہندوستانی حکومت کی جانب سے کسی قسم کا یک طرفہ قدم اس کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں کر سکتا، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں میں درج ہے۔ پاکستان ان غیر قانونی اقدام کو روکنے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا” (AFP 5/8/2019)۔ ماسکو میں پاکستانی سفیر قاضی خلیل اللہ نے کہا: “پاکستانی حکومت اس وقت  کشمیر میں ہندوستان کے حالیہ اعمال کے  سفارتی، سیاسی اور قانونی جواب  تیار کرنے پر دھیان دے رہی ہے۔ایک مخصوص کمیٹی بنا دی گئی ہے جو حکومت کو اس سلسلے میں تجاویز پیش کرے گی”۔ دوسرے الفاظ میں بالکل ویسے جیسے (فلسطین میں) عباس کی حکومت اور گردونواح کے عرب ممالک کرتے ہیں، کہ وہ بغیر افواج کو حرکت میں لائے، فلسطین کی مقدس زمین  میں یہودی جرائم کے خلاف صرف مذمت اور مظاہرے کرتے ہیں۔ پاکستان نے وہی کردار ادا کیا اور بغیر فوج کو حرکت میں لائے مذمت کی! اس پر یہ کہ انھوں نے امریکہ اور اقوام ِ متحدہ سے معاملات کے حل کیلئے  رجوع کیا جبکہ وہی تو دشمن ہیں!

 

4۔ اس عمل کا ثبوت پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ٹویٹر پر2019/8/11 کی ٹویٹ سے بھی ملتا ہے جس میں ہندوستان کے عمل کو”ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم اور پھر پاکستان کو نشانہ بنانے اور نسل کشی کے ذریعے کشمیر میں آبادی  کی حالت کو تبدیل کرنے کی کوشش”  بتایا گیا ہے اور انھوں نے عالمی برادری کی مداخلت کی درخواست کی اور یہ کہ عالمی برادری ہی ہندوستان کو روکنے کی طاقت رکھتا ہے! پاکستان یہ بھول رہا ہے کہ اس کے پاس ہندوستان کو روکنے کیلئے ایک فوج موجود ہے۔۔۔اور یہ ایک مانی ہوئی بات ہے، ہندوستان نے 2019/2/26 کو کشمیری گروہوں کے کیمپوں پر فضائی حملے کا اعلان کیا اور دعوی کیا کہ “ان کیمپوں میں کئی لوگوں کو ہلاک کیا”۔ یہ اس واقعے کے بعد ہوا جب  یہ اعلان کیا گیا کہ کشمیری گروہوں نے کشمیر قابض ہندوستانی فوج کے خلاف ایک آپریشن کیا جس میں 2019/2/14 کو 41 ہندوستانی فوجیوں کو ہلاک کیاگیا تھا۔ہندوستان کے اس حملے کے اگلے روز پاکستان نے اعلان کیا کہ اس نے دو ہندوستانی ہوائی جہاز مار گرائے، ایک پائلٹ کو گرفتار کیا اور دو ہلاک ہوئے۔

یہ فوج کی ہندوستان کو روکنے اور شکست دینے کی صلاحیت  کو ظاہر کرتا ہے، لیکن پاکستانی حکومت ہندوستان کو روکنے سے متعلق کوئی قدم اٹھانے کے لیےسنجیدہ نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ امریکہ کے احکامات پورے کر رہی ہے جس نے دو جہازوں کو گرانے کے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کا کہا۔ خبروں میں آیا کہ: “امریکی سیکریٹری  خارجہ پومپیو نے ہندوستان کی جانب سے جیش محمدکے کیمپ پر حملے کے بعد  اپنے پاکستانی اور  ہندوستانی ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر بات کی۔ اُس نے ایک بیان دیا جس میں دونوں کو پر امن رہنے اور کسی بھی ایسے عمل سے بچنے کا کہاجو معاملے کو بڑھاکر خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے”۔ اس نے ہندوستان کا ساتھ دیتے ہوئے مزید کہا، “ہندوستان کے فضائی حملے دہشت گردی کے جواب میں تھے اور پاکستان سے کہا کہ وہ اپنے علاقے میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف سنجیدہ اقدام اٹھائے”(AFP, Reuters 28/2/2019)۔ یہ بیان امریکہ کا ہندوستان  کی طرف رجحان  اوراس  کے اعمال کی حمایت کو ظاہر کرتاہے ، جیسے وہ فلسطین میں کرتا ہے جہاں وہ ہمیشہ یہودی وجود کی حمایت کرتا ہے اور ان مسلمانوں کے خلاف تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو اپنے ملک کے دفاع  اور آزادی  کے لیے کام کرتے ہیں۔

بحرحال، فلسطین میں محمودعباس کی حکومت اور عرب حکومتوں کی طرح پاکستان بھی  ہمیشہ امریکہ ہی کی طرف دیکھتا ہے ، اس انتظار میں کہ وہ مسئلے حل کرنے کیلئے مداخلت کرے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ امریکہ ہندوستان کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔واشنگٹن میں پاکستانی سفیر، ماجد خان نے 2019/2/27 کو کہا، “امریکی سیکریٹری خارجہ کے بیان کو ہندوستان کی حمایت کے طور پر سمجھا اور دیکھا گیا اور اس سے ان (ہندوستانیوں) کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی ہے “، اور مزید کہا: “شاید امریکہ سے زیادہ کوئی ملک اس حالت میں نہیں کہ کوئی کردار ادا کر سکے”(AFP 28/2/2019)۔ یعنی وہ یہ مانتا ہے امریکی دفتر خارجہ کا بیان  ہندوستان کے حق میں ہے لیکن وہ پھر بھی یہ سمجھتا  ہے کہ امریکہ ہی کردار ادا کرنے کے قابل ہے!  یہ امریکی طریقہ کار ہے کہ وہ انھیں سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے چکر میں رکھتا ہے۔پاکستانی حکومت نے یہی کیا ہے، اس نے اعلان کیا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تناؤ اور خراب معاملات نہیں چاہتی اور یہ کہ وہ اقوامِ متحدہ کو نئی دہلی کے خلاف ایک باضابطہ احتجاج جمع کروائے گی، نہ زیادہ نہ کم۔ حکومت نے اعلان کیا کہ وہ قاتل ہندوستانی پائلٹ کو ہندوستان کو واپس کر دے گی اور بعد میں واقعی امن پسندی کے طور پرکہنے کے مطابق اسے واپس کر دیا۔ بعد میں جب کشمیر کا الحاق کر لیا گیا تو پاکستان نے “ہندوستان کے کشمیر کی خودمختاری کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد بند دروازوں کے پیچھے کشمیر کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلوایا۔۔۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کے مخصوص اجلاس میں کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، کہا کہ کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا جا رہا ہے اور ہم اسے ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہیں”(العربی الجدید 2019/8/16)!

 

5۔ اس موقف سے پتا چلتا ہے پاکستانی حکومت ہندوستان کو روکنے کیلئے فوجی اقدام نہیں لے گی اور اس کے خلاف کوئی سنجیدہ عمل نہیں کرے گی، جس سےہندوستان کا کشمیر کا خصوصی حیثیت ختم کرنے اور قبضہ کرنے کا فیصلہ مضبوط ہو گا۔2019/7/21 کو امریکہ دورے  میں عمران خان، جن کے ساتھ پاکستان آزمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اورآئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل فائز حمید تھے، نے ٹرمپ سے ملاقات کی جس کےدوران  ٹرمپ نے  یہ کہتے ہوئے افغانستان میں امریکہ کے لیے کردار ادا کرنے کو کہاکہ وہ امید کرتا ہے کہ پاکستان افغانستان کی 18 سالہ جنگ کو ختم کروانے میں مدد کرے گا۔عمران خان نے فورا ٹرمپ کے حکم کی بجاآوری کرتے ہوئے کہا: “میں طالبان سے ملوں گا اور پوری کوشش کروں گا کہ وہ افغان حکومت سے بات کریں”۔ پھر عمران خان نے  امریکہ کو خدمات دینے پر فخر کرتے ہوئے کہا: “پاکستانی انٹیلی جنس نے وہ معلومات فراہم کیں جس سے امریکہ نے اسامہ بن لادن کو ڈھونڈا” (رائٹرز 2019/7/22)۔

وہ امریکیوں کو یہ سب کچھ دے رہا ہے جبکہ امریکہ  پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کی حمایت کر رہا ہے!۔ جب ہندوستان نے کشمیر مسئلے کے خاتمے کا اعلان کیا، امریکی دفتر  خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا: “ہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر اور دیگر معاملات پر مذاکرات کے فروغ کی حمایت کرتے ہیں”(رائٹرز 2019/8/7)۔ امریکہ نے ہندوستان کے اقدام کی تردید نہیں کی اور یہ نہیں کہا کہ یہ کشمیر پر عالمی قراردادوں کے خلاف ہے بلکہ عمران اور اس کی حکومت کا مذاق اڑاتے ہوئے مذاکرات کی بات کی۔وہ کس مذاکرات کی بات کرتے ہیں جب ہندوستان کشمیر کے الحاق کا اعلان کر چکا ہے؟! یہ اس  بات کی جانب اشارہ ہے کہ مودی اس عمل کی امریکہ سے پہلے اجازت لے چکا تھا اورمریکہ کو پیشگی علم ہونے کا بھی اشارہ کرتا ہے کیونکہ ہندوستان امریکہ سے پوچھے بغیر ایسا قدم نہیں اٹھا سکتا۔

 

6۔ ہماری کتاب، “سیاسی مسائل۔ مقبوضہ مسلم ممالک”، جو 2004/5/2 کو شائع ہوئی، میں کشمیر کے معاملے پر یہ لکھا گیا:”لہٰذا ہندوستان اور پاکستان پر اثرانداز ہو کر امریکہ ان کے درمیان کشمیر پر ایک سمجھوتہ چاہتا ہے۔اُس نے اِس مسئلے کے حل کیلئے اپنا بنیادی نقطہ نظر تبدیل کیا ہے جہا ں وہ پہلے اس مسئلے کو عالمی بنانا چاہتا تھا لیکن اب وہ فریقین سے دوطرفہ حل چاہتاہے، تاکہ آزاد کشمیر پاکستان کا ہو جائے اور مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا ہو جائے”۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس سے مطابقت رکھتا ہے جو ہماری کتاب میں درج ہے۔ہندوستان نے یہ نیا قدم اٹھایا اور ایک ایسی حقیقت بنائی جو کشمیر پر ہندوستانی قبضے کو مضبوط کر دے۔

 

7۔ چین نے ہندوستان کے اقدام کی مذمت کی، یعنی شق 370 کے خاتمے کا فیصلہ جو “تنظیمِ نو بل” کے نام سے ہوا جس نے مقبوضہ کشمیر کو دوعلاقوں میں تقسیم کیا: جموں وکشمیراور لداخ، اور دونوں علاقوں کے انتظام کو دہلی کی وفاقی حکومت سے جوڑ دیا۔خصوصاً لداخ جو کشمیر میں ہے ، تبت کے پہاڑی میدانوں کے ساتھ  ہےجو چین کے نزدیک ہے۔ہندوستان نے اس قانون کی منظوری سے پہلے چین سے نہیں پوچھا۔”حال میں ہندوستان نےبدستور چین کی علاقائی خودمختاری کو یک طرفہ طور پر ملکی قوانین میں  تبدیلی کر کے کمزور کیا۔۔۔ اس طرح کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور وہ ایسا نہیں کر سکتا”،ہُوا چنینگ(Hua Chunying)، چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان۔ینگ کا بیان پچھلی پیر کو نئی دہلی کے اس فیصلے کے ردِعمل میں آیا کہ لداخ کو ایک واحد علاقہ قرار دیا گیا، جس میں ہندوستان کا مغربی  سرحدی علاقہ شامل ہے۔چنینگ نے زور دیا کہ چین نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی ہے کہ ہندوستان  ہندوستانی انتظامی ریاست کے نام پرسرحد کے مغربی حصے پر چینی علاقے کو شامل کر لے”(2019/8/8 کا بیان)۔

 

8۔ اس سے ہم یہ خلاصہ نکالتے ہیں:

ا۔ شق 370 کا خاتمہ اور جوڑنے کا عمل جو ابھی بھی موجود ہے، مودی کو امریکہ سے ملنے والی حمایت کی وجہ سے ہے، اس سوچ کے ساتھ کہ(کشمیر کو)ضم کر لینےسے مسلمان کشمیر کو بھول جائیں گے اور پاکستان اور ہندوستان  کے درمیان مسائل ختم ہو جائیں گے،چونکہ ابھی دونوں ہی امریکی ایماء پر ساتھ چل رہے ہیں۔امریکہ یہ بھول گیا یا ہندوستان کے ساتھ مل کر یہ بھولنا چاہتا تھا کہ کشمیر پاکستان کے اور دیگر مسلمانوں کا دل ہے، جیسے کوئی بھی مقبوضہ علاقہ۔۔۔

ب۔ کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرنے  پر پاکستانی حکومت کی حمایت یا خاموشی کا مطلب پاکستانی مسلمانوں اور ان کی افواج کی خاموشی نہیں، اور اس فوج کی ضرب ہندوستان اچھی طرح جانتا ہے اور دو ہوائی جہازوں کا گرنا ہندوستان کی تازہ یادوں میں سے ہے۔۔۔یہ فوجی کارروائی اس وقت ہوئی جب عمران کی حکومت فوج کو کشمیر آزاد کروانے کے حملے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے، اسے صرف دفاع کی اجازت ہے ، وہ بھی پابندیوں کے ساتھ!تو پھر کیسا سماں ہو گا اگر انہیں جنگ کرنےکے لیے متحرک کر دیا جائے؟ دشمن پھر صرف اپنی تباہی ہی دیکھے گا!

ج۔ چین نے ہندوستان کے عمل کی مذمت کی۔چینی وزارتِ خارجہ نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا: “ہندوستان کا فیصلہ یک طرفہ ہے اور چین کی علاقائی خودمختاری اورعالمی معاہدوں کی شدید خلاف ورزی ہے۔ بیجنگ ہندوستان کا کشمیر کی قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کا یک طرفہ فیصلہ قبول نہیں کرے گا اور یہ فیصلہ ناقابلِ قبول ہے”(انادولو 2019/8/6)۔چین یہ جانتا ہے کہ اس سے خطے میں ہندوستان کی پوزیشن مستحکم ہو گی اور ہندوستان چین سے مقابلہ کرکےاس کے برابر ایک علاقائی طاقت بن جائے گا اور امریکہ چین کی علاقائی طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے یہی کرنا چاہتا ہے۔خصوصاً  جب لداخ چین کے نزدیک تبت کے پہاڑی میدانوں کے ساتھ واقع ہےاور گو کہ اس کی آبادی چھوٹی اور 270000 کے قریب ہے لیکن مسئلہ کشمیر کا اس طرح کا حل اور لداخ کوچین سے پوچھے بغیر ہندوستانی سرحد کے ساتھ ملانے پر چین نے تنقید کی ہے۔اگر چین ان اقدامات کو قابو کر سکےاور لداخ کی سیاسی صورتِحال سے فائدہ اٹھانے کی سیاسی بصیرت پیدا کر سکے تو وہ امریکی منصوبوں کو شکست دے سکتا ہے۔بجائے اس کے کہ لداخ امریکی افواج کیلئے چین کے خلاف محاذ آرائی کا اولین اڈہ بن جائے، جیسے امریکہ چاہتا ہے، یہ ان کے لیے ایک چال بن سکتا ہے جس میں وہ پھنس جائیں اور باہر نہ نکل سکیں!

 

9۔ آخر میں، ہماری تباہ کاری مسلم دنیا میں موجود ہمارے حکمران ہیں۔ہمیں طاقتور بنانے والے محرکات کافی ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ جوہمارا فخر بحال کر سکیں اور دشمن کو ایسا سبق سکھا سکیں جوان کی قبروں تک ساتھ جائے گا! ۔ لیکن وہ حکمران جنہوں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین کو دھوکا دے کر اپنے آقاؤں، استعماری کافر ،کے آگے گھٹنے ٹیک دیے جس کے آگے وہ اللہ  رب العالمین سے زیادہ جھکتے ہیں اور وہ اپنی افواج کو ان کے مقبوضہ علاقے آزادکروانے کیلئے  دشمن سے لڑنےسے روکتے ہیں۔۔پھر یہ حکمران اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کے برآمدوں میں ذلت و رسوائی کے ساتھ کچھ ٹکڑوں کی بھیک مانگتے ہیں۔۔کہ شاید کچھ ٹکڑے  انھیں بھی مل جائیں!  لیکن ان تمام سانحوں کے بعد، فلسطین سے کشمیر اور برما تک کے مقبوضہ مسلم علاقے، روہنگیا کی زمین، مشرقی ترکستان، قفقاز، چچنیا اور گردونواح اور کریمیا، اور ہر وہ زمین جہاں مؤذن نے تکبیر بلند کی اور اسلام کے دشمنوں نے قبضہ کر لیا، اللہ کے اذن سے وہ تمام  دارالاسلام میں واپس آئیں گےاور اسلام کا جھنڈا بلند ہو گا۔انھیں وہ امام واپس لائے گا جسے الجنۃ کہا گیا، خلیفہ راشد، انھیں اسلام  کی مجاہد فوج واپس لائے گی۔۔ جو کوئی اس دنیا میں فخر سے رہنا چاہتا ہےاور آخرت میں الفردوس حاصل کرنا چاہتا ہے، تو اپنی آستین چڑھا لے اور خلافت کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام کرے، اس کام کو سچائی اور اخلاص کے ساتھ اپنے رگ و جان کا حصہ بنا لے۔

﴿إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ * لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ

“بے شک یہی بڑی کامیابی ہے ۔ ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے” (الصافات: 61-60)

17 ذوالحجۃ 1440 ہجری

2019/8/18 عیسوی

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک