الإثنين، 13 شعبان 1441| 2020/04/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

پاکستان نیوز ہیڈ لائنز17 جنوری 2020

 

- جمہوری نظام غلام حکمران پیدا کرتا ہے جو امت کے مفاد میں فیصلے نہیں کرسکتے

-بڑھتی ہوئی خودکشیوں کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام ہے

تفصیلات:

جمہوری نظام غلام حکمران پیدا کرتا ہے جو امت کے مفاد میں فیصلے نہیں کرسکتے

16جنوری 2020 کو روزنامہ ڈان میں یہ خبر شائع ہوئی کہ وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کی اس درخواست کو مسترد کردیا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں ڈینگی کی وبا کی بروقت روک تھام کے لیے بھارت سے ڈینگی مچھر کو مارنے والی دوائیں درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔  ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے وزارت تجارت کو پنجاب حکومت کے توسط سے ڈینگی مچھر کو مارنے والی دوائیں درآمد کرنے کی درخواست بھیجی تھی کیونکہ پاکستان کے پاس ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) سے تصدیق شدہ ایک بھی کمپنی نہیں ہے جو یہ دوائیں بنا کر مقامی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو ۔

 

                  جمہوری نظام صرف غلام حکمران پیدا کرتا ہے جو اپنے استعماری آقاوں کے احکامات کو پورا کرنے کے لیے فوری حرکت میں آتے ہیں اور انہیں ہر قیمت پر حاصل کرتے ہیں۔ لیکن جب بات اپنے شہریوں کی حفاظت  اور فلاح و بہبود کی ہو تو جمہوری حکمران ایسے غلاموں کی طرح ہوجاتے ہیں جواپنی عوام کی چیخ و پکار کے باوجود  اس وقت تک حرکت میں نہیں آتے جب تک ان کا آقا انہیں کوئی حکم نہ دے۔  سال 2019 میں پاکستان میں ڈینگی کے شکار افراد اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ وزارت برائے قومی صحت سروسز ، ریگولیشنز اینڈکوآرڈی نیشن نے بتایا کہ یکم دسمبر 2019 تک پاکستان میں 52485 ڈینگی بخار کے کیسز ریکارڈ کیے گئے جن میں سے 91 افراد موت کا شکار ہو گئے۔  اس حوالے سے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا کہ ایک بار اس مسئلے پر قابو پالینے کے بعد یہ  پھر اتنی شدت سے کیوں پیدا ہوا ہے۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں کوئی ادارہ ڈینگی مچھر کو مارنے والی دوا  نہیں بنا سکتا اور  آنے والے مارچ میں یہ مسئلہ خطرناک طریقے سے سر اٹھا سکتا ہے کیونکہ بھارت سے اس کی درآمد 9 اگست 2019 سے بند ہو گئی ہوئی ہے ۔  حکمرانوں کی اپنے شہریوں کے مسائل سے اس قدر بے رغبتی  ہے کہ انہوں نے پچھلے دس سال کے دوران اس کی مقامی پیداوار کے حوالے سے کوئی قدم ہی نہیں اٹھایا بلکہ  اس کی بروقت فراہمی کے لیے اپنے بدترین دشمن پر انحصار کیا۔ ابھی تو اگرچہ نے پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے 5 اگست 2019 کے فیصلے کے ردعمل میں بھارت سے تجارتی تعلقات تقریباً ختم کرلیے ہیں     جس کے بعد بھی پاکستان کے حکمرانوں کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ اس کا بندوبست دنیا کے کسی اور ملک سے بھی کرسکتے تھے  لیکن حکمران خوابِ خرگوش کے مزے لیتے رہے اور حکام کی جانب سے یاد دہانیوں کے باوجود وہ اسی روایتی سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ کیا ایٹمی پاکستان کے سائنسدان ایک مچھر کش دوا تیار نہیں کرسکتے اگر اس کے حکمران اس مسئلے پر توجہ دیتے؟

 

                  درحقیقت جمہوری نظام میں حکمران خود کو نہ تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور نہ ہی اپنے شہریوں  کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں۔ مدینہ میں اسلامی ریاست کے قیام سے لے کر خلافت کے خاتمے تک ہر دور میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ جیسے ہی خلفاء نے امت کو درپیش کوئی مسئلہ دیکھا تو اسے حل کرنے کے لیے فوری قدم اٹھایا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے،

أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالْإِمَامُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ

" آگاہ ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس امام(امیرالمؤمنین)لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا "(بخاری و مسلم)۔

خلافت خود انحصاری کی پالیسی پر عمل کرتی ہے کیونکہ وہ اپنے فیصلوں میں خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی معاملے  میں کسی پر انحصار کرنےکی پالیسی نہیں اپنا سکتی۔  لہٰذا حقیقی خودمختاری اور خود انحصاری کے لیے نبوت کے طریقے پر خلافت کا قیام ناگزیر ہے۔

 

بڑھتی ہوئی خودکشیوں کی وجہ سرمایہ دارانہ نظام ہے

سرمایہ دارانہ نظام کے باعث  آج پاکستان میں خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں خودکشیوں، طلاق و خلع کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ 10جنوری  2020 کی خبر کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے میرحسن نے ، جوایک  گدھا گاڑی  چلانے والامزدور  تھا، بچوں کی طرف سے گرم کپڑوں کی مانگ پوری نہ کر سکنے کی بنا پر خود کو آگ لگا کر خودکشی کرلی۔  اسی دن کی ایک اور خبر کے مطابق تھرپارکر سے تعلق رکھنے والی  پانچ بچوں کی ماں 28سالہ ہریاں کولہی  نے آئے روز کے گھریلو جھگڑوں سے تنگ آکرخودکشی  کرلی۔ یہی نہیں بلکہ مالی طور پر مستحکم شادی شدہ لوگ بھی ذہنی الجھنوں کاشکار ہیں اور خود کو موت کے گلے لگارہے ہیں۔  14 جنوری  2020 کی خبر کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے سول انجینئر رانا ہادی مبارک نے اپنی ڈاکٹر بیوی کو قتل  کرکے خودکشی کرلی، جس کی وجہ گھریلو ناچاقی بتائی جاتی ہے۔ اسی دن کی ایک اور خبرشائع ہوئی ہے  کہ پولیس ٹریننگ سکول  روات کے پرنسپل ابرار حسین نیکوکارہ  نے اپنے  دفتر کے اندر خود کو گولی مار کر خودکشی  کرلی۔   وہ پولیس ٹریننگ سکول کے احاطہ میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ میں اپنی بیوی اور دو بچوں سمیت رہائش پزیر تھے۔ نیکوکارہ نے اپنے خودکشی نوٹ میں واضح طور پر لکھا کہ وہ گھریلو جھگڑوں سے تنگ تھے۔ اس طرح کی خودکشی کی خبریں روزانہ کی بنیاد پر اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ وزیراعظم  عمران خان نے ایک تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ  "سکون تو صرف قبر میں ہے"۔ دوسری طرف ناکام شادیوں کی فہرست میں ہوشربا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، طلاق و خلع کے ہزاروں کیسز پاکستانی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

 

آخر کیا وجہ ہے کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی جان لے لیتا ہے  اور یوں حرام موت کو ترجیح دیتا ہے یا پھر طلاق و خلع کا سہارا لیا جاتا ہے، جبکہ اسلام کے تحت ازدواجی زندگی  اطمینان کی زندگی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الروم میں ارشاد ہے:

وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ اَنۡ خَلَقَ لَكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡكُنُوۡۤا اِلَيۡهَا وَجَعَلَ بَيۡنَكُمۡ مَّوَدَّةً وَّرَحۡمَةً ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ‏

"اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ اُن کی طرف (مائل ہوکر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں اُن کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں"(سورۃ  الروم، 30:21) ۔

 

اسی طرح ہمارے  رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے کہ  وہ اپنے اہل وعیال پر بہت مہربان تھے، ان کی دل جوئی کیاکرتے تھے، ان کو ہنساتے بھی تھے۔ جب عشاءکی نماز پڑھ کر گھر آتے  تو سونے سے قبل تھوڑی دیر ان کے ساتھ خوش گپیاں کرتے۔ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ حاکموں جیسا سلوک نہیں بلکہ دوستوں کی طرح میل جول رکھتے تھے ۔ مسلم میں جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛

فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ ، فَلَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ ، وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ ، أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ ، أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ

"تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ تمہارے بستر پر کسی کو آنے نہ دیں اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم کھانے، پینے اور پہننے کے معاملے میں ان سے اچھا سلوک کرو"۔

اس تشویشناک معاشرتی اور معاشی صورتحال کی وجہ پاکستان کے ایجنٹ حکمرانوں کی جانب سے ملک میں نافذ کردہ  کفریہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جو بڑھتی ہوئی شدید بے چینی کا باعث ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو  مادی اقدار کو دیگر تمام اقدار پر بالاتر قرار دیتا اورکرتا ہے، اور دولت کے ارتکاز کے باعث عوام  کی اکثریت کو بنیادی ضروریات تک سے محروم کر دیتا ہے۔ باجوہ- عمران حکومت کے پہلے ہی سال دس لاکھ لوگ بیروزگار اور تقریباً چالیس لاکھ لوگ خطِ غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔   اور لبرل ازم کا مغربی فلسفہ "جیسے چاہوجیو" اور "میرا جسم میری مرضی" کے نام پر مرد و عورت کے ذہنوں میں خناس بھر رہا ہے جس کے باعث معاشرے سے سکون و اطمینان مفقود  ہو کر رہ گیاہے۔

زندگی کے جس شعبے پر نظر دوڑائی جائے تو اس نظام کی ناکامی عیاں ہے ۔  اور یہ حال صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ معاشرتی طور پر ابھی بھی کچھ اسلامی اقدار کے باعث یہاں صورتحال کچھ بہتر ہے، وگر نہ مغرب اور بظاہر ترقی یافتہ معاشروں کی صورتحال اس سے کئی گنا زیادہ سنگین ہے۔ دنیا گھوم کر واپس اس جاہلیت پر آ گئی ہے جس پر یہ پہلے موجود تھی، اور اسلام کی روشنی کے بغیر یہ گھٹا ٹوپ اندھیروں میں رہے گی۔ امت مسلمہ کو خلافت کے قیام کا فرض ہر صورت میں نبھانا ہو گا تا کہ ایک پرسکون معاشرے قائم کیا جاسکے جہاں لوگ کی معاشی ضروریات کو پورا اور ان کی اخلاقی اقدار کو تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔

Last modified onبدھ, 05 فروری 2020 23:21

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک